Daily Roshni News

ماہ صیام اور خواتین

ماہ صیام اور خواتین

مخصوص ایام ایک فطری عمل ہے۔

رمضان کو خواتین کت لئے امتحان مت  بنائیں۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ماہ صیام اور کواتین )خواتین کو ہر ماہ کے مخصوص ایّام میں پیریڈز ہوتے ہیں اور یہ بالکل نارمل بات ہے۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے جس سے ہر لڑکی کو گزرنا ہوتا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ آج کے دور میں کوئی مرد ایسا ہو گا جو پیریڈز کا سن کر سوچ میں پڑ جائے کہ یہ کس بلا کا نام ہے۔۔۔

لیکن اس کے باوجود ہمیشہ سے پیریڈز (ماہواری) ہمارے یہاں ایک ٹیبو رہا ہے۔ جس طرح خواتین کے جسم کو ان کے لیے باعثِ شرمندگی بنا دیا گیا ہے اسی طرح وہ خود بھی ماہواری کے حوالے سے غیرضروری حساسیت اور شرمساری کا شکار ہیں۰

میں نے(خاتون کے رشتے دار) کئی مردوں کو دیکھا سنا جو اسے نماز پڑھنے پر زور دے رہے ہوتے ہیں اور ۰۰۰۰۰۰۰۰

۔۔۔ ابھی رمضان کا مہینہ شروع ہوا ہے۔ ہوتا کیا ہے کہ گھروں میں اُن بچیوں، لڑکیوں اور خواتین کو بھی زبردستی سحری کے لیے اُٹھنا پڑتا ہے اور دسترخوان پر اپنی حاضری یقینی بنانا ہوتی ہے جن کے پیریڈز کی ڈیٹس چل رہی ہوتی ہیں اور پھر پورا دن روزے سے ہونے کی ایکٹنگ کرنا پڑتی ہے۔ صرف اس لیے کہ اُن کے گھروں میں باپ اور بھائی ہیں تو وہ کیا سوچیں گے؟ اُنہیں نہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پیریڈز ہیں اس لیے وہ روزہ نہیں رکھ رہیں، اور پیریڈز کا معلوم پڑ گیا تو یہ تو بہت شرم کی بات ہے۔۔۔

۔خواتین خود اپنے لیے آسانی کریں اور پیریڈز کو پہلے خود نارمل سمجھیں۔۔۔ کچھ ایسا غیر معمولی نہیں ہو رہا آپ کے ساتھ۔۔۔ اور اپنی فرینڈ لسٹ میں موجود یا مجھے فالو کرنے والے مردوں سے بھی میں یہ گزارش ہے کہ آپ کے گھر میں آپ کی بیوی ہے، بیٹی ہے، بہو ہے، بہن ہے یا کوئی بھی خاتون ہے تو اس بار صرف اتنی سی کوشش کیجیے گا کہ اگر وہ آپ کو صبح سحری کے وقت نہ دکھائی دیں تو بار بار پوچھنے کی یا زبردستی بُلانے کی ضرورت نہیں۔۔۔

رمضان کو خواتین کے لیے امتحان مت بنائیں 🙏

بشکریہ طاہرہ جیہ

Loading