Daily Roshni News

انٹرنیٹ سے برین نیٹ تک!۔۔۔ تحریر۔۔۔ارشاد بھٹی۔۔۔قسط نمبر2

انٹرنیٹ سے برین نیٹ تک!

تحریر۔۔۔ارشاد بھٹی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ انٹرنیٹ سے برین نیٹ تک!۔۔۔ تحریر۔۔۔ارشاد بھٹی)اور ہاں اس وقت دنیا کی سب سے چھوٹی MRI مشین بریف کیس جتنی لیکن مستقبل میں MRI مشین موبائل فون جتنی ہو گی اور آج تو ہم اپنے موبائل فون پر Typing کرتے ہیں لیکن مستقبل میں ہمارا سب کچھ E-Paper ہو گا ، اس کو چھوٹا کر کے میز پر لگا کر آفس کا کام ، بڑا کر کے کمرے کی دیوار پر لگا کر ٹی وی اور فولڈ کر کے موبائل فون اور آخری بات جو میں ضرور بتانا چاہوں گاوہ یہ کہ آج کی دنیا کا ایک بڑا مسئلہ Electricity ہے لیکن مستقبل میں Electricityنا صرف ہماری زندگیوں بلکہ یہ English Language a سے ہی نکل جائے گا…. یہ کیسے …؟ اس کیلئے آپکو انتظار کرنا ہو گا …. اور پکی بات یہ کہ مجھے یہ پتا تو نہیں کہ یہ سب کچھ آپ کی زندگی میں ہو پاتا ہے یا نہیں لیکن مجھے یہ یقین ضرور ہے کہ یہ سب کچھ آپ کے بچوں کی زندگیوں

میں لازمی ہو گا۔

مستقبل میں سائنس کے گھوڑے دوڑانے والے اور ” فرکس آف دی امپاسبل ، فزکس آف دی فیوچر اور دی فیوچر آف دی مائنڈ ” جیسی تہلکہ خیز کتابوں کے مصنف پروفیسر میچیو کا ادھر لکچر ختم ہوا تو ادھر میرا دماغ چل پڑا اور پہلا خیال یہی آیا کہ دنیا کہاں سے کہاں جا پہنچی اور ہم کہاں سےکہاں آن پہنچے۔

کیا وقت تھا کہ جب آٹھویں صدی عیسوی سے گیارہویں صدی عیسوی تک علم ، تحقیق ، ایجاد، فلسفے اور دانش میں مسلمان چھائے ہوئے تھے جبکہ مغرب تاریکی میں ڈوبا ہوا اور دنیا کا پہلا کیمرہ متعارف کروانے والا ابن الہیشم ہو یا کشش نقل کی درست پیمائش اور کیلنڈر ایجاد کرنے والا عمر خیام ، آنکھ پر روشنی کے مضر اثرات اور آپریشن سے پہلے بے ہوش کرنے کا طریقہ بتانے والا ز کر یا الرازی ہو یا الجبیرے کا باپ موسیٰ الخوارزمی، بابائے ارضیات ابن سینا ہو یا دانتوں کا پہلا باقاعدہ ڈاکٹر اور آنکھ ،کان اور پتے کی سرجری میں استعمال ہونے والے 3اہم آلات کا بانی ابو القاسم الزہراوی ہو یا دنیا کو روشنی کی رفتار کا آواز کی رفتار سے تیز ہونے کا بتانے والا اور زمین ، چاند ، ستاروں اور سیاروں کی حرکات اور خصوصیات سے آگاہ کرنے والا البیرونی ہو ، یہ سب مسلمان اور یہ تو صرف چند نام، اسکے علاوہ سائنس کے بیسیوؤں مسلمان ماہر اور بھی، لیکن یہاں تک تو سب کو معلوم مگر یہ بہت کم لوگوں کے علم میں کہ مسلم سائنس کی ٹانگیں تب کئیں جب مبینہ طور پر ایک مشہور امام نے نمبروں کے ساتھ کھیلنے یعنی Mathematics کو شیطانی کام قرار دیدیا گو کہ اقتدار کی جنگوں ، آپس کی چپقلشوں اور عیاشیوں سمیت کئی اور وجوہات بھی ضرور تھیں کہ جن کی بناء پر مسلم دنیا سائنسی علوم سے دور ہوتی گئی مگر اس مشہور امام کے اس اقدام کے بعد جہاں پڑھا لکھا طبقہ منتشر خیالی کا شکار ہو اوہاں پھر وہ طبقہ سائنس پر حاوی ہو تا گیا کہ جو نہ صرف خود سائنس کی ترویج کا مخالف تھا بلکہ اس نے مذہب کی آڑ میں تحقیق اور ایجاد کو یوں لپیٹا کہ مسلم سائنس کا باب ہی بند ہو گیا… ذرا اس طبقے کی چالا کی تو دیکھیے کہ جب پر نٹنگ پریس آئی توضیح الا سلام سے اسے ایسے حرام قرار دلوایا کہ پھر پرنٹنگ پریس مسلمانوں کے لئے 235 سال تک حرام رہی ، جہاز اس وجہ سے حرام ٹھہرا کہ اتنی اونچائی پر جانا تو قدرت کو للکارنے کے مترادف، ریڈیو اور ٹی وی اس لئے حرام ہوئے کہ یہ شیطانی آلے ہیں، کیمرے پر فتوے لگے ، انجکشن پر اعتراض ہوا اور کل کو چھوڑیں آج بھی یہی طبقہ کبھی خون کی منتقلی پر اعتراض کرے تو کبھی جنینگ انجینئرنگ اور بالوں کی پیوند کاری کو ناجائز قرار دے ، ہی وجہ کہ مسلمانوں کی تحقیق اور ایجادات کو بنیاد بنا کر گزشتہ 100 سالوں میں ڈیڑھ کروڑ آبادی والے یہودی تو سائنس میں 25 نوبل پرائز لے لیں مگر سائنس کے چیمپئن مسلمان اس طرح نا اہلیوں ، نالا کیوں ، کمزوریوں اور فتوؤں میں الجھیں کہ ڈیڑھ ارب ہو کر بھی گزشتہ 100 سالوں میں صرف 2 نوبل پرائز لے سکیں….!

دوستو…..! ڈیڑھ ماہ پہلے پروفیسر مجید کے لیکھر سے اب تک میں مسلسل یہی سوچ رہا ہوں کہ ماڈرن سائنس میں ایک بھی Contribution نہ کرنے والے ہم مسلمانوں کے بچے جب پروفیسر میچیو کی سائنس اور ٹیکنالوجی والی دنیا میں جائیں گے تو پھر احساس کمتری میں مبتلا ہو کر وہ ہم نااہل اور نالائق لوگوں کی کار کردگی پر کیا فتوی دیں گے۔ آپ بھی سوچنے گا….!

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جون 2016

Loading