انسانی زندگی اور سائنس
مصنف: پرویز عالم ناصری ؔ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ انسانی زندگی اور سائنس۔۔۔ مصنف۔۔۔پرویز عالم ناصری ؔ)فلسفیوں، دانشوروں اور مذہبی ماہرین کے نزدیک انسان ایک لافانی وجود ہے جو دو حیثیتوں سے موجود ہے۔ ایک مادی وجود جسے وقتِ مقررہ پر فنا ہونا ہے اور دوسرا روحانی وجود جو لافانی ہے۔ ایک انسان کے مادی وجود کی تباہی کے بعد اس کی روح ایک ان دیکھی دنیا کی جانب پرواز کر جاتی ہے جہاں جزا و سزا کا عمل مکمل کیا جاتا ہے اور انسان کو اس کے اعمال کی بنیاد پر جنت یا دوزخ میں داخل کردیا جاتا ہے جہاں اس کے مادی وجود کو دوبارہ تخلیق کرکے جزا و سزا سے ہم کنار کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ مذہبی کتب کے مطابق لامتناہی دور تک جاری رہے گا۔ جبکہ سائنس انسان کے حوالے سے پیش کی جانے والی ان فلسفیانہ اور مذہبی معلومات سے اتفاق نہیں کرتی، خاص کر میڈیکل سائنس انسانی جسم کو ایک مشین کے طور پر دیکھتی ہے۔ میڈیکل سائنس نے انسانی اعضائے رئیسہ پر مکمل تحقیق کی ہے۔ انسانی اعصابی نظام کو اچھی طرح سے سمجھا ہے اور موت کو اعضائے رئیسہ کی کارکردگی کی خرابی اور اعصابی نظام کی بندش سے موسوم کیا ہے۔ سائنس نے موت کو انسان کے لئے لازم و ملزوم نہیں جانا بلکہ موت کی کیفیت کو ٹالنے اور انسانی جسم کے بند اعضائے رئیسہ اور منقطع اعصابی نظام کو دوبارہ متحرک کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ سائنسی تحقیقات مسلسل انسانی حیات کو معطل ہونے کے بعد دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں میں جاری و ساری ہیں۔
اسی حوالے سے اب جدید آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیکنالوجی کے ذریعے جسمانی اور اعصابی طور پر مکمل غیر محرک انسانی وجود کو دوبارہ فعال کرنے کی راہ میں تجربات جاری ہیں اور جس تدبر و تفکر اور محنت کے ساتھ یہ کام جاری ہے امید کی جارہی ہے کہ بہت جلد ایک مکمل مرا ہوا انسان بھی دوبارہ اپنی آنکھیں کھول سکے گا، کسی انجانی دنیا میں نہیں بلکہ اپنی اسی دنیا میں اور اپنے ہی لوگوں کے درمیان، اب واپس آنے والا مرحوم یا آنجہانی کیسا ہوگا۔ کس قدر انسان ہوگا اور کن جذبات و صفات کا مالک ہوگا؟ معلوم نہیں ہے۔
کلوننگ ٹیکنالوجی پر بھی کام ہو رہا ہے۔ اس کے ذریعے جانوروں کی افزائش سے تو آپ واقف ہیں اور وہ جانور آپ کی خوراک و استعمال کا حصہ بھی ہیں۔ ایک دن اس ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانوں کو وجود بھی بخشا جاسکے گا۔
حرفِ آخر یہ کہ سائنس انسانی وجود کو ایک مشین کی صورت دیکھتی ہے اور اس کے بگاڑ کو دور کرکے موت جیسی شئے کا وجود اس زمین سے مٹا دینا چاہتی ہے۔ یہ معاملات فی الوقت ممکنات کی سرحدوں کو چھوتے اس لئے نظر آرہے ہیں کہ سائنس مسلسل تحقیقات و تجربات کی راہ پر چلتی ہوئی روز بروز نت نئی کامیابیوں سے ہم کنار ہو رہی ہے۔
مصنف: پرویز عالم ناصری ؔ
تصویر و پیشکش: پین ملٹی میڈیا (سائنس و ٹیکنالوجی)
![]()

