نظر کی حفاظت صرف مرد کے لیے ہی نہیں عورت کے لیے بھی بےحد ضروری ہے۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اب چونکہ سوشل میڈیا ہر گھر میں موجود ہے۔ خواتین کی اکثریت گھروں میں بیٹھ کر انسٹاگرام یا فیس بک اسکرالنگ میں مصروف رہتی ہیں۔ اسی دورانیے میں بہت سے ایسی ریلز گزرتی ہیں نظروں سے جن میں وجاہت سے بھر پور مرد ڈانس کر رہے ہوتے ہیں، کسی گانے پر لپسنگ، یا کوئی تعلیمی ویڈیو بھی ہوسکتی ہے۔ نیز کچھ علماء کرام بھی شکل و صورت کے اعتبار سے خوش شکل ہوتے ہیں۔
خواتین ان کو سنتی ہیں دیکھتی ہیں اور چونکہ خواتین نے صرف بڑوں کی زبانی مردوں کو نظروں کی حفاظت کی نصیحت کرتے سنا ہے تو لاشعوری طور پر ان کی نظر اپنے نفس پر سے ہٹ جاتی ہے کہ وہ کیا کیا دیکھنے پر اکسا رہا ہے۔۔۔۔۔
ابھی کچھ دنوں پہلے ایک ائیر فورس کے آفیسر صاحب کا جو حال کیا گیا وہ سب کے سامنے ہی ہے یہ بات یہاں تک کیسے پہنچی۔۔۔۔ آخر ہر کچھ عرصے بات کوئی نہ کوئی مرد، خواتین کا نیشنل کرش کیسے بن جاتا یے کیا یہ محض مذاق میں اڑا دینے والی بات ہے؟ دیکھیں! جب نظروں نے خوب سے خوب تر دیکھنے کی عادت بنا لی ہو۔۔۔۔۔ تو یہ سب نارمل لگنے لگتا یے۔۔۔۔
شروع شروع میں خواتین کے روز مرہ کی زندگی میں اس سے اتنا فرق نہیں پڑتا مگر اندرونی دنیا میں شدید توڑ پھوڑ شروع ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔
میں بہت سے کیسسز دیکھ رہی ہوں جن میں خواتین یہ مسئلہ لے کر آتی ہیں کہ وہ فلاں انسان، فلاں ڈاکٹر یا عالم میرے زہن میں گھومتے رہتے ہیں۔۔۔۔
میں اپنے شوہر کے ساتھ بھی ہوں تو ان میں مجھے وہ نظر آتے ہیں۔۔۔ میں تنہائی میں اکثر اپنے شوہر کی بجائے ان کے تخیل سے مخاطب ہوتی ہوں۔۔۔۔
نفس ذہن میں چپکے سے وہ دروازہ کھول دیتا یے جہاں سے روزانہ خیالوں کا یہ سفر شروع ہوتا یے اور گناہ گار کر دینے والے مناظر دیکھا کر پلٹتا ہے۔۔۔۔۔
ایسا نہیں ہے کہ یہ سب مردوں کے ساتھ نہیں ہوتا بلکل ان کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔۔۔ لیکن آپ غور کریں تو ہر کوئی یہ بات کرتا نظر آتا ہے کہ مرد کو نظر کی حفاظت کرنی چاہیے اور ہر حال میں کرنی بھی چاہیے اس میں کوئی دو رائے نہیں۔۔۔۔ لیکن خواتین اکثر اس نصیحت سے محروم رہ جاتی ہیں۔۔۔۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی یے کہ یہ وہ خوفیہ راستہ ہے جس پر عورت دبے پاوں چپ چاپ چلنے لگ جاتی ہے اور اسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ روز اپنے شوہر کی بجائے اپنے آپ کو کسی اور کے پہلو میں بیٹھا لیتی یے۔۔۔۔۔ کیوں کہ وہ حقیقی دنیا میں عملی طور پر کچھ غلط نہیں کر رہی ہوتی تو اسے خیالات کی خیانت، خیانت ہی نہیں لگتی۔۔۔۔۔۔
اور وہ خیانت جو ایمان داری کی آڑ میں کی جائے سب سے نحس خیانت ہوتی ہے۔۔۔۔ اگر اس سے چھٹکارا حاصل نہ کیا جائے تو کبھی نا کبھی اپنا رنگ ضرور دیکھاتی ہے۔۔۔۔۔ کبھی کبھی بات خیالات سے بہت آگے نکل جاتی ہے۔۔۔۔ اگر گھر کا ماحول بہت پابندی والا یے یا پھر بلکل آزاد ہے دونوں جگہوں پر یہ مسئلہ اکثر بڑھ کر شدید نوعیت اختیار کر جاتا یے۔۔۔۔
مجھے ترس آتا یے ایسی خواتین پر جو سامنے بیٹھ کر آنسو بہاتی ہیں کہ نہ جانے مجھے کیا ہوا یے۔۔۔۔ شوہر بہت اچھا یے مگر اب ان کے ساتھ دل نہیں لگتا۔۔۔۔ مجھے اس ( کوئی دوسرا) کے ساتھ ہی بات کرنی یے۔۔۔۔ میم آپ بتائیں کیا اس طرح سوچنے سے کوئی گناہ ملتا یے؟
میم کیا میں بچوں کو چھوڑ سکتی ہوں کیوں کہ وہ نہیں رکھے گا۔۔۔۔
آپ بتائیں شادی کے بعد عورت کے پاس دوبارہ محبت کرنے کا راستہ موجود کیوں نہیں یے۔۔۔۔۔
کچھ کا معاملہ یہاں تک نہیں پہنچتا مگر ان خیالات کا چکر انہیں کچھ عرصے بات شدید پچھتاوے میں ڈال دیتا یے۔ وہ اس پچھتاوے سے نکل نہیں پاتی خود کو روگ لگا لیتی ہیں کہ میں نے ایسا سوچا ہی کیوں؟ کچھ عرصے بعد یہ پچھتاوا ڈپریشن میں تبدیل ہوجاتا یے۔
بحر صورت یہ معاملہ ایسا یے کہ کسی نے کسی طور پر بیرونی یا اندرونی ایمانی تباہی ضرور ہی لاتا یے۔۔۔۔
میری اپنی باایمان سلجھی ہوئی سمجھدار بہنوں سے یہی گزارش ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرئیے، آنکھوں کی حفاظت کی زمہ داری آپ پر بھی عائد ہوتی ہے۔۔۔۔۔
اپنے اوپر کڑی نظر رکھئیے۔۔۔ اپنا احتساب کرتی رہیے۔۔۔
کیوں کہ یہ جو ذہن کا خوفیہ راستہ ہے نا اس کے دوسری طرف دشمن کا علاقہ شروع ہوجاتا یے۔۔۔۔۔
وہ دشمن جو ذہنی پاکیزگی، اخلاص و روحانیت کو بلکل پسند نہیں کرتا۔۔۔۔۔
نوٹ: دینی رجحان رکھنے والی بچیاں اس ضمن میں خاص احتیاط و احتساب کریں۔۔۔۔ کسی جوان عالم کی فوٹوز کو دیکھ کر انہیں اپنے دماغ پر حاوی نہ کریں۔ اس کی دیوانی، اس کی دیوانی، وہ جانم وہ سلطانم، وہ شہزداے فلاں ڈھمکاں۔۔۔۔ ایسے القابات جوان علماء کے لیے ہرگز استعمال نہ کریں۔۔۔۔ کوئی کتنا ہی نیکو کار ہو آپ کے لیے نا محرم ہی ہے۔۔۔ کسی کے ظاہری حلیے کو دیکھ کر اسے اپنے دل کی مسند پر نہ بیٹھا لیں۔۔۔۔ کوئی کتنا ہی بڑے بڑے حوالے دے کہ میں فلاں کا مرید خاص ہوں، میں نے فلاں سے ڈائریکٹ فیض حاصل کیا ہے میرے پاس یہ تجلیات ہیں۔۔۔۔
خدارا! میری بچیوں ان باتوں کو نہ ذہن پر حاوی کریں آپ۔۔۔۔۔یہ جذبات اکثر انسان کو بیچ میدان میں لا کر مارتے ہیں۔۔۔۔ بہت کام کی بچیاں اور عالمات ان جذبات نے ہڑپ کر لیں۔۔۔۔ میری اس بات کو ایک ہمدرد کی نصیحت سمجھ لیں، غصہ نہ کریں۔۔۔ جب آتی ہیں لٹی پٹی لڑکیاں ذہنی مریض بن کر تو بہت دکھ ہوتا ہے، بہت بہترین حافظہ قرآن خواتین اور بہت بہترین عالمات بہت خاموشی سے اس خوفیہ راستے کی مسافر بن جاتی ہیں۔۔۔۔
اسی لیے میں کہتی ہوں مرد ہوں یا عورتیں دینی رجحان رکھنے والوں پر تزکیہ کی زمہ داری ڈبل ہوجاتی ہے۔۔۔۔ کیوں کہ ایک تو یہ دین کے نمائندے بنے ہوئے ہوتے ہیں اور دوسرا کہیں نا کہیں اپنے ظاہری حلیے اور ارد گرد سے ملنے والی ستائش انہیں خود پسندی میں مبتلا کر دیتی ہے پھر انسان اپنے اوپر کڑی نظر نہیں رکھ پاتا۔۔۔۔۔ اور ابلیس یہیں سے اپنا گیم آن کرتا ہے
یاد رکھیں! باپردہ دینی رجحان رکھنے والی لڑکی پر ابلیس دین کے لبادے میں لپیٹ کر وار کرتا ہے۔۔۔۔ ہر انسان کے لیے ابلیس کے پاس ایک الگ کسٹمائزڈ پلین موجود ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اس سے بچنے کے لیے
اپنے نفس کو ایسی غصیلی کڑی نگاہ سے دیکھا کریں جیسے کسی ڈاکو کو دیکھتے ہیں، نفس سب سے بڑا ڈاکو ہے۔۔۔۔ اور یہ اتنا بڑا اور خطرناک ڈاکو ہے کہ جو باپردہ خواتین میرا جسم میری مرضی کے نعرے کی قائل نہیں ہیں یہ ان کو نظر کی آزادی سیکھاتا یے۔۔۔۔ جو بغیر کسی ظاہری بغاوت کے انسان کو آزاد ہونا سیکھاتی ہے، زہنی طور پر شرعی حدود سے آزادی، یہ کسی کی پکڑ میں نہیں آتی۔۔۔۔
اس وقت نگاہوں کی حفاظت ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔۔۔ اگر نگاہ بہک گئی تو کردار کو گرا کر ہی چھوڑتی ہے۔۔۔۔۔ اور اگر کردار گر جائے تو دینی و دنیاوی پستی انسان کا مقدر بن جاتی یے۔۔۔۔۔
وما علینا الاالبلاغ
فیض عالم