Daily Roshni News

ایک شخص نے مُر شد پاک حضرت واصف علی واصف رح سے عرض کی

ایک شخص نے مُر شد پاک حضرت واصف علی واصف رح سے عرض کی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک شخص نے مُر شد پاک حضرت واصف علی واصف رح سے عرض کی جب میں شعر لکھتا ہوں تو اس میں رکاوٹ أ جاتی ہے اور میں اٹک جاتا ہوں ۔ آپ  اسے جانتے تھے ، فرمایا کہ تم تو حضرت علی (ع) کے غلام ہو ، تمہیں تو “ بحر” کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔

ایک اور موقع پر آپ سے پوچھا گیا  کہ حضرت علی (ع) اور ان کے دشمنوں میں کیا فرق تھا تو آپ نے فرمایا کہ ہمارے صوفیائے کرام نے تمام صحابہ کرام (رض) سے فیض حاصل کیا ہے لیکن حضرت علی(ع) کے دشمنوں سے کوئی فیض نہیں لیا۔

مرشد پاک حضرت واصف علی واصف رح کی شاعری، مضامین اور ان کی محافل کی گفتگو میں جگہ جگہ حضرت علی علیہ السلام سے محبت اور عقیدت کے بڑے عمدہ نمونے دِکھتے ہیں ۔ اسم “ واصف” کا لفظی مطلب ہے کسی کا وصف بیان کرنا، اس کی توصیف بیان کرنا، اس کی مدحت اور تعریف کرنا۔

ایک “اُردو۔ انگلش ڈکشنری” میں جب میں نے لفظ “ واصف” کا نہایت پُر کیف مطلب دیکھا تو بڑی حیرانی ہوئی۔ وہاں “ واصف” کا مطلب یوں لکھا ہوا تھا

One who sings praises of…

تو اس طرح اسم  “واصف علی” کا  مطلب یہ نکلا

One who sings praises of ALI

اس طرح یہ اسم” واصف علی” کی بجائے “ واصفِ علی” ہوا یعنی کہ اسے“واصف”  کی “ف” کے نیچے زیر لگا کے پڑھا جائے گا۔ اب اسم “واصفِ علی “ کی ترکیب سے آپ سرکار رح کا یہ شعر ملاحظہ ہو

تیری  یاد  کا  ولی  ہوں  کہ  میں  واصِفِ علی  ہوں

نہ خفی ہوں نے جلی ہوں میں ہوں حرفِ بے نیازی

محترم سلطان محمود أشفتہ صاحب بڑے مشہور شاعر تھے لیکن بہت کم لوگ جانتے تھے کہ وہ روحانی علوم کے بھی ماہر تھے۔ روزنامہ جنگ  کے مشہور “فورم “ کی ایک  کانفرنس میں ان سے تعارف ہوا تھا۔ روحانی علوم پر مبنی اس اجتماع کی صدارت مرشد پاک حضرت واصف علی واصف نے فرمائی تھی۔ بعد میں ایک محفل  میں آپ نے آشفتہ صاحب کے بہت سارے سوالات کے جواب دیے۔ یہ ریکارڈ  آپ کی کتاب “ گفتگو-3 “ میں موجود ہے۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں آپ سرکا رح نے حضرت علی علیہ السلام کے اوصاف یوں بیان فرمائے

“ سب سے طاقتور فقر اور جید فقر ، مشکل کشائی فقر ہے۔مشکل کشا(ع) کا فقر دنیا کے ہر فقر پر غالب ہے۔وہ لفظ بھی غالب ہے اور نام بھی غالب ہے۔ لیکن مشکل کشا (ع) نے اپنے تمام واقعات میں کسی جگہ اپنا غلبہ نہیں دکھایا۔ خود شہید ہو رہے ہیں  مگر غلبہ اور قوت نہیں دکھائی۔ اپنے لیے ان کے پاس مشکل کشائی سے بھی بڑی قوت،  ذوالفقار سے بھی بڑی قوت ہے ، یعنی سب سے بڑی قوت، قوتِ برداشت ہے۔”

طریقت کے مشہور سلاسل چشتی، قادری، سُہروردی اور اس طرح کئی اور سلاسل  کے شجرہ جات حضرت علی کرم اللّٰہ علیٰ وجہ الکریم  سے چلتے ہیں ۔ آپ سرکار رح ان جملہ سلاسل سے بیک وقت فیض یافتہ  بھی تھے  اور فیض رساں بھی۔ اس لیے آپ حضرت علی (ع) سے بے انتہا اُنس، محبت، عقیدت اور ارادت رکھتے تھے۔ اپنا مکمل تعارف یوں کراتے ہیں

میرا نام واصفِ با صفا، میرا پیر سیِدِ مرتضیٰ(ع)

میرا وِرد احمدِ مجتبیٰ (ص)، میں سدا بہار کی بات ہوں

Loading