Daily Roshni News

نیند انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے

نیند انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )نیند انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، مگر یہ صرف آرام کا عمل نہیں بلکہ ایک پیچیدہ حیاتیاتی اور دماغی سرگرمی ہے۔ جب انسان سوتا ہے تو بظاہر جسم ساکن ہو جاتا ہے، مگر دماغ اپنی اہم ذمہ داریاں جاری رکھتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق نیند کے دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، سیکھے ہوئے معلومات کو محفوظ بناتا اور غیر ضروری اعصابی روابط کو کمزور کرتا ہے۔

نیند کے دوران دماغ مختلف مراحل سے گزرتا ہے جن میں گہری نیند اور تیز آنکھوں کی حرکت والی نیند (REM) شامل ہیں۔ گہری نیند میں جسمانی خلیات کی مرمت اور توانائی کی بحالی ہوتی ہے، جبکہ REM مرحلے میں خواب آتے ہیں اور دماغ جذباتی تجربات کو ترتیب دیتا ہے۔ اسی عمل کی بدولت انسان سیکھنے، فیصلہ کرنے اور تخلیقی سوچنے کی بہتر صلاحیت حاصل کرتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق نیند کے وقت دماغ کا ایک خاص نظام، جسے “گلیمفیٹک سسٹم” کہا جاتا ہے، زیادہ فعال ہو جاتا ہے۔ یہ نظام دماغی خلیات کے درمیان موجود فضلات اور زہریلے مادوں کو صاف کرتا ہے۔ یوں نیند دماغ کو ایک طرح سے “صفائی” اور “مرمت” کا موقع فراہم کرتی ہے، جو بیداری کے دوران ممکن نہیں ہوتا۔

اگر نیند پوری نہ ہو تو یادداشت کمزور، توجہ منتشر اور جذباتی توازن متاثر ہو جاتا ہے۔ طویل عرصے تک نیند کی کمی ذہنی امراض، دل کی بیماریوں اور مدافعتی نظام کی کمزوری سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے سائنسی نقطۂ نظر سے نیند نہ صرف دماغی صحت بلکہ مجموعی جسمانی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ نیند خاموشی کا وقفہ نہیں بلکہ دماغ کی مرمت، صفائی اور تنظیمِ معلومات کا ایک فعال اور ضروری عمل ہے، جو انسان کو اگلے دن کے لیے ذہنی طور پر تازہ اور مستعد بناتا ہے۔

Loading