Daily Roshni News

عنوان: باورچی خانہ کا حُسن

عنوان: باورچی خانہ کا حُسن

آج سے تقریبا تیس سال پیچھے کو قدم رکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ گھر کے صحن میں کوئی تین سے چار فٹ کی دو طرفہ نئی دیواریں کھڑی کی گئی ہیں اور ایک طرف پہلے سے موجود بیرونی گلی کی دیوار ہے تو دوسری طرف ایک اور دیوار۔ دیواروں ( کچی مٹی سے بنی) کا مجموعہ
“باورچی خانہ” ہے۔

ماں جی کے ہاتھ سے اس پہ ساون بھادوں کے مہینے کی آمد سے پہلے گاچی کا لیپ تو نہری پانی سے لائی گئی مٹی جو اپنی بھینی بھینی خوشبو میں اپنا ثانی نہیں رکھتی کا باہمی ملاپ اس باورچی خانہ کے حُسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔

باورچی خانہ کا کل رقبہ عمومی طور پے دس سے پندرہ مربع فٹ ہوتا تھا تاکہ دو سے چار افراد بیک وقت پاس بیٹھ کر تازہ کھانوں سے لطف اندوز بھی ہو سکیں۔ماں جی کے پاس بیٹھے کا عمل ہی اصل میں “تعلیم و تربیت” ہوا کرتا تھا۔

باورچی خانہ کی چار دیواری پہ بنے بیل بوٹے اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔پھر ان پہ الگ طرح کا نیلا رنگ اس کو آسماں سے ملاتا ہے۔جیسے کوئی پری باورچی خانہ کی بدولت سب کو جوڑنے کی سعی کر رہی ہے۔ باورچی خانہ کی دیوار کے کونوں پہ تھوڑے گہرے گڑھے یا برتن کی شکل کے خانے بنائے جاتے تھے جنہیں ٹوکری، آلا وغیرہ بھی کہتے تھے تاکہ اس میں ہرے مصالحہ جات والی سبزیاں رکھی جا سکیں جیسے کہ ہری مرچ ،دھنیہ،لال مرچ،لیموں اور پیاز و تھوم وغیرہ تو کبھی کبھی دودھ والا برتن بھی اس میں رکھ لیا جاتا تھا تاکہ چوہوں کے فوری حملہ سے محفوظ رکھا جا سکے تو رات کو بلیوں کی آمد سے بھی محفوظ رہ سکیں ان پہ اکثر تانبے کی پرات یا کوئی اور برتن الٹا کر اوپر اینٹ رکھ دی جاتی تھی۔

اس کے علاوہ گلی کی بیرونی دیوار میں باورچی خانہ والی طرف الماری بنائی جاتی تھی جس میں ضروری استعمال کے برتنوں کے ساتھ ساتھ ساگ کاٹنے والا آلہ دات یا داتر رکھا جاتا، پھکنی، مدھانی، چمٹا، لکڑی کی بنی ڈوئی، ہرے مصالحہ جات کو باریک کرنے کے کُنڈی ڈنڈا تو کہیں تانبے اور سٹیل کے برتن محفوظ کیے جاتے۔

باورچی خانہ میں ہی مٹی کا چولہا رکھا ہوتا تھا جس پہ کھانا بنانے کے لیے بھی مٹی کی ہنڈیا استعمال ہوتی تھی اس ہنڈیا میں بنے کھانوں کا ذائقہ ایک الگ ہی ذائقہ اور مٹھاس رکھتا تھا مگر اب تو کھانا بنانے کے لیے پریشر کُکر اور بہت سے جدید آلات و ذرائع ہیں۔

ماں جی کا صبح کے وقت ناشتہ کی تیاری کا عمل تو سب بچوں کی نفسیات کے مطابق پراٹھے بل دار ( وَٹ والے) تو سادہ پھر چائے کا اہتمام تو ساتھ رس وغیرہ کو پیش کرنا۔کبھی کبھی چائے میں روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈال کر دینا تو پھر کبھی ان ٹکڑوں کو سادہ مگر گھی اور شکر/ چینی کے ساتھ چُوری بنا کر دینا اور سکول کے لیے خوشی کے ساتھ الوداع کرنا۔ تو والد صاحب کے لیے ابا جی پراٹھا کی تیاری الگ خوشی سمیٹے ہوتی۔

یقین جانئے وقت کا پہیہ کتنی تیزی سے گھومتا ہے کبھی کبھی اک پل میں صدیاں لمحات بن کر گزر جاتی ہیں تو پھر کبھی لمحات صدیاں بن جاتے ہیں۔ “ماں جی کی محبت گھر کا تاج ہے تو باورچی خانہ کا حُسن اور ہمارے دلوں کی دھڑکن مگر وقت کے پہیے نے کتنی تیزی کے ساتھ ان کے چہرے کی جھریاں، ہاتھوں پہ سلوٹیں جسم میں سکت کو کم کر دیا ہے تو ان کے سیاہ بالوں میں اب چاندنی کا راج ہے کبھی کبھی مہندی کا رنگ بالوں کو پھر سے جوانی میں تبدیل کر دیتا ہے”۔

ماں جی کے ظرف میں کبھی بھی کمی نا آئی وہ آج بھی خود کو دان کیے بیٹھی ہیں تاکہ میرا ہر بچہ کامیاب و کامران ٹھہرے اور یوں ایک کامیاب نسل اس سماج کو ملے جو صبر و تحمل، دوسروں کے لیے ہمدردی تو رزق حلال کمانے والے ہوں تو وہ اپنی ہمجولیوں کے بچوں کے لیے بھی یہی جذبہ رکھتی ہیں اور سب کے لیے دعا کرتی ہیں، ابھی چند دن قبل کی بات ہے میں نے کہا “ماں جی دعا کیا کریں کہ اللہ خیر کرے” تو فٹ بولی
” پُت رب سوہنا سب نوں جھولیاں بھر بھر دیوے ” یعنی
“اللہ پاک سب کو اپنے خزانوں سے زیادہ سے زیادہ عطا کرے”۔

اپنا تو کام ہے بے لوث بانٹنا
محبت چراغ روشنی و امیدِ نو
عظیم

میرا احساس ہے کہ اب ہم باورچی خانہ کو کچن۔۔۔۔دو سے دس مرلہ میں بدل چکے ہیں تو لکڑی و پتھر کی کاریگری سے اسے خوب صورت بھی بنا چکے ہیں مگر ہمارے دل اور ظرف کسی حد تک ملی میٹرز میں بدلتے جا رہے ہیں مگر اب بھی ماؤوں کا ظرف اس سے کہیں بڑھ کر ہے اور ہمارا ظرف اور دوسروں کو خوشیاں اور آسانیاں دینے کا عمل کہاں ہے؟
“ہمیں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے”۔

محمد عظیم

Loading