قطعہ۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی
قطعہ کسی کا بچہ روئے، سر میں درد ہوتا ہے اپنا بچہ روئے تو، دل میں ددد ہوتا ہے جس میں جتنی انا اور بے حسی ہوتی ہے اس کا لب و لہجہ ، اتنا ہی سرد ہوتا ہے ناصر نظامیناصر نظامی
![]()
قطعہ کسی کا بچہ روئے، سر میں درد ہوتا ہے اپنا بچہ روئے تو، دل میں ددد ہوتا ہے جس میں جتنی انا اور بے حسی ہوتی ہے اس کا لب و لہجہ ، اتنا ہی سرد ہوتا ہے ناصر نظامیناصر نظامی
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی عشق جب تک نہ در بدر ہو گا عشق ہرگز نہ معتبر ہو۔ گا محاذ عشق تو تب سر ہو گا تن پہ جب نہ کھڑا یہ سر ہو گا ناصر نظامی
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی یہ برا وقت بھی ٹل سکتا ہے غم خوشی میں بھی بدل سکتا ئ دست قاتل اگر لرز جائے تیر الٹا بھی تو چل سکتا ہے ناصر نظامیناصر نظامی
![]()
قطعہ تراشنے میں لگے جن کو زمانے اپنے اس نے رخ پھیر لیا درد نہ جانے اپنے جن کو انگاروں سے پھول بنایا ہم نے لگے ہیں پھول وہ اب ہاتھ جلانے اپنے ناصر نظامی
![]()
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی زندگی میں بڑا شرمندہ ہوں کب تو مر بھی گئی میں زندہ ہوں میں شعر و سخن کا پرندہ ہوں سوچ کی روشنی سے زندہ ہوں ایک مدت کے بعد آ یا ہوں میں اسی شہر کا باشندہ ہوں لفظوں کے آ ئینے تراشتا ہوں میں علم و ادب کا کارندہ ہوں …
غزل۔۔۔زندگی میں بڑا شرمندہ ہوں۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
![]()
تازہ شعر شاعر۔۔ناصر نظامی کہاں گفتار سے بڑے بنتے ہیں لوگ کردار سے بڑے بنتے ہیں ناصر نظامی
![]()
کراچی میں گاڑی کے حادثہ میں مارے گئے چھ افراد کے نام شاعر۔۔۔ناصر نظامی اے سفاک دل منچلی نتاشا تم نے کھیلا ہے اک خونی تماشا چھ انسانوں کی زندگی چھین کر پاگل ہونے کا بجاتی ہو اب تاشہ ناصر نظامی
![]()
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو پیدائش: 19 اگست 1887ء ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اردو کے ممتاز شاعر سید محمد حسین المعروف استاد قمر جلالوی 19 اگست 1887ء میں قصبہ جلالی، ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بچپن میں سیّد زندہ علی سے …
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو۔۔۔پیدائش: 19 اگست 1887ء Read More »
![]()
قطعہ نظر بدلے تو نظارہ بدل جاتا ہے سوچ بدلے تو ستارہ بدل جاتا ہے کشتیاں بدلنے سے کچھہ نہیں بدلتا رخ اگر بدلے تو کنارہ بدل جاتا ہے ناصر نظامی
![]()
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی ٹوٹ کر اپنے ہی اندر، بکھرتے جاتے ہیں ہاتھ سے ریت کی صورت، سرکتے جاتے ہیں کبھی تھی بحر محبت میں کتنی طغیانی زمزمے عشق کے اب تو، اُترتے جاتے ہیں کرچیاں وعدوں کی چبھنے لگی ہیں آنکھوں میں آئینے خوابوں کے اب تو، چٹکتے جاتے ہیں لا تعلق ہےاگروہ توبے نیاز …
غزل۔۔۔ٹوٹ کر اپنے ہی اندر، بکھرتے جاتے ہیں۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
![]()