Daily Roshni News

روح کی موت، روح کو خدا کا دیدار اور عالم برزخ۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیو انٹرنیشنل )اے طالب حقیقت روح کا قصہ بہت پرانا ہے یہ کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب ابھی دنیا کا وجود بھی نہ تھا زمین و آسمان اپنے قالب میں نہ ڈھلے تھے اُس وقت اللہ نے سب روحوں کو ایک ساتھ جمع کیا اور اپنے نور کی تجلی میں ان سے سوال کیا ألست بربکم کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں اُس لمحے روحوں نے بیک زبان کہا بلی جی ہاں آپ ہی ہمارے رب ہیں یہی وہ لمحہ تھا جسے صوفیا عالم الست کہتے ہیں

اس لمحے کو صرف ایک سوال و جواب نہ سمجھنا یہ دراصل

پہلا دیدار تھا آنکھوں سے نہیں دل و باطن کے نور سے روحنے اپنے رب کو پہچانا اس کی ربوبیت مان لی اور محبت کا ایسا عہد کیا جو آج بھی دل کی گہرائیوں میں زندہ ہے اسی دیدار کی خوشبو ہر انسان کے دل میں ایک تڑپ اور ایک خلش کے طور پر باقی ہے انسان دنیا کے ذائقے چکھتا ہے محبتوں کے سمندر میں اترتا ہے دولت اور عزت کے پیچھے بھاگتا ہے مگر دل میں ایک کمی رہتی ہے وہ کمی اس پہلے

دیدار کی یاد ہے جو صرف رب کے وصال سے پوری ہوگی یہی وجہ ہے کہ صوفیا کہتے ہیں انسان کی اصل زندگی اسی پہچان کی تلاش ہے جو اس پہچان کو یاد رکھتا ہے وہ اللہ کی طرف لوٹنے کے سفر میں کامیاب ہوتا ہے اور جو اسے بھلا دیتا ہے وہ دنیا کے پردوں میں گم رہتا ہے

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب روح نے رب کو پہچان لیا اور دیدار کر لیا تو پھر موت کیا ہے کیا روح بھی مر جاتی ہے قرآن اعلان کرتا ہے کل نفس ذائقة الموت ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے مگر یہاں موت کا مطلب فنا نہیں ہے صوفیا فرماتے ہیں کہ موت روح کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک پردے سے دوسرے پردے میں گزرنے کا نام ہے جس طرح چراغ بجھتا نہیں بلکہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں منتقل ہوتا ہے اسی طرح روح بھی موت کے دروازے سے گزر کر ایک نئی منزل میں داخل ہو جاتی ہے

یاد رکھو جس رب کو روح نے عالم الست میں پہچانا تھا موت اس پہچان کو مٹاتی نہیں بلکہ اور زیادہ قریب کر دیتی ہے دنیا میں جسم روح پر پردہ ہے موت اس پردے کو ہٹا دیتی ہے وہی دیدار جو پہلی بار ہوا تھا موت کے بعد پھر سے جلوہ گر ہوتا ہے اسی لیے اولیا نے کہا ہے

حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں روح چراغ ہے موت اسے بجھاتی نہیں بلکہ پردے کے پیچھے لے جاتی ہے

حضرت بایزید بسطامی فرماتے ہیں میں نے اپنی روح کو موت میں بھی زندہ پایا ہر موت کے بعد ایک نئی زندگی ہے طالب حقیقت موت کے بعد روح کا پہلا قیام عالم برزخ میں ہوتا ہے یہ وہ عالم ہے جو دنیا اور آخرت کے درمیان پل کی مانند ہے صوفیا فرماتے ہیں کہ برزخ کا تعلق صرف قبر کی تنگی یا کشادگی تک محدود نہیں بلکہ اس کا دنیا اور جنت دونوں سے ایک ربط قائم رہتا ہے

دنیا سے نسبت یہ ہے کہ برزخ کی روحیں اپنے اعمال اور اپنے عزیزوں کے احوال سے بے خبر نہیں ہوتیں حضرت عبد الله بن عباس سے روایت ہے مومن کی روح اپنے اہل و عیال کی ملاقات کرتی ہے اور ان کے اعمال دیکھتی ہے اگر نیک اعمال ہوں تو خوش ہوتی ہے اور اگر برے ہوں تو غمگین ہوتی ہے اسی لیے اولیاء نے فرمایا کہ مومن کی قبر محض مٹی کا گڑھا نہیں بلکہ اس کی روح کے لیے ایک مقام مشاہدہ ہے حضرت شبلی فرماتے ہیں اہل ایمان کی روحیں برزخ میں ایک دوسرے کو پہچانتی اور ملاقات کرتی ہیں جیسے دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں

جنت سے نسبت یہ ہے کہ نیک روحیں برزخ ہی سے جنت کی خوشبو پانے لگتی ہیں حدیث پاک میں آیا ہے قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا صوفیا نے اس کی تشریح میں فرمایا کہ برزخ مومن کے لیے جنت کا دروازہ ہے جو کھلنے لگتا ہے حضرت داتا گنج بخش کہتے ہیں اہل قرب کی روحیں برزخ میں بھی جنتی نعمتوں کا ذائقہ پاتی ہیں اور یہ ذائقہ انہیں قیامت تک حیات بخشتا ہے

یوں سمجھو کہ برزخ ایک آئینہ ہے ایک طرف دنیا کی جھلک ہے جہاں سے روح اپنے رشتہ داروں کی خیر و شر سے آگاہ ہوتی ہے اور دوسری طرف جنت کی روشنی ہے جو اس کو اپنی اصل منزل کی طرف کھینچتی ہے

پس حقیقت یہ ہے کہ روح نے رب کا دیدار کیا پھر دنیا میں آکر پردوں کے پیچھے چلی گئی موت ان پردوں کو ہٹانے کا نام ہے تاکہ روح دوباره اسی اصل محبوب کی بارگاہ میں جا پہنچے فنا روح کا مقدر نہیں بقا اور وصال اس کی اصل ……. حقیقت ہے

Loading