Daily Roshni News

انا کا خاتمہ ہی قربت الہی کا ذریعہ ہے ۔ انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی

انا کا خاتمہ ہی قربت الہی کا ذریعہ ہے ۔

انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ انا کا خاتمہ ہی قربت الہی کا ذریعہ ہے ۔ انتخاب ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی)شیخ سنان اور عطار — عشق کی آزمائش(انسانی محبت اور الٰہی عشق کا حیرت انگیز ترین واقعہ)یہ قصہ صرف ایک کہانی نہیں…

یہ روح کے دروازے پر دستک ہے۔

یہ وہ آگ ہے جو انسان کو جلا کر خالص بنا دیتی ہے۔

فریدالدین عطارؒ نے ’’منطق الطیر‘‘ میں دنیا کی سب سے حیرت انگیز عشق کی آزمائش لکھی—

شیخ سنان اور روم کی نوجوان نصرانی لڑکی کا قصہ۔

یہ قصہ آج بھی دلوں کو دہلا دیتا ہے،

کیونکہ اس میں انسان اور خدا کے درمیان وہ جنگ ہے

جو ہر دل میں کبھی نہ کبھی ضرور ہوتی ہے۔

🌟 شیخ سنان کون تھے؟

چالیس سال تک خانقاہ کے شیخ،

سینکڑوں مرید، بے شمار کرامات،

اور عبادت و زہد میں ایسے مضبوط

کہ فرشتے بھی رشک کریں۔

مگر…

عشق جب آزماتا ہے

تو پہاڑوں کو بھی موم بنا دیتا ہے۔

🌙 وہ خواب — جس نے شیخ کا سفر بدل دیا

ایک رات شیخ سنان نے خواب دیکھا:

“تم روم جاؤ… تمہاری تقدیر وہاں تمہارا انتظار کر رہی ہے۔”

شیخ جاگے تو دل کانپ رہا تھا۔

مگر خدا کا حکم تھا—

وہ اپنے چالیس مریدوں کے ساتھ روم روانہ ہو گئے۔

روم کی گلیوں میں داخل ہوئے،

تو اچانک شیخ کی نظر ایک نصرانی لڑکی پر پڑی—

سنہری بال، آسمانی آنکھیں،

اور ایک ایسا جادو

جس نے ایک لمحے میں شیخ کے دل کو ہلا کر رکھ دیا۔

🌟 شیخ سنان… عشق میں گرفتار

چالیس سال کے زاہد کا دل

ایک لمحے میں ہار گیا۔

شیخ نے اپنے مریدوں سے کہا:

“دل میرے قابو میں نہیں رہا… مجھے چھوڑ دو۔”

مرید حیران۔

جن کا ہاتھ پکڑ کر خدا تک راستہ دکھانے والا شیخ

آج خود انسان کی محبت میں پگھل گیا تھا۔

مگر عشق کا جادو یہی ہے—

یہ بادشاہ کو فقیر بنا دیتا ہے

اور فقیر کو عاشق۔

🌙 نصرانی لڑکی کی شرطیں — انسان کو جلا دینے والی آزمائش

شیخ سنان اس کے دروازے پر پہنچے۔

لڑکی نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا:

“اگر میری محبت چاہتے ہو،

تو میری شرطیں پوری کرو۔”

مریدوں کے دل کانپ گئے۔

انہوں نے سنا:

1️⃣ اپنا دین چھوڑ دو

2️⃣ انجیل پڑھو

3️⃣ شراب پیو

4️⃣ اس کے بت خانے میں آگے پیچھے جھاڑو دو

ہر شرط…

شیخ کی پوری زندگی کی نفی تھی۔

مگر عشق نے آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تھا—

شیخ نے کہا:

“قبول ہے…”

مرید چیخ اٹھے:

“حضرت!! یہ کیا کر رہے ہیں!؟”

مگر عشق بہرا ہوتا ہے—

یہ کسی کی نہیں سنتا۔

شیخ سنان…

وہ پہاڑ…

اب عشق کی خاک میں بیٹھ چکے تھے۔

🌟 مریدوں کا درد — وہ دعا جو آسمان تک پہنچی

مرید رات بھر روتے رہے۔

انہوں نے کہا:

“یا رب! ہمارے شیخ کو بچا لے…

یہ امتحان ہم سے دیکھا نہیں جاتا۔”

چالیس مرید

چالیس سجدے

چالیس آنسو

آسمان ہل گیا۔

🌙 حیرت انگیز پلٹ — جب لڑکی کا دل بدل گیا

صبح ہوئی۔

لڑکی اپنے کمرے میں بیٹھی تھی—

دل میں ایک عجیب کیفیت۔

وہ بولی:

“یہ کون سا آدمی ہے

جو میرے لیے سب کچھ چھوڑ سکتا ہے؟

ایسا عشق تو میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں…”

اس نے آسمان کی طرف دیکھا

اور اس کے دل میں نور اُتر گیا۔

وہ روتی ہوئی شیخ کے پاس آئی اور کہا:

“اے شیخ!

تمہارا عشق مجھ سے نہیں…

کسی اور سے ہے۔

تمہاری محبت میں ایسی آگ ہے

جو انسان کو خدا تک لے جاتی ہے۔

میں تمہیں آزما رہی تھی…

تم ہار نہیں… جیت گئے ہو۔”

پھر وہ لڑکی سجدے میں گر گئی اور کہا:

“مجھے اسلام قبول کرنا ہے۔”

شیخ سنان بے اختیار چیخ پڑے—

آنکھوں سے آگ کی جگہ آنسو نکل آئے۔

مرید بھی رونے لگے۔

شیخ بولے:

“میں تو انسان کی محبت میں گر گیا تھا،

اور خدا نے مجھے اپنی محبت واپس لوٹا دی!”

یہ تھا وہ معجزہ

جو صرف سچے عشق والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

🌟 اس داستان کا سبق

انسانی محبت کبھی کبھی خدا تک لے جاتی ہے

عشق کی آگ انسان کو جلا کر خالص کر دیتی ہے

اللہ کبھی اپنے عاشق کو ضائع نہیں کرتا

اور بڑے سے بڑا پیر بھی امتحان سے گزرتا ہے

یہ قصہ بتاتا ہے:

“اللہ کے راستے میں صرف وہ کامیاب ہوتا ہے

جو اپنی انا کو قربان کر دے۔”

Loading