وہ پھول اب تو لگے ہاتھ، جلانے اپنے۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی تراشنے میں لگے ، جس کو ، زمانے اپنے بن گیا آج خدا درد نہ، جانے اپنے جن کو انگاروں سے ہے، پھول بنایا ہم نے وہ پھول اب تو لگے ہاتھ، جلانے اپنے ناصر نظامی شائع فرما دیجیئے۔ سر
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی تراشنے میں لگے ، جس کو ، زمانے اپنے بن گیا آج خدا درد نہ، جانے اپنے جن کو انگاروں سے ہے، پھول بنایا ہم نے وہ پھول اب تو لگے ہاتھ، جلانے اپنے ناصر نظامی شائع فرما دیجیئے۔ سر
![]()
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی گو وقت کی بے مہری سے ہم ٹوٹ گئے پر حالات کے قدموں پہ جھکے، سر نہیں اپنے گو پہلے سے پہرے توقفس، پر نہیں اپنے اب اڑنے کی خواہش ہے مگر، پر نہیں اپنے سورج کی تمازت سے کہیں ٹوٹ نہ جائیں سیلاب کی زد میں، تو رہے،گھر نہیں اپنے اس …
گو وقت کی بے مہری سے ہم ٹوٹ گئے پر۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
![]()
غزل شاعر۔۔۔ ناصر نظامی تراشنے میں لگے، جن کو، زمانے اپنے بن گیا آج خدا، درد نہ، جانے اپنے جن کو انگاروں سے، ہے پھول بنایا ہم نے لگے ہیں، پھول وہی ہاتھ، جلانے اپنے ہاتھ راہزن کے کہاں، آئے، خزانے اپنے ہم کو تو لوٹ لیا، راہنما نے، اپنے اپنی خود داری کا، ہم …
تراشنے میں لگے، جن کو، زمانے اپنے۔۔۔شاعر۔۔۔ ناصر نظامی Read More »
![]()
غزل شاعر۔۔۔ناصر نظامی ہم سے اب چہرہ، تمہارا نہیں دیکھا جاتا جلتے سورج کو، دوبارہ نہیں دیکھا جاتا دل کی بینائی بھی درکار ہے جلوے کے لئے خالی آنکھوں سے، نظارہ نہیں دیکھا جاتا عشق کی جنگ میں کب سود و زیاں چلتا ہے اس میں تو جیتا، میں ہارا، نہیں دیکھا جاتا چاند بن …
غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
![]()
غزل یہ اندھیرا، اجالا، کیا۔ شے ہے ان کا ہسنا ہے، ان کا، رونا ہے شاعر۔۔۔ناصر نظامی آدمی سانسوں کا۔۔۔کھلونا ہے ویسے مٹی ہے، لگتا، سونا ہے سر پہ مٹی کی، اوڑھ کر۔۔ چادر سب کو اس مٹی میں ہی، سونا ہے ایک دم دو، تو دوجا۔۔ آتا ہے زندگی، پاناکبھی۔۔۔ کھونا ہے یہ اندھیرا، …
غزل۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی خوشیوں کے لمحات ، کبھی کبھی، ہاتھ، آتے ہیں جیسے اندھیری رات میں، جگنو، جگمگاتے ہیں پہلے دئیے کی روشنی میں آتی نہیں کمی جب ہم اک دئیے سے، دوسرا دیا، جلاتے ہیں
![]()
شہر آشوب سچی محبت کی۔۔۔۔ ۔ نشانی ضرب لگائے دل پہ۔۔۔۔ کاری شاعر۔۔۔ناصر نظامی سب کےساتھ کرے جو۔ یاری عمر گزارے تنہا۔۔۔۔۔ ساری موتی سمجھ کے کرتے۔۔۔ رہے جھوٹے نگوں کی۔۔۔ ریزہ کاری آتش دانوں میں نہیں۔۔۔ اگتی چاہت کے پھولوں کی۔۔کیاری ان کے شہر کے پانی کا ۔۔ ہے رنگ سنہرا۔۔ ذائقہ۔۔۔۔ کھاری سچی …
شہر آشوب۔۔۔شاعر۔۔۔ناصر نظامی Read More »
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی مومنو کا فخر و ناز ہے۔ روزہ بھوک سے کرتا بے نیاز ہے روزہ اس کا اجر کرتا ہے عطاخود خدا خدا اور بندے کا۔ راز ہے روزہ ناصر نظامیناصر نظامی
![]()
قطعہ شاعر۔۔۔ناصر نظامی کم ظرفوں کی۔ معتبری۔۔ ۔ میں محسنوں کے ہی۔ گھر۔جلتے ہیں یارو۔ جگنوؤں کی۔ بستی۔۔ میں تتلیوں کے بھی۔ پر۔ جلتے ہیں ناصر نظامی
![]()
تازہ قطعہ عشق میں انسان کی کھال اتر جاتی ہے شاعر۔۔۔ناصر نظامی عشق ریشم سے بنی ہوئی شال ہے یارو اک دھاگا کھینچو، ساری شال ادھڑ جاتی ہے سوچ سمجھ کے رکھنا، عشق کی راہ میں قدم عشق میں انسان کی کھال اتر جاتی ہے ناصر نظامی
![]()