Daily Roshni News

دعا مومن کا ہتھیار اور عبادت کا مغز ہے

دہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دعا مومن کا ہتھیار اور عبادت کا مغز ہے۔ یہ بندے کا اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ربط و تعلق اور قربت کا ذریعہ ہے۔ دُعا اﷲ تعالیٰ کا حکم بھی ہے اور بندگانِ خدا کا محبوب عمل بھی۔ اصلًا، حقیقتًا اور شرعاً دُعا اللہ تعالیٰ کے حضور مانگی جاتی ہے اور یہ اسی کے لئے خاص ہے۔ پس توحید فی الدُعا سے مراد یہ ہے کہ فقط اللہ تعالیٰ ہی کو مستجیب الدعوات (دُعائیں قبول کرنے والا) تسلیم کیا جائے۔ اِسی کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے جائیں اور شدائد و مصائب اور مشکلات و آلام میں اُسی کے حضور گڑ گڑا کر گریہ و زاری کی جائے۔

فقط اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور اس کی بارگاہ میں دُعا کرنا توحید فی الدعا ہے جبکہ اِس کے برعکس غیر اللہ کو حقیقی فریاد رس سمجھ کر اُن سے دعا کرنا شرک فی الدعا ہے۔

دُعا کے حوالے سے ایک عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ’’دَعَا يَدْعُو‘‘ کے ذریعے قرآن حکیم میں بہت سے مقامات پر یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو مثلاً ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًاO

’’پس اللہ کے ساتھ کسی اور کی پرستش مت کیا کرو۔‘‘

الجن، 72 : 18

Loading