Daily Roshni News

ماہر اقبالیات دانش ور شاعر و نقاد… احمد جاویدکی چند گراں قدر کتابوں کا تذکرہ۔۔۔قسط نمبر1

ماہر اقبالیات دانش ور شاعر و نقاد… احمد جاوید

صوفی منش دانش ور، فلسفی اور شاعر احمد جاوید صاحب

 اور آپ کی چند گراں قدر کتابوں کا تذکرہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )زمین پر انسان کے حاصلات میں افضل اور مفید ترین حاصل Achievement کتاب ہے۔ کتاب ایسا بیش بہا خزانہ ہے جس کی بدولت انسان نے قدرت کے سربستہ رازوں کو کھولا اور ان پر پڑے پر دے اُٹھا دیے۔ اسی کے ذریعہ مختلف دریافتیں ہوئیں۔ کتاب کی بدولت آج دنیا کی وسعتیں انسان کے سامنے سمٹ کر رہ گئی ہیں۔ اکیسویں صدی کی گلوبلائزڈ دنیا کی گہما گہمی میں انسان کا کتاب سے تعلق ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ملک و قوم کی ترقی کے لیے ذوق کتب بینی کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کے پیش نظر روحانی ڈائجسٹ میں ہر ماہ معیاری، کلاسک کتاب / کتب کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

اردو ادب و شاعری سے دلچسپی رکھنے والے احمد جاوید صاحب کے نام سے خوب واقف ہیں۔ احمد جاوید پاکستان کے صوفی منش دانش ور، فلسفی، ماہر الهیات، ماہر اقبالیات، نقاد اور شاعر ہیں۔ احمد جاوید صاحب دور حاضر کی چند غیر معمولی اور کثیر الجہات شخصیات میں سے ایک ہیں۔ علمیت، وسعت مطالعه ، تدبر و تفکر ، علمی موضوعات پر نکته سنجی، فلسفہ، مذہب، تصوف اور ادب و تنقید میں آپ اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ اسلامی تاریخ ، اسلامی فلسفہ، منطق، علم کلام، تصوف و غیرہ پر حیرت انگیز درجے کا ید طولی رکھتے ہیں۔

احمد جاوید کا تعارف مختصراً یہ ہے …. آپ 18 نومبر 1954 کو الہ آباد (یوپی انڈیا) کے ایک گاؤں سید سراوان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا پروفیسر علی امیر عثمانی ماہر تعلیم اور یوپی (انڈیا) کی یونین پبلک سروس کمیشن ( سنگھ لوک سیوا آیوگ) کے سیکرٹری کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ الہ آباد یونی ورسٹی میں پڑھاتے بھی تھے، احمد جاوید کے والد حسین امیر عثمانی انگریزی کےاستاد تھے اور ادب کا شغف رکھتے تھے۔ احمد جاوید کی والدہ محترمہ بھی ادبی مزاج رکھتی تھیں۔ گویا پورا گھرانہ علم وادب میں گندھا ہوا تھا۔

1958 میں جب وہ تین سال کے تھے ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوا۔ آپ نے اپنی ابتدائی زندگی کا بیشتر حصہ شاہ فیصل کالونی میں گزارا جہاں والد کا ذریعہ روزگار انگریزی پڑھانا تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم جامعہ ملیہ ) ملیہ اسکول ملیر سے حاصل کی، گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول جیل روڈ سے میٹرک ، بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے گریجویشن اور پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔ کراچی کی مشقت بھری زندگی میں آپ نے

احمد جاوید صاحب فرماتے ہیں کہ ”اخلاق، فطرت اور شریعت کی ہم آہنگی سے وجود میں آتے ہیں۔ انسان چونکہ اخلاقی وجود ہے ، اسی لیے خیر وشر کی کشاکش کے ماحول میں اتارا گیا ہے اور اپنے اعمال پر جواب دہ ہے۔ عمل صالح ، انسان کے اخلاقی وجود ہونے کی سند ہے اورایمان یہ بتاتا ہے کہ ہم ایک عقلی وجود بھی ہیں۔ “

اللہ سے تعلق کے دو تقاضے ہیں راحت میں شکر گزاری اور تکلیف میں صبر …. راحت میں شکر گزاری تو صبر کی کیفیت سے الگ ہو سکتی ہے لیکن صبر کی حالت میں جو شخص شکر گزاری کے جذبے یا مخصوص کیفیات کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہے اس نے گویا صبر کو اس کی روح کے ساتھ اپنے اندر جذب کر لیا۔“

سائیکل رکشہ پر سلنڈر ڈھونے کا کام بھی کیا، اپنے مزاج اور میلان کے بر خلاف ایک کنسٹرکشن کمپنی میں پر چیز منیجر اور محکمہ بہبود آبادی میں موٹیویٹر کی ملازمت پر بھی فائز رہے۔

احمد جاوید کو دور طالب علمی سے ہی فلسفہ اور ادب سے دلچسپی تھی، چنانچہ آپ نے کراچی کے زیلین کافی ہاؤس، سلطانیہ ہوٹل، کینٹین ریڈیو پاکستان کے علاوہ رئیس فروغ ، محب عارفی ، ضمیر علی بدایونی اور قمر جمیل جیسی نامور ادبی شخصیات مولانا اصلح الحسینی جیسی دینی شخصیات، علم الکلام کے ماہر مولانا ایوب دہلوی، افغان صوفی بزرگ حضرت اخوند زادہ سیف الرحمان، معروف ادبی نقاد محمد حسن عسکری اور ان کے شاگرد سلیم احمد کی صحبت میں بیٹھ کر علم ودانش کے موتی سمیٹے۔

احمد جاوید 1981 میں صوبہ سرحد چلے گئے جہاں وہ 1985 تک رہے، آپ 1986 میں لاہور چلے گئے اور اقبال اکیڈمی کجے ساتھ وابستگی سے آپ کو اپنی علمی و فکری صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہترین موقع ملا۔ آپ اقبال اکیڈمی پاکستان کے ڈائریکٹر رہے۔ اس دوران آپ کئی بین الاقوامی کا نفرنسوں میں شریک ہوئے، اقبال کے اشعار کی تفہیم اور استفسارات کے متعلق آپ کاٹی وی پرو گرام حمزہ نامہ بہت مقبول ہوا۔

 احمد جاوید نے اقبالیات، اقبال شناسی اور روایت نامی ادبی جریدوں میں کئی مضامین، مقالہ تحریر کیے اور علامہ اقبال کی فارسی کتب جاوید نامہ، پیام مشرق اور ابن عربی کی حیات و آثار پر فارسی کتاب کا ترجمہ بھی کیا، خطبات اقبال پر محاکمہ بنام میارا بزم بر ساحل کہ آنجا، میر تقی میر کی شاعری پر کتاب سرہانے میرے میر کے اور افتخار عارف کی شاعری پر کتاب تہذیب سخن بھی تحریر کی۔

اقبال اکیڈمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد احمد جاوید نے علم ، فکر، مذہب، فلسفہ ، تصوف، ادب، شاعری، مغربی تہذیب، مسلم امہ کا مستقبل سمیت کئی موضوعات پر مجالس میں لیکچر دینا شروع کیے۔ ان سیچر ز میں احمد جاوید صاحب کا طرز بیان اور سمجھانے کا انداز بہت دل نشین ہے، احمد جاوید کو سحر انگیز علمی گفتگو کا ملکہ حاصل ہے۔ آپ ادب اور تصوف کے پیچیدہ مسائل پر سہل ممتنع میں کلام کرتے ہیں۔ احمد جاوید حسن اخلاق، حلیم الطبع ، دھیمے مزاج اور بلندی کردار کے مالک ہیں۔ احمد جاوید کی کتب میں اصلاحی باتیں، تربیتی مجالس، ترک رزائل اور نثری نظموں کے مجموعے آندھی کار جز، تقریباً اور مناجات شامل ہیں۔ اسلام کا ورلڈ ویو، کسب فضائل، کشف حقائق ، دینی ذہن اور فلسفہ ، تھیوری کے مباحث نام سے چند تصانیف زیر طبع ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر آپ کے لیلچر ز کتابچہ اور ویڈیو کی صورت میں موجود ہیں۔ احمد جاوید کی کتاب اصلاحی باتیں میں

اخلاق و اصلاح اعمال سے متعلق باتیں ہیں۔ ان میں بندگی ، تزکیہ ، توبہ استغفار، ذکر، صبر ، سچائی، شکر ، سخاوت، مجاہدہ، امیری غریبی، پیری مریدی حسد ، حیا، اخلاق، علم اور طاقت ، اپنی اصلاح و بچوں کی تربیت جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔ کتاب تربیتی مجالس میں دین داری، اصول معاشرت، علم نافع ، والدین کے حقوق، خود بینی ، خود نمائی، تو به و انابت، تلاوت و نماز، جنت تفریح، خوشی کی حقیقت، موجودہ بحران اور ہماری ذمہ داری جیسے موضوعات شامل ہیں۔ اخلاقی و روحانی بیماریوں کے متعلق کتاب ترک رزائل میں انسان کی طبیعت میں پیدا ہونے والے امراض مثلاً نفاق، حب دنیا، تکبر، حب جاہ، ریا، عجب، غضب، حسد، بغض و کینه ، جبن ( بزدلی)، کسل، بخل، حرص و طمع، قساوات قلبی، شکم پروری، شہوات نفسی، سخت مزاجی، بے مروتی، کام چوری اور دیگر معاشرتی خرابیاں …. انسان کے ارادہ اور افعال کی برائیاں مثلاً جھوٹ، غیبت، بهتان، چغلی، فحش کلامی خوشامد ، وعدہ خلافی، بد نظری، طول امل ، بے ادبی، غلو ادب، بدعت، تجس، اسراف، خود رائی، لہو و لعب ، تن آسانی، فریب دہی، مایوسی، ڈپریشن، غصب حقوق ، کسب حرام و غیرہ …. انسان کے بعض ذہنی امراض مثلاً بے یقینی، تشکیک، حیلہ جوئی، مکاری و عیاری اور عبادت عدم یکسوئی کے اسباب اور علاج بیان کیے ہیں۔

آپ کا نام رومی، سعدی، حافظ، میر، غالب، اقبال اور دیگر فارسی اور اردو شعرا کے ادب کے جامع تجزیوں کے لیے بھی جانا گیا۔ آپ کے تجزیے سنجیدہ اور بے لاگ ہونے کے ساتھ حکمت و دانش پر مبنی ہوتے ہیں۔ قدیم وجدید علوم پر آپ کی گہری نظر ہے۔ آپ اقوام عالم کی سر گزشت سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ آپ کا معاشرے کی نبض پر نہ صرف ہاتھ ہے بلکہ بیماری کا علاج بھی تجویز کرتے ہیں اور معاشرے کے انحرافات اور کج فکریوں کے بارے میں مدلل اور منفر د رائے رکھتے ہیں۔

بشکر یہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ دسمبر2023

Loading