قطعہ۔۔۔شاعر ۔۔۔۔ ناصر نظامی
قطعہ جگمگاو تم روشنی کا مینارہ بن کے شاعر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناصر نظامی سیکھ لو لڑنا، جہالت کے ان اندھیروں سے جگمگاو تم، روشنی کا، مینارہ بن کے چھٹے گی ظلم وستم کی یہ سیاہی آ خر گونجے گا نعرہء حق پھر سے، نقارہ بن کے
![]()
قطعہ جگمگاو تم روشنی کا مینارہ بن کے شاعر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناصر نظامی سیکھ لو لڑنا، جہالت کے ان اندھیروں سے جگمگاو تم، روشنی کا، مینارہ بن کے چھٹے گی ظلم وستم کی یہ سیاہی آ خر گونجے گا نعرہء حق پھر سے، نقارہ بن کے
![]()
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی تتلی بن کے، کبھی پھولوں کا، نظارہ بن کے وہ میری نظروں میں، رہتا ہے، ستارہ بن کے میں اسے، دیکھنے سے پہلے، وضو کرتا ہوں وہ میری آ نکھوں میں، کھلتا ہے، سپارہ بن کے دل پہ اک، طور کا شعلہ سا لپک جاتا ہے وہ آ ئے، سامنے جو، نور …
غزل۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
![]()
اردو کو فارسی نے شرابی بنا دیا عربی نے اس کو خاص ترابی بنا دیا اہلِ زباں نے اس کو بنایا بہت ثقیل پنجابیوں نے اس کو گلابی بنا دیا دہلی کا اس کے ساتھ ہے ٹکسال کا سلوک اور لکھنئو نے اس کو نوابی بنا دیا بخشی ہے کچھ کرختگی اس کو پٹھان نے …
اردو کو فارسی نے شرابی بنا دیا Read More »
![]()
یادگار کلام باذوق خواتین و حضرات کے لئے گئے دِنوں کا سُراغ لے کر ، کِدھر سے آیا ، کِدھر گیا وُہ عجیب مانوس اجنبی تھا ، مجھے تو حیران کر گیا وُہ بس ایک موتی سی چھب دِکھا کر بس ایک میٹھی سی دُھن سُنا کر سِتارۂ شام بن کے آیا ، برنگِ خوابِ …
یادگار کلام ۔۔۔باذوق خواتین و حضرات کے لئے Read More »
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی ان کی آنکھوں کے محرابوں پہ لکھی آ ئتوں سے، وضو کر لو خانہء دل کے گل چراغوں کو اس روشنی سے، رفو کر لو نکل کر اپنی ہستی کے حصار کی تمام حدوں سے باہر اپنے دل کے غار حرا میں خود کو، خدا کے رو برو کر لو
![]()
یادگار غزل شاعر ۔۔۔۔۔۔۔۔ امجد اسلام امجد ابھی تو بات لمحوں تک ہے، سالوں تک نہیں آئی ابھی مسکانوں کی نوبت بھی، نالوں تک نہیں آئی ابھی تو کوئی مجبوری، خیالوں تک نہیں آئی ابھی تو گرد پیروں تک ہے، بالوں تک نہیں آئی کہو تو لوٹ جاتے ہیں چلو اک فیصلہ کرنے، شجر کی …
یادگار غزل۔۔۔شاعر ۔۔۔۔۔۔۔۔ امجد اسلام امجد Read More »
![]()
موجیں بہم ہُوئیں ، تو کنارہ نہِیں رہا آنکھوں میں کوئی خُواب دوبارہ نہِیں رہا گھر بچ گیا کہ دور تھے، کچھ صاعقہ مزاج کچھ آسمان کا بھی اِشارہ نہِیں رہا بُھولا ہے کون ایڑ لگا کر حیات کو رُکنا ہی رخشِ جاں کو گوارا نہِیں رہا جب تک وُہ بے نشان رہا، دسترس میں …
غزل ۔۔۔شاعرہ۔۔۔پروین شاکر Read More »
![]()
محبت کیا ہے یہ جاناں چلو تم کو بتاتا ہوں جہاں تک میں سمجھ پایا وہاں تک ہی بتاتا ہوں محبت آسمانوں سے اترتی ایک آیت ہے میرے رب کی عنایت ہے کہیں لے جائے موسیٰ کو تجلی رب کی دکھلانے کہیں محبوب کو عرشوں پہ اپنے رب سے ملوانے کہیں سولی چڑھاتی ہے کسی …
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی جو میرے رو برو تیرا رخ زیبا آ یا یوں لگا مجھ کو میرے سامنے، کعبہ آ یا میں نے جو مصحف رخسار کا کھولا ورقہ پہلی قرءت میں ادا کرنے کو سجدہ آ یا ناصر نظامی
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی جو میرے رو برو تیرا رخ زیبا آ یا یوں لگا مجھ کو میرے سامنے، کعبہ آ یا میں نے جو مصحف رخسار کا کھولا ورقہ پہلی قرءت میں ادا کرنے کو سجدہ آ یا ناصر نظامی
![]()