Daily Roshni News

آئنسٹائن نے جب ثقلی لہروں کے بارے میں بتایا

آئنسٹائن نے جب ثقلی لہروں کے بارے میں بتایا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آئنسٹائن نے جب ثقلی لہروں (gravitational waves) کے بارے میں بتایا تو اس وقت ان کی تصدیق کرنا ممکن نا تھا اور شاید آئنسٹائن بھی یہ توقع نہ رکھتا تھا کہ کبھی ایسا ہوپائے گا۔ پھر 100 سال بعد 2015 میں پہلی بار (GW150914) ان ثقلی لہروں کو ڈیٹیکٹ کیا گیا جو اپنی نوعیت کی بہت بڑی خبر تھی۔

اس خبر نے یہ بتایا کہ دور بہت دور 1.3 ارب نوری سال کے فاصلے پر دو گمنام بلیک ہول آپس میں ٹکراتے ہیں، ان دونوں کی کمیت 29 اور 36 سورجوں کے برابر ہے، ان کے ٹکراؤ سے جو ثقلی لہریں پیدا ہوئیں، ان کی انرجی تین سورجوں کی کمیت کو مکمل توانائی میں تبدیل کرنے کے برابر تھی، وہ اتنا سفر کرکے ہم تک پہنچتی ہیں اور ہم صرف ان کے اس سگنل سے اتنا کچھ کیسے جان پائے ہیں۔ کیا سائنسدان اندازے لگاتے ہیں یا ہم سے جھوٹ بولتے ہیں ؟

فلکیاتی سائنس میں عموماً دور کے اجسام کے بارے میں معلومات کے حصول کا واحد ذریعہ ان اجسام سے آنے والی روشنی (برقی مقناطیسی لہریں) ہیں یا پھر اسپیس ٹائم کی چادر میں خم ڈالتی یہ ثقلی لہریں ہیں۔ آج ہم ان ثقلی لہروں میں چھپے رازوں کو دیکھتے ہیں۔

سال 2015 ستمبر 9 کو جب پہلی بار LIGO آبزرویٹری کے دو مختلف جگہوں پر نصب ڈیٹیکٹرز نے ایک (Chirp) سگنل کو ریکارڈ کیا جو یہ بتا رہا تھا کہ دو بلیک ہول آپس میں مدغم ہو کر ایک ہوگئے ہیں۔ ان بلیک ہولز کی کمیت 29 اور 36 سورجوں کے برابر ہے۔ اس چرپ سگنل میں یہ سب انفارمیشن کہاں سے آئی ؟

بلیک ہولز کے اس ٹکراؤ کے تین مرحلے ہیں۔ پہلا Inspiral مرحلہ جب بلیک ہولز ایک دوسرے کے گرد تیزی سے چکر لگاتے ہیں، یہ سگنل کی بڑھتی فریکوئینسی اور amplitude سے ظاہر ہوتا ہے، پھر دوسرا مرحلہ Merger کا ہے جب دونوں مل جاتے ہیں اور فریکوئینسی اور ایمپلیٹیوڈ اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ یہاں پر وہ gravitational radiation نکلتی ہے جو ہم تک روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے پہنچتی ہے۔ اور تیسرا مرحلہ Ringdown ہے جس میں نیا بننے والا بلیک ہول سکون کی طرف جاتا ہے اور چرپ سگنل آہستہ آہستہ ختم ہوجاتا ہے۔ ان سب مرحلوں کے دورانیے، فریکوئینسی، اور ایمپلیٹیوڈ کا انحصار ان اجسام کی کمیت پر ہوتا ہے۔

بلیک ہولز (GW150914) کا یہ چرپ سگنل 1 سیکنڈ سے بھی کم دورانیے کا تھا لیکن 7 ملی سیکنڈ کے بعد LIGO کے دوسرے ڈیٹیکٹر پر بھی موصول ہوا تھا جو اس کی سمت کے تعین کے لیے مفید تھا۔

سوال تو ابھی بھی باقی ہے کہ اس سگنل سے ان کی کمیت اور فاصلہ کیسے پتا چلا؟

آئنسٹائن کے عمومی نظریہ اضافت کے تحت بھاری اجسام کے آپس میں ایسے تعاملات (merger) کی کمپیوٹر سمولیشن بنائی گئیں اور ایسے chirp signals کا ایک بہت بڑا ڈیٹابیس (template bank) بنایا گیا جس میں دو بلیک ہول، دو نیوٹرون ستارے، ایک بلیک ہول اور نیوٹرون ستارہ کے آپس میں ایسے ملنے کا ماڈل بنا کر ایسے سگنلز کا ڈیٹا حاصل کیا گیا۔

اب حقیقی سگنلز کا ڈیٹا (چرپ سگنل) کو اس ڈیٹابیس میں ڈیٹا سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی سگنل میچ ہوجائے تو اس میں شامل اجسام کا ڈیٹا (chirp mass of the combined system) دیکھا جاتا ہے۔ اس template bank سے میچ ہونے والا ڈیٹا بتاتا ہے کہ اس ایونٹ میں کون سے اجسام ہیں اور ان کی کتنی کمیت ہے اور فاصلہ کتنا ہے. اب تک کی ڈیٹیکٹ کی گئی ثقلی لہروں کا ایک ڈیٹابیس بھی بنایا گیا ہے جو

Gravitational wave transient catalog (GWTC)

کے نام سے ہے جس میں آپ ایسے تمام ایونٹس کی تفصیل دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ chirp mass کی کیلکولیشن کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں تو وہ بھی آپ کو آسانی سے مل جائے گی جو ایسی طاقتور ثقلی لہروں کو پیدا کرنے والے اجسام کی انفرادی خصوصیات کو جاننے میں مدد کرے گی۔

✍️: تحرير ؛ Muhammad Ibrahim

Loading