Daily Roshni News

کبھی چھوٹا سا عمل بھی دوسروں کی زندگی بدل دیتا ہے۔

کبھی چھوٹا سا عمل بھی دوسروں کی زندگی بدل دیتا ہے۔

انتخاب۔۔۔محمد آفتاب سیفی عظیمی (آسٹریا)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔انتخاب ۔۔۔محمد آفتاب سیفی عظیمی )ایک دفعہ ایک مل کے مالک کو جو بہت غصے والا اور مغرور مشہور تھا۔ وہ کم گو تھا۔ جب بھی بات کرتا یا تو ڈانٹ پلانے کے لیے یا پھر ضروری معلومات مہیا کرنے کے لیے ۔ سب مزدور اس سے بات کرتے گھبراتے۔ ایک نیا مزدور مل میں آیا ۔ اس نے جب مالک کے بارے میں باتیں سنی تو اس سے نہ رہا گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہمیں مالک سے دوری نہیں بنا کر رکھنی چاہیے۔ ممکن ہے کہ اس کی طبعیت میں ہنسی مذاق شامل نہ ہو۔ اس مزدور کے بیٹے کی سالگرہ تھی ۔اس مزدور نے اپنے بیٹے کی سالگرہ پر مالک کو بھی بلایا ،وہ نہیں آیا دوسرے دن مزدور نے مالک کے پاس آ کر بہت خوش اخلاقی سے کہا سر آپ کل میرے بچے کی سالگرہ پر نہیں آئے ۔ میں آپ کے لیے کچھ لایا ہوں ۔ کیا میں آپ کو وہ دے سکتا ہوں ۔ مالک نے سنجیدگی سے اس مزدور کو دیکھا اور بولا ۔ مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔ اگر تمہیں کچھ چاہیے تو بولو۔

مزدور نے مالک کی طرف مسکرا کر دیکھا اور بولا آپ اگر ویسا کر دیں جو میں چاہتا ہوں تو یہ ہی میرے بیٹے کی سالگرہ کا تحفہ ہو گا۔ مالک کو حیرت ہوئی ۔ اس نے مزدور سے پوچھا ۔ تم مجھے کیا دینا چاہتے ہو اور مجھ سے کیا کروانا چاہتے ہو۔ مزدور نے دو سفید رنگ کے ربن نکال کر مالک کو دیکھا۔ مالک نے پوچھا یہ کیا ہیں ۔ مزدور نے کہا ۔یہ مجھے کبھی کسی نے دیے تھے ،جب میں دوسروں سے دور دور رہتا تھا۔ دینے والے نے کہا تھا۔ یہ ایک تمہارے لیے ہے۔ کیونکہ تم ایسے انسان ہو جو میری زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہو۔یہ دوسرا سفید ربن اس کے لیے ہے جو شخص تمہاری زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ میں بھی یہ ایک ربن آپ کے لیے لایا ہوں اور دوسرا اس کے لیے ہے جس سے آپ اپنی زندگی میں سب سے ذیادہ محبت کرتے ہیں یا اہمیت دیتے ہیں ۔ یہ ربن آج ہی آپ اسے دے دیں۔ مزدور کی بات سن کر مالک کو ہنسی آئی لیکن وہ سنجیدہ ہی رہا ۔ اس نے مزدور کو ربن ہاتھ پر باندھنے کی اجاذت دے دی۔ جو وہ چاہتا تھا۔ دوسرا ربن جب مزدور نے مالک کو دے دیا تو وہ سوچنے لگا ایسا کون سا انسان ہے جسے وہ سب سے ذیادہ اہمیت دیتا ہے۔ یہاں تک کہ کام کا وقت ختم ہو گیا وہ واپس گھر جا رہا تھا کہ راستے میں اسے اپنے بیٹے کا خیال آیا۔ جسے اپنی بیوی کے گزر جانے کے بعد مصروف ہونے کی وجہ سے بہت کم وقت دیتا تھا جب بھی اس سے بات کرتا تو وہ یا تو نصیحت ہوتی یا پھر ڈانٹ ۔

اس نے گھر داخل ہوتے ہی ربن جو اس کی کلائی پر تھا اُتار دیا اور اپنے بیٹے کے کمرے کی طرف چل دیا۔ جو بستر پر لیٹا تھا۔ باپ نے دروازے پر دستک دے کر اندر آنے کی اجاذت چاہی ۔ لڑکے نے دوروازہ کھولا۔اسے شدید حیرت ہوئی ۔اس کے والد صاحب نے اسے بلانے کی بجائے خود کمرے میں آنے کی زحمت کیوں کی۔ وہ سوچ ہی رہا تھا۔ کہ اس کے پاپا نے اس کی کلائی پکڑی اور اس کی طرف دیکھ کر مزدور کی کہی ساری بات دُہراد دی۔ ساتھ میں یہ بھی کہا۔ کہ بہت مصروف ہونے کی وجہ سے میں نے کبھی تمہیں ٹھیک سے وقت نہیں دیا۔ مجھے افسوس ہے ۔ اپنی جیب میں سے دوسرا ربن نکال کر اس نے اپنے بیٹے کو دیا اور بولا یہ ربن تم اس کی کلائی پر باندھ دینا ۔جس کو تم سب سے ذیادہ محبت کرتے ہو اور جس کی تمہاری زندگی میں سب سے ذیادہ اہمیت ہے۔ لڑکا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔ اس نے اپنے باپ کی کلائی پکڑی اور بولا پا پا میں یہ آپ کو ہی باندھوں کا میں سوچتا تھا کہ آپ مجھ سے بلکل پیار نہیں کرتے اور میں کچھ دنوں سے خود کشی کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ آپ کی چھوٹی سی بات نے مجھے جینے کے لیے وجہ دے دی۔ آئی لو یو پاپا۔مل کے مالک کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ اس نے اپنے بیٹے کو اپنے سینے سے لگا لیا۔

دوسرے دن جب وہ مل میں گیا تو اس نے اس مزدور کو بلایا جس نے اسے ربن دیا تھا۔ جیسے ہی مزدور کمرے میں داخل ہوا تو مالک کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ مزدور نے مالک کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی تو وہ بھی مسکرا دیا۔ مالک نے اس مزدور سے پوچھا کہ تمہیں مجھے ربن دینے کی کیا سوجھی ۔ مزدور نے مسکرا کر مالک کی طرف دیکھا اور بولا ۔میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا۔ جب میں نے آپ کے چہرے کی سختی دیکھی تو سمجھ گیا۔ سالوں سے آپ نے کسی سے محبت کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے آپ سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ سر محبت کا اظہار انتہائی ضروری ہے۔ کبھی کبھی چھوٹا سا عمل دوسروں کی زندگی بدل دیتا ہے.

Loading