لاجواب شاعر اور دیرینہ دوست جناب شاہد ماکلی
تحریر و انتخاب ۔۔۔ افضل خان
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )لاجواب شاعر اور دیرینہ دوست جناب شاہد ماکلی کو ان کے نئے شعری مجموعے ” تجاذب” کی اشاعت پر ڈھیروں مبارک باد۔ شاہد ماکلی کا آہنگ اور اسلوب معاصر سخن وراں سے نہایت منفرد اور جداگانہ ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں جس طرح طبیعیاتی اور غیر طبیعیاتی عوامل کو بھرپور ادبی رچاؤ کے ساتھ منطبق کیا ہے، شاید اردو ادب میں اس کی کوئ دوسری مثال ہی موجود نہ ہو۔ اور یہی بات انھیں نہ صرف اپنے ہم عصراں سے بلکہ متقدمین سے بھی ممتاز بناتی ہے۔ شاہد ماکلی کے تخیل کا انسان محض اس زمین ہی پر موجود نہیں بلکہ کائنات میں موجود تمام سیارگاں پر سانس لیتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاہد ماکلی نے کائنات میں موجود ہر ذرے کے اندر ازخود موجود ایک کائنات کی سیر کی ہے اور اپنی شاعری کے ذریعے دوسرے انسانوں کو اس کی خبر دے رہے ہیں یا پھر ان کائناتوں کی تصاویر بنانے کی کوشش میں مگن ہیں۔ شاہد ماکلی کے ہاں محبت کا تصور بھی عام تصورات سے نہایت مختلف ہے۔ ان کے نزدیک محبت بھی اسی کشش کا نام ہے جو اجرام فلکی کے مابین موجود ہونے کی وجہ سے کائنات کا یہ نظام قائم و دائم ہے۔ عین اسی طرح محبت بھی اسی کشش کے تابع ہے جو احساس اور روح کے نادیدہ تاروں کو بدن کے کھونٹے سے باندھے رکھتی ہے۔ گویا ان کے ہاں محبت بھی کسی بے ترتیبی یا لا ابالی پن کا نہیں بلکہ ایک نظم کا نام ہے۔
شاہد ماکلی کے نزدیک انسانی فکر ایک لافانی چیز ہے لیکن غیر مرئی بالکل نہیں۔ وہ تخیل کی آوارگی کو ایسا براق تصور کرتے ہیں جس کی رفتار روشنی یا کرن سے زیادہ ہے۔ اور اگر یہ براق چاہے تو اپنے سوار کو پلک جھپکنے جتنے وقت میں کائنات کے ایک ایک گوشے سے متعارف کرا سکتا ہے بشرطیکہ سوار اس کی اہلیت رکھتا ہو۔ شاہد ماکلی زمان و مکاں کی ترتیب اور قید سے ماورا ہو کر اس حدود کو پھلانگنا چاہتے ہیں ۔ کہ یہ قید محض جسم کے لیے ممکن ہے، تخیل کے لیے نہیں۔ اور جب جسم خود ہی تخیل میں ڈھل جائے تو پھر کیسی قید وبند۔ یہی وہ فکر ہے جو وحدت الوجود کے فلسفے کو ایک نیا زاویہ عطا کرتی اور فکر کے نت نئے در وا کرتی ہے۔ یعنی محض ایک جست میں فنا کے تمام مدارج کو طے کر لینا گویا شاہد ماکلی نے ممکن بنا دیا ہے۔ ” تجاذب” میں موجود شاعری ایک بڑے کینوس کی تصویر کشی ہے اور میں تمام صاحبان فکر سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ پہلی فرصت میں اس کتاب سے فیض یاب ہوں۔ بلاشبہ مذکورہ کتاب بجائے خود ایک انتخاب ہے تاہم اس انتخاب کا نہایت مختصر حصہ قارئین کی تفنن طبع کے لیے پیش کر رہا ہوں۔
جو میرا حال نہ بدلا تو جا کے ماضی میں
میں واقعات کی ترتیب ہی بدل آیا
ہمیں دیکھو کہ کتنا سہل پہنچے نارسائی تک
غلط تم نے کہا تھا، ہم یہاں مشکل سے پہنچیں گے
میں کیا بتاوں کہ کب سے ہے تیرا ہجر مجھے
تو جب نہیں تھا، یہ مضموں ہے تب سے باندھا ہوا
اب میں خود میں ہوں، نہ تجھ میں نہ تری دنیا میں
غیر محفوظ بہت تھے یہ ٹھکانے تینوں
بھنور بنایا ہے خود میں یہ سیکھنے کے لیے
کہ ڈوب جاوں تو پھر کس طرح ابھرنا ہے
مجھے تو عرصہ ٍبرزخ تھا جاں کنی جیسا
قیامت آئ تو سانسوں میں سانس آئ مری
ہو رہا ہے کئی زبانوں میں
ترجمہ میری بے زبانی کا
صبا خوشبو کو، آندھی گرد کو آگے بڑھاتی ہے
یہاں سب فکر پھیلاتے ہیں اپنے اپنے مکتب کی
ملیں گی دو تمنائیں تو حاصل کچھ نیا ہو گا
کہ اجزا سے الگ ہوتی ہے خاصیت مرکب کی
انھیں بچھا کے میں چاہے جدھر اتر جاوں
رواں ہوں ناو میں دریا کے دو کنارے لیے
سب ایک ساتھ کہیں لاپتہ ہوئے شاہد
بلند کرنی ہے کس نے صدا ہمارے لیے
کسی کے نام لکھیں زندگی کا آخری شعر
وہ شعر آخری لمحوں میں کاٹنا پڑ جائے
مری تو آہ بھی شاید ہوا سے بھاری ہے
زمین تک ہی رہی آسمان تک نہ گئی
میں تجھ سے کٹ کے جلا شاخ صندلیں کی طرح
میں راکھ ہو گیا مجھ سے تری مہک نہ گئی
کھڑے ہوئے تھے کہیں وقت کے کنارے پر
پھسل کے جا گرے اک اور ہی زمانے میں
کرن سے تیز ہے رفتار بے خیالی کی
ہماری گرد کو تارے نہیں پہنچ سکتے
ہمیں کہیں نہ پہنچنے دیا تساہل نے
بدن نہ ہوتا تو شاید کہیں پہنچ سکتے
میں یکایک اپنے غم سے ترے غم میں آ گیا ہوں
ابھی دھوپ پڑ رہی تھی ابھی مینہ برس رہا ہے
میرا تمھارا رات کے باغوں میں گھومنا
اک راز ہے جو صرف اندھیرے پہ فاش ہے
جہاں ہم تھے وہاں سے لا مکاں نزدیک پڑتا تھا
ہم اپنی بے گھری کی آخری منزل میں رہتے تھے
عجب مزدور تھے ہم زندگی کی کارگاہوں میں
بناتے تھے سہولت اور خود مشکل میں رہتے تھے
تمھیں تو اذن سفر مل چکا، مبارک ہو
ہمارا نام ابھی زیر غور ہے بھائ
جو کائنات کی چھت سے نظر کرو شاہد
وہاں کا عالم حیرت ہی اور ہے بھائ
یہاں امید کا سورج ابھر نہیں پاتا
یہ لوگ روز ہے یومٍ سیاہ مناتے ہیں
میں ان میں ایک ہوں ٹوٹے ہوئے پروں والا
پرندے اڑتے ہیں میرا مذاق اڑاتے ہیں
خراب ہیں تو ہمیں گالیاں نہ دے کوئ
کہ یہ معاملہ اخلاق سے جڑا ہوا ہے
کرن کی پشت پہ سورج کا ہاتھ ہے شاہد
ڈبو نہ پائے گا پانی اسے سمندر کا
شکستٍ خواب کی تصدیق کوئ کرتا نہ تھا
میں آخر آپ ہی جا کر خبر رساں سے ملا
شناخت کر لیا جاتا ہوں ساری دنیا میں
کہ ہر کسی کو دکھایا ہوا ہے اس نے مجھے
اگر نہ مل سکے ہم اس جہاں کے باغوں میں
کہاں ملیں گے، بتایا ہوا ہے اس نے مجھے
ہمارا وقت ابد میں نہ کٹ رہا ہو کہیں
ہر اگلا سال ہے گزرے ہوئے برس کی طرح
محافظین سے بڑھ کر کسے پتہ ہو گا
کہ خون جائے وقوعہ سے کیسے دھونا ہے
کسی کو یاد نہیں عرصہٍ شبٍ برزخ
کوئ بتاتا نہیں نیند کس قدر لی ہے
بس اتنا کہنا ہے پرسانٍ حال سے میں نے
اگر نہ پوچھو تو حالت ہے ٹھیک ٹھاک مری
دلیل ڈھونڈتے رہتے ہیں اپنے اگنے کی
کہا گیا تھا جنھیں، بے سبب نہیں اگنا
شاہد تمام مشرق و مغرب اسی کے ہیں
کیا سوچنا کہ رخ ہے کدھر کائنات کا
تحریر و انتخاب : افضل خان
![]()

