Daily Roshni News

رمضان اور خواتین کے معمولاتِ زندگی

رمضان کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی معمولاتِ زندگی تھوڑا تبدیل ہو جاتا ہے۔مرد حضرات کا روٹین تو کوئی خاص تبدیل نہیں ہوتا البتہ خواتین کا روٹین بہت زیادہ بدل جاتا ہے۔رمضان کی آمد سے پہلے ہی خواتین اس کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ان کی معمولات زندگی بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔رمضان سے ہفتہ قبل ہر گھر میں سحر و افطاری کی تیاری کے لئے کچن کی خصوصی صفائی ستھرائی کی جاتی ہے۔

اس بابرکت مہینے کی نسبت سے صوم و صلوت اور تلاوت قرآن پاک کے لئے خشوع و خضوع سے اہتمام کر لیا جاتا ہے۔خواتین رمضان شروع ہونے سے قبل ہی سحر و افطار کے اوقات کے مطابق تمام امور ترتیب دے لیتی ہیں۔
پہلے مراحل میں سامان خوردونوش کی فہرست بنا کر اس کی خریداری کی جاتی ہے، اس بابرکت مہینے میں کچن کے اخراجات عام دنوں کی نسبت بڑھ جاتے ہیں۔

اس لئے گھروں میں حسب حال ہفتہ وار یا پھر ایک ساتھ ہی سارا سامان جمع کر لیا جاتا ہے۔رمضان کے دوران سحری میں تو متوازن خوراک ہی پر زور دیا جاتا ہے۔تاہم افطار سے لطف اندوز ہونے کے لئے ہر گھر میں اپنی استطاعت کے مطابق اہتمام کرنا ایک روایت ہے جو ہمارے یہاں صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔بڑی بزرگ خواتین رمضان المبارک کی ان خوشیوں میں بچے اور بچیوں کو بھی شریک کرتی ہیں، جس سے تربیت کا عمل جاری رہتا ہے۔

لوگ مختلف قسم کے مشروبات،ڈرنکس،گوشت،قیمہ اور چکن وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن کو لوگ اپنے بجٹ کے مطابق اس مہینے کے آغاز میں ہی جمع کر لیتے ہیں۔رمضان میں سموسوں اور پکوڑوں کو ایک ہی مقام حاصل ہو جاتا ہے اور اگر یہ دونوں چیزیں افطار کی میز پر موجود نہیں ہوں تو افطاری بہت ادھوری سی محسوس ہوتی ہے اور افطاری کی میز کے رنگ پھیکے پھیکے لگتے ہیں۔

ان دونوں چیزوں کیلئے بھی آئل پہلے ہی اسٹاک کر لیا جاتا ہے۔
ہر طبقے کی خواتین کی کوشش ہوتی ہے کہ سحر و افطار کا اہتمام روٹین کر کیا جائے۔اس مہینے میں بچوں کے اسکول کے ساتھ ساتھ دفاتر کے اوقات تبدیل ہو جاتے ہیں، لہٰذا افطار کی میز پر ہر ایک کی موجودگی کی وجہ سے خواتین بہترین افطار بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ خواتین کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ وہ کاموں کے دوران عبادت کا وقت بھی نکال سکیں لہٰذا رمضان سے پہلے ہی مختلف اشیاء کو فریز کر لیتی ہیں۔

وہ خواتین جو نوکری کرتی ہیں، ان کے لئے رمضان میں ڈیوٹی ڈبل ہو جاتی ہے۔پہلے ان کو دفتر میں کام کرنا ہوتا ہے اور پھر گھر آ کے انہیں گھر کے کاموں کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔جس کے باعث ان خواتین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ رمضان سے پہلے ہی کافی کچھ فریز میں جمع کر لیں تاکہ گھر آنے کے بعد ان کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑے۔لیکن خواتین جتنا بھی کام کاج رمضان سے پہلے سمیٹ لیں، اس کے باوجود انہیں رمضان میں ہزاروں کام کرنا پڑتے ہیں اور سحری اور افطار کا خصوصی انتظام کرنا پڑتا ہے۔

Loading