Daily Roshni News

کیا یہ کہنا درست ہے کہ سائنس میں کچھ بھی فائنل نہیں ہوتا؟

کیا یہ کہنا درست ہے کہ سائنس میں کچھ بھی فائنل نہیں ہوتا؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) نہیں، بالکل نہیں۔چوبیس گھنٹوں میں پل پل انسان فائنل سائنسی اصولوں کی وجہ سے بننے والی اشیاء استعمال کرتے ہیں۔

کوئی بھی انسان جب کمرے کو روشن کرنے کے لیے بلب کا بٹن اون کرتا ہے تو اس کے ذہن میں کرنٹ لگنے کا کوئی ڈر نہیں ہوتا۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ بٹن اور الیکٹرک بورڈ پلاسٹک سے بنے ہیں اور پلاسٹک میں سے کرنٹ نہیں گزرتا۔  یہ بات فائنل ہے۔ جن اصولوں کی بدولت بجلی کی تاروں میں کرنٹ ہے فلو کرتا ہے وہ فائنل ہیں۔

جب کسی کی طبیعت خراب ہوتی ہے تو ڈوکٹر صاحب کے کلینک پر فون  کر کے اپوائنٹمینٹ لی جاتی ہے۔ چیک اپ ہو جاتا ہے اور میڈیسن مل جاتی ہے۔  کچھ دنوں کے بعد انسان صحت یاب ہو کر اپنی روزمرہ کی زندگی میں پھر سے مگن  ہو جاتا ہے۔ فزکس، کمپیوٹر سائنس اور ٹیلیکمیونیکشن وغیرہ کے فائنل اصولوں کی بنیاد پرہی موبائل فون بنائے جاتے ہیں اور ان کو نیٹورکس کے ساتھ جوڑ کر ایک انسان کو دوسرے انسان سے رابطہ کراویا جاتا ہے۔ اور جہاں تک میڈیسن کا تعلق ہے تو تمام میڈیسنز کیمیکل کمپاؤنڈز ہیں۔ اور ان میڈیسنز کو کیمسٹری کے فائنل اصولوں کی بنیاد پر تیار کیا جاتاہے اور بائیولوجی  کے فائنل اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان میڈیسنز کی ایک مخصوص مقدار کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ فلاں جرم فلاں بیماری کی وجہ بنتا ہے اور اس  بیماری کا علاج فلاں میڈیسن سے کیا جاتاہے، یہ سب کچھ بائیو اور کیمسٹری کی  فائنل تھیوریز کی بدولت ہی ممکن ہوتا ہے۔

 مریض پر کوئی  میڈیکل پروسیجر کرنے سے پہلے ڈوکٹرز ایکس رے، ایم آر آئی، سی ٹی سکین وغیرہ  کا استعمال کرتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کی بنیاد سائنس کی فائنل تھیوریز پر ہی رکھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، سائنس کی جن فائنل تھیوریز کی بنیاد پر  ایکس رے مشین کام کرتی ہے اگر وہ فائنل نا ہوتیں یا ان میں کوئی خامی ہوتی تو کبھی ٹوٹی ہوئی ہڈی میں فریکچر نظر آتا، کبھی غائب ہو جاتا اور ہو سکتا ہے کہ کبھی ہڈی ہی غائب ہو جاتی۔ یا یہ بھی ہو سکتا تھا کہ انسان کے  اندرونی اعضاء نظر آنے کی بجائے اندر پھول بوٹے نظر آنا شروع ہو جاتے۔

 فزکس، کپمیوٹر سائنس، سٹیلائیٹ ٹیکنولوجی، ٹیلیکمیونیکیشن وغیرہ کی فائنل تھیوریز کی بنیاد پر ہی سٹیلائیٹس کو زمین کے اردگرد بھیجا جاتا ہے۔ پھر انہی سٹیلائیٹس کے ذریعے ایک ملک کے ٹی وی چینلز دوسرے ملک میں دکھائے جاتے ہیں۔ میچز کی لائیو بروڈکاسٹنگ بھی سٹیلائیٹس کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔

 سلائی مشین کی ایک چھوٹی سی  سوئی سے لے کر ہوا میں اڑنے والے ہوائی جہازوں تک تمام چیزیں سائنس کی فائنل تھیوریز کی بنیاد پر ہی بنائی گئی ہیں اور وہ فائنل سائنٹیفک تھیوریز کے مطابق ہی اپنا کام کرتی ہیں۔ آئندہ زندگی میں قدرتی چیزوں کے علاوہ کسی بھی چیز کو استعمال کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچئیے گا کہ اگر سائنس  کی فائنل تھیوریز نا ہوتیں تو یہ چیز بھی نا ہوتی۔

  ابھی جس جگہ  پر بیٹھ کر آپ اس پوسٹ کو پڑھ رہے ہیں، اگر وہاں سے سائنس کی فائنل  تھیوریز کی بنیاد پر بننے والی تمام چیزیں نکال دی جائیں تو بس آپ ہونگے،  کچی زمین ہو گی، ہوا ہو گی، سورج اور چاند ہونگے یا چاند اور ستارے ہونگے۔  پھول بوٹے بھی ہوسکتے ہیں۔

  ارے ہاں، جاتے جاتے ہم آپ کو یہ  بھی بتانا چاہتے ہیں کہ اس وقت جو انٹرنیٹ اور فیسبک آپ استعمال  کر رہے ہیں ان کا وجود بھی سائنس کی فائنل تھیوریز کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔

سائنٹیفک ریسرچ سائنس کا حسن ہے، سائنس کی کامیابی کی وجہ ہے۔

ایک سائنسدان علم حاصل کرتا ہے، انسانیت کے علم میں اپنا اضافہ کرتا ہے، دوسرے سائنسدان اس کی تصدیق کرتے، وہ علم دوسروں سے شئیر کیا جاتا ہے اور اس علم کو عملی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی سائنٹیفک ریسرچ ہے، یہی سائنس ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ نت نئے حقائق سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن جن حقائق کو بار بار پرکھا جا چکا ہے، وہ سب فائنل ہیں۔ آج سے سو سال پہلے جن باتوں کا علم نہیں تھا، آج ان کا علم ہے۔ اسی طرح آنے والے وقت میں ان سوالات کے جوابات بھی مل جائیں گے جن کا جواب آج موجود نہیں ہے۔

Loading