لفظ ” تعریف “
تحریر ۔۔۔۔۔۔ سید اسلم شاہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔ تحریر ۔۔۔ سید اسلم شاہ)آج کا موضوع ہے کہ لفظ ” تعریف ” کی تعریف کی جائے تعریف کا ایک معانی ستائش، صفت ، خوبی ، وصف ، ہے اور دوسرا جاننا ، عرفان حاصل کرنا ہے ایک زات ایسی ہے جس کا جاننا ہی اس کی تعریف ہے یعنی فائنڈ کرنا ہی ڈیفائن کرنا ہے آپ جتنا اس کو جانتے جاؤ گے اس کی تعریف کرتے جاؤ گے نہ اس کی زات کا اختتام ہے اور نہ اس کی تعریف کا اختتام ہے ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو زبانوں ۔ کائنات ، اور ریاضی سے ہوتا ہو زمان و مکاں کے تخیلات کوگھیرے ہوئے ہے اسے کہتے ہیں الحمدللہ رب العلمین یہ تمام سورتوں سے الگ صورت رکھتی ہے ۔۔۔ اس کی بسم اللہ اس کے متن میں گنی جاتی ہے ۔۔۔ کیونکہ اس کا نور اس وقت مکمل ہوتا ہے جب دوسری سورت بقرہ کی آخری دو آیات اس میں شامل ہوتی ہیں یہ فقیر کا کہنا نہیں ہے یہ کائنات کے اس پیغمبر کا کہنا ہے جس نے نبوت کے خاتمہ پر مہر لگائی ہے ۔۔۔ انکا نام نامی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے ۔۔۔۔ کیونکہ ماننا سننے سے تعلق رکھتا ہے ۔۔۔۔۔ بقرہ کی آخری دو آیات کا ایک بڑا پیغام ہے سنو اورمانو ۔۔۔ پڑھو میں ۔۔ نو کا لفظ نہیں آتا جب کہ سنو اور مانو میں نو کا لفظ آتا ہے ۔۔۔۔ حضرت بلا ل رضی اللہ عنہ اللہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہکلاتے تھے کیونکہ ارتھ ، ارض اور عرض ، اور اٹھ ہکلاتے ہوئے بولنے میں ایک جیسی آواز نکالتے ہین ورنہ حبشہ کے چار حروف کہاں اور مدینہ کے پانچ کہاں ۔۔ بلال سنتے تھے اور مانتے تھے ۔۔۔۔۔ سننے اور ماننے میں نور ہے ۔۔ س ن ن ے ۔۔ م ا ن ن ے۔۔۔۔۔ اب فقیر ایک حدیث کا نمبر بیان کرنا چاہتا ہے یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے اور اس کے نمبر میں دو مرتبہ سات کا عدد آتا ہے 1877 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حدیث دیکھیں ۔۔۔۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا کہ ایک دن جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آواز بڑے زور کی سنی دروازہ کھلنے کی اور اپنا سر اٹھایا ۔ اور جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ ایک دروازہ ہے آسمان کا کہ آج کھلا ہے اور کھبی نہیں کھلا تھا مگر آج کے دن پھر اس سے ایک فرشتہ اترا ۔ اور جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ فرشتہ جو زمین پر اترا ہے کبھی نہیں اترا سوائے آج کے ۔ اور اس نے سلام کیا اور کہا خوشخبری ہو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دو نوروں کی کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عنایت ہوئے ہیں اور نبیوں میں سے کسی نبی کو نہیں ملے ، سوائے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ، ایک سورۂ فاتحہ ہے اور دوسرے سورۂ بقرہ کا خاتمہ ۔ کوئی حرف اس میں سے تم نہ پڑھو گے کہ اس کی مانگی ہوئی چیز تمہیں نہ ملے ۔ لیکن آج کے موضوع سے اس بات کا کیا تعلق ہے ۔۔ محمد کا لفظ حمد سے ہے اور حمد ۔۔ مد سے ہے ۔۔ اور مد ۔۔ م سے ہے اور میم الف لام میم کی انتہا ہے ۔۔۔۔ اللہ کے الف سے لے کر محمد کے ۔۔ م ۔۔ تک کا سفر ایک سے نو تک کا سفر ہے ۔۔۔ کیونکہ الف لام میم میں الف سب سے پہلے اور میم انتہا پر ہے الف لام میم کا نواں حرف میم ہے ۔۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کے موضوع سے ان باتوں کا کیا تعلق ہے ۔۔۔۔ رات کے دس بج گئے ہیں درمیان کا سارا وقت فکر معاش میں تھا ۔۔۔۔۔ جو بات کرنی تھی وہ نہ ہوسکی ۔۔۔ ساتواں مہینہ چل رہا ہے دوسری جانب چوتھا مہینہ ہے لوگ کہتے ہیں ایک کی جب تین ہوگی تو دوسرے کی 27 ہوگی آب کسی بھی مہینے میں آسمان پر جا سکتے تھے لیکن اللہ ہر شے حساب کے مطابق کرتا ہے سات آسمانوں پر ساتویں مہینے میں ستائیس تاریخ کو بلانے میں کیا حکمت ہے اور ستائس اور ستائش کے الفاظ ایک جیسے کیوں ہیں ہمیں چاہیئے کہ ہم یا تو سورت الاعراف سے رجوع کریں یا پھر الاسرا سے رجوع کریں ۔۔۔۔ ایک 7 نمبر کی سورت ہے اور دوسری 17 ۔۔۔ الاسرا ۔۔۔۔۔۔ رات میں چلنے کو أَسْرَي اللَّيْلَ ۔۔ کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ أَسَرُّ ایسے رازدار کو کہتے جو ہر معاملہ جانتا ہو ۔۔۔۔۔ ۔۔أَسَرُّ خاندان کو کہتے ہیں مضبوط زرہ کو بھی أَسَرُّ کہتے ہیں ۔۔ جب کسی پر رات کے سفرمیں بہت سے راز کھولے جائیں تو اسکے خاندان کو بہت مضبوط زرہ درکار ہوتی ہے ۔۔۔ یہ بات فقیر کئی بار کہہ چکا ہے کہ اسماعیل کی ایڑیوں کا پانی غدیر خم سے ہوکر حوض کوثر میں گرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ الاعراف ان بلندیوں کو کہتے ہیں جو درجہ بدرجہ ملتی ہیں الاعراف ساتویں سورت ہے اور رات کا رازوں بھرا سفر 17 سورت ہے اس کی پہلی آیت کچھ اس طرح ہے ۔۔۔۔ سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ۔۔۔ سبحان کا تعلق تعریف کے ساتھ ہے اب معلوم ہوا کے 27 رجب کا تعلق 17 سورت کے پہلے لفظ سے بہت تعلق ہے کیونکہ ستائش اور ستائس ہم صوتی الفاظ ہیں اور 27 رجب کا زکر الاسرا کے پہلے لفظ میں ہے ۔ جب بندہ صحرا میں گم ہوجاتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ بل کھاتی ہوئی بلندیوں پر چڑھ کر اندازہ کرے کہ وہ کدھر ہے مگر جب وہ اوپر پہنچتا ہے اسے بل کھاتے ہوئے ریت کے پہاڑوں کا ایک دور تک سلسلہ ملتا ہے ۔۔۔ یہ سب اس کی لامتناہی تعریف کا ایک سلسلہ ہے ۔۔ ہوا انتہائی خوبصورت فنکار ہے اور ریت اس کا میڈیم ہے اور وہ صحرا میں بل کھاتی ہوئی تعریف لکھتی ہے ۔۔ دنیا کی ساری خوبصورت چیزوں میں curve پائے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ،مسجد الحرام سے مسجد الاقصی تک کے سفر میں بہت سے curve آتے ہیں ۔ جب تک الحمد کی سات آیات کے ساتھ بقرہ کی آخری دوآیات نہ ملائیں ۔۔ آسمان کا سفر نہیں ہوتا اسی لئے آسمان پر جانے کا راستہ الاقصی سے ہو کرجاتا ہے ۔۔۔ تاکہ نور مکمل ہو ۔۔۔۔ صحیح حدیث کے نمبر 1877 کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے جس کا مطلب ہے آسمان پرجانے کے لئے اقصی سے گزرنا پڑتا ہے نماز کا تعلق عروج سے ہے نماز بندے کی معراج ہے اور نمازکا یہ عروج معراج کی رات کی عطا ہے انگور کی بیل لگانا انتہائی برکت کا فعل ہے اور انگور کی بیل کاٹنا انتہائی خطرناک کام ہے کیونکہ یہ بیل بل کھاتی ہوئی بڑھتی ہے curve لیتی ہوئی چلتی ہے آسمان پر جانے کا راستہ ایک بل کھانا ہوا راستہ ہے جسے spiral کہتے ہیں اسی لئے تمام کہکشائیں سپارئرل شکل میں ہیں ٹو سیون کو 27 کہتے ہیں جو راستہ آسمان کی طرف جائے اسے ٹو سیون کہتے ہیں ۔۔ یعنی 27 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستائش ، ستائیس ۔۔۔۔۔۔۔ دو اور سات ۔۔۔۔۔۔۔ دوست ۔۔۔۔
![]()

