Daily Roshni News

سورج کا مغرب سے نکلنا: قیامت کی نشانی اور کائناتی حقائق

سورج کا مغرب سے نکلنا: قیامت کی نشانی اور کائناتی حقائق

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )​احادیثِ مبارکہ کے مطابق، قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔ صدیوں تک منکرین اس پیشین گوئی پر سوال اٹھاتے رہے کہ زمین کا یہ مستحکم نظام کیسے بدل سکتا ہے؟

​آج کی جدید فلکیاتی سائنس (Astrophysics) اور فزکس یہ دعویٰ تو نہیں کرتیں کہ ایسا کب ہوگا، لیکن وہ اس بات کی مکمل تصدیق کرتی ہیں کہ کائنات کا موجودہ نظام کوئی “ناقابلِ تسخیر” چیز نہیں ہے، اور اگر یہ نظام پلٹتا ہے، تو اس کے نتائج بالکل وہی ہوں گے جو قرآن اور احادیث نے بیان کیے ہیں۔

​آئیے اسے 3 مستند سائنسی اور قرآنی حقائق کی روشنی میں سمجھتے ہیں:

​1. کائنات میں الٹی گردش (Retrograde Rotation) کی عملی مثالیں

​ہماری زمین اپنے محور پر مغرب سے مشرق کی طرف گھومتی ہے، جس سے سورج مشرق سے نکلتا ہے۔ لیکن سائنس بتاتی ہے کہ کائنات میں گردش کی یہ سمت کوئی اٹل قانون نہیں۔ ہمارے اپنے ہی نظامِ شمسی (Solar System) میں سیارہ زہرہ (Venus) اور یورینس (Uranus) کی محوری گردش زمین کے بالکل الٹ (Retrograde Rotation) ہے۔

یعنی ان دونوں سیاروں پر آج بھی سورج مغرب سے نکلتا ہے اور مشرق میں غروب ہوتا ہے! یہ سائنسی حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ جس خالق نے زہرہ کا نظام الٹا رکھا ہے، اس کے لیے زمین کی گردش کی سمت کو بدل دینا کوئی ناممکن بات نہیں۔

​2. قانونِ جمود (Inertia) اور قیامت کی ہولناک تباہی

​سائنس کا نظریہ ہے کہ اگر زمین کی گردش اچانک رک جائے یا اسے الٹی سمت میں گھما دیا جائے۔ زمین اس وقت خطِ استوا (Equator) پر تقریباً 1670 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زبردست رفتار سے گھوم رہی ہے۔

فزکس کے قانونِ جمود (Law of Inertia) کے مطابق، اگر زمین نے اچانک بریک لگائی یا سمت بدلی، تو زمین پر موجود ہر چیز، عمارتیں، پہاڑ اور سمندر اسی 1670 کلومیٹر کی رفتار سے فضا میں اڑ جائیں گے اور پانی خشکیوں پر چڑھ دوڑے گا۔ زبردست رگڑ (Friction) سے سمندروں کا پانی ابلنے لگے گا۔

​3. قرآن کی منظر کشی اور فزکس کا ملاپ

​ذرا غور کریں! قرآنِ مجید نے 1400 سال پہلے قیامت کی جو منظر کشی کی، وہ جدید فزکس کے قانونِ جمود کے نتائج سے سو فیصد مطابقت رکھتی ہے۔

پہاڑوں کے اڑنے کے بارے میں فرمایا:

“وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ”

(اور پہاڑ دھنی ہوئی رنگین روئی کی طرح اڑنے لگیں گے) – سورہ القارعۃ: 5

​اور سمندروں کے بپھرنے اور ابلنے کے بارے میں فرمایا:

“وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ”

(اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے) – سورہ التکویر: 6

​توبہ کا دروازہ بند ہونا (احادیث کی روشنی میں)

​سورج کا مغرب سے نکلنا دراصل انسانوں کی مہلت ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس حوالے سے نبی کریم ﷺ کی دو انتہائی اہم اور واضح احادیث ملاحظہ فرمائیں:

​پہلی حدیث (مہلت کا اختتام): حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔ پس جب وہ مغرب سے طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے، تو روئے زمین پر موجود سب لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ وہ وقت ہوگا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو۔” (صحیح بخاری: 4635، صحیح مسلم: 157)

​دوسری حدیث (توبہ کی آخری حد): حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“جس شخص نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔” (صحیح مسلم: 2703)

​ان احادیث کی تائید قرآنِ مجید کی اس وارننگ سے بھی ہوتی ہے:

“يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ”

(جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں گی، تو کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو) – سورہ الانعام: 158

تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں “بعض نشانیوں” سے مراد سورج کا مغرب سے نکلنا ہی ہے۔

​حاصلِ کلام

​سائنس یہ بتاتی ہے کہ کائنات میں گردش کے مختلف نظام ممکن ہیں اور اگر زمین کا نظام رکا تو ہولناک تباہی آئے گی۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ جب چاہے ان قوانین کو بدل سکتا ہے۔ عقلمند وہ ہے جو سورج کے مغرب سے نکلنے اور توبہ کا دروازہ بند ہونے سے پہلے، اپنے رب کے حضور سچی توبہ کر لے۔

​تحقیق و پیش کش: طارق اقبال سوہدروی

(سائنس قرآن کے حضور میں)

​حوالہ جات (References

​القرآن الکریم: سورہ الانعام (158)، سورہ القارعۃ (5)، سورہ التکویر (6)۔

​الاحادیث: صحیح بخاری (حدیث: 4635)، صحیح مسلم (احادیث: 157، 2703)۔

​فلکیات (Astronomy): Retrograde rotation of Venus and Uranus (NASA Planetary Fact Sheets).

​فزکس: Law of Inertia (Newton’s First Law of Motion) and catastrophic effects of sudden planetary deceleration.

​#سورج_کا_مغرب_سے_نکلنا #قیامت_کی_نشانیاں #توبہ_کا_دروازہ #اسلام_اور_سائنس #قرآن_کا_معجزہ #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #طارق_اقبال_سوہدروی #SunRisingFromTheWest #ScienceAndIslam #LawOfInertia #QuranicTruth

​🖼️ فی

Loading