Daily Roshni News

لکھنوی کیلے والے کی تہذیبی علمبردار کو مبارکباد

لکھنوی کیلے والے کی تہذیبی علمبردار کو مبارکباد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )عارفہ سیدہ صاحبہ ضیا الحق کو ’’میرے محبوب‘‘ کہا کرتی ہیں۔ اِسی طرح اُن کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میں اُنھیں ’’میری محبوب‘‘ کہہ سکتا ہوں۔ آپ کی شخصیات گوناگوں خصوصیات کا امتزاج ہے۔ آپ ایک ایسی تہذیب کی پرستار ہیں جو چند رسالوں، قصوں اور کتابوں کے سوا کہیں بھی موجود نہیں۔ اُنھیں ایک بار کسی کیلے والے نے شدید دھچکا پہنچایا تو ’’اپنی‘‘ لکھنوی تہذیب کو یاد کرنے لگیں۔ اُنھیں لکھنؤ کا مہذب کیلے والا یاد آیا جس نے مخصوص انداز میں کیلا بیچنے سے انکار کیا تھا۔

اجنبیت بہت سی نفرتوں کی اساس ہے۔ کہیں پر قصہ پڑھا تھا کہ گوروں کا ایک مسلح ٹولا افریقہ میں کسی جزیرے پر اُترا تو مقامی لوگ بہت پُرجوش ہوئے اور استقبال کرنے کو تیزی سے آگے بڑھے۔ گورے ڈر گئے اور فائر کر دیا۔ مقامی لوگوں کی محبت کا انداز اجنبی تھا۔ پاکستان میں جیسے مرد گلے ملتے اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلتے ہیں، کسی غیر ملکی کی نظر میں شاید یہ ہم جنس پرستی کی علامت ہو۔ عارفہ سیدہ صاحبہ اِس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اداکار طلعت حسین، انور مقصود، ضیا محی الدین وغیرہ کی طرح اُنھوں نے بھی تہذیب اور شائستگی کو صرف اُردو سے جوڑ رکھا ہے۔

اُنھیں معلوم نہیں کہ ہم میں سے کئی لوگ اُن سے زیادہ مہذب ہیں، اور ہماری اردو بھی پنجاب پر مرکوز ہے جو خصوصاً پنجابی بیویوں کی بول چال میں جھلکتی ہے۔ مثلاً میں نے اپنی بیوی کے کچھ الفاظ منتخب کیے ہیں: ایک بار وہ میری کسی فیس بک فرینڈ کے بارے میں کہنے لگی: ’’یہ بڑی پاڈی ہے۔‘‘ پاڈا ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اپنی عمر سے بڑھ کر سیانا بنتا ہو۔ ’’نہر و نہر‘‘ تو وہ اکثر راستہ بتاتے ہوئے بول جاتی ہے۔ کچھ روز پہلے بارش ہو رہی تھی اور کھڑکی تھوڑی کھلی رہ گئی تو بولی: ’’یہاں سے پھنڈ آئے گی۔‘‘ لکھنوی کیلے والے کو پھنڈ کا متبادل بتانا پڑے گا۔ بوچھاڑ اِس کا متبادل نہیں۔ اِسی طرح اپنے لان میں سے لوگوں کے گزرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگی: ’’یہ تو لانگھا بن گیا ہے۔‘‘ گزرگاہ اِس کا متبادل نہیں۔ گزرگاہ کوئی خاص سڑک یا راستے کا تاثر دیتی ہے۔ لانگھا محض گزر جانا ہے۔ پنجابیوں کا بیک وقت اردو اور پنجابی میں اظہار اُن کے سماجی تجربے اور لسانی شعور کو زیادہ گہرا اور زور دار بناتا ہے۔

عارفہ سید کو حکومت نے تمغۂ امتیاز سے نوازا ہے۔ یہ پوسٹ اُن کو مبارکباد دینے کے لیے ہے۔ اِن شاء اللہ وہ ستارۂ امتیاز، تمغۂ حسن کارکردگی اور پھر نشانِ پاکستان بھی حاصل کریں گی۔ یہ مت پوچھیں کہ اُنھوں نے نوکری اور تقاریر کے سوا کیا کیا ہے؟ اُنھوں نے شاید کوئی کتاب بھی نہ لکھی ہو۔

Loading