آخر کب تک
تحریر۔۔۔نازپروین
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ آخر کب تک۔۔۔ تحریر۔۔۔نازپروین)پہلے وقتوں میں میرج بیورو کا کوئی تصور نہ تھا ۔جونہی لڑکا یا لڑکی سیانے ہوتے برادری رشتہ داروں میں ہی رشتہ طے کر دیا جاتا ۔۔جہیز کا سامان بھی سب مل جل کر بنا لیتے ۔کھانا بھی سادہ سا ہوتا ۔بارات اور ولیمے کا اہتمام گلی محلے کے بڑے گھر یا پھر گلی ہی میں شامیانے لگا کر کر لیا جاتا ۔۔طلاق کی شرح بے حد کم تھی بلکہ سننے میں ہی نہ آتا ۔۔آپس کی گھریلو رنجشیں دونوں خاندانوں کے بزرگ مل بیٹھ کر حل کر دیتے ۔۔۔سب کی عزتیں سانجھی تھیں ۔۔غم اور خوشیاں بھی ۔۔۔محلے کی ہر بچی ہر خاتون کی سب برابر کی عزت کرتے ۔۔۔انجان شخص کی محلے میں آمدورفت فوراً سب کو کھٹکتی ۔۔اس سے پوچھ گاچھ کی جاتی ۔محلے کی خواتین باہر نکلتیں تو سب نظریں جھکا لیتے ۔معصوم بچے رات گئے تک گلی میں کھیلتے رہتے ۔۔پڑوسیوں کے گھر بے دھڑک آتے جاتے ۔۔۔اور پھر ہم نے ترقی کر لی ۔۔۔گھر بڑے ہوتے گئے اور رشتے سکڑتے چلے گئے ۔۔محلے داری کا نظام ختم ہوتا چلا گیا ۔۔بڑی بڑی سوسائیٹیز بن گئیں ۔۔معاشی مسائل اور بدامنی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ۔۔پوش سوسائیٹیز کو تو چھوڑیں اب عام گلی محلے میں بھی کسی کو خبر نہیں کہ پاس پڑوس میں کون رہتا ہے ۔معاشرے کے راہ و رسم بھی بدلتے چلے گئے ۔اب جب تک لڑکا اپنے پاؤں پہ نہ کھڑا ہو شادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔اور اس انتظار میں اس کی عمر 30 ،35 سے اوپر ہو جاتی ہے ۔اعلیٰ تعلیم محفوظ مستبل کے شوق میں لڑکیاں بھی اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونا چاہتی ہیں ۔اور وہ بھی اب 30، 35 کے درمیان ہی جا کر شادی کرتی ہیں ۔دونوں جانب کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنا گھر ہو بینک بیلنس اور گاڑی ہو ۔۔اور اس انتظار میں ان بچوں کے بالوں میں میں چاندنی چمکنے لگتی ہے ۔اور پھر شادی کو بھی بے حد مشکل کر دیا گیا ہے ۔بے جا دکھاوا، اسراف ، عالی شان ہال اور مہنگی سجاوٹیں ۔۔۔رنگ رنگ کے طعام۔۔ ان سب کو پورا کرنے کے لیے بھی اچھا خاصا خرچ کرنا پڑتا ہے ۔۔لوگ کیا کہیں گے ۔۔صرف ایک جملے سے بچنے کے لیے ہم اپنے بچوں کی خوشیاں داؤ پہ لگا دیتے ہیں ۔۔۔پاکستان میں متوسط طبقہ سب سے زیادہ اس صورتحال کا شکار ہے ۔۔اور پھر غربت کے مارے لوگوں کا کیا کہیں ۔۔ان کے لیے تو دو وقت کی روٹی پورا کرنا بھی مشکل ہے ۔۔ایسی صورت میں نوجوان بچے اور بچیاں شادی کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔اور اب یہ مسئلہ صرف معاشی طور پر محدود نہیں رہا ۔۔اس کے بہت خطرناک اثرات نے ہمارے معاشرے کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔آئے روز معصوم بچے چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ۔۔کو جنسی تشدد کا شکار کر کے قتل کر دیا جاتا ہے ۔۔پہلے ایسے اکا دکا واقعات سننے کو آتے لیکن اب تو یہ روزانہ کا معمول بن گیا ہے ۔۔۔پشاور سے کراچی تک پورا پاکستان ان معصوم جانوں کی سسکیوں سے گونج رہا ہے ۔۔۔روزانہ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ ہر جگہ پر ایسے واقعات چیخ چیخ کر اس درندگی کا احوال سنا رہے ہوتے ہیں ۔۔خدانہ کرے کہ یہ ایک معمول بن جائے ۔۔۔کچھ واقعات میں مجرم پکڑے بھی جاتے ہیں لیکن ایک سروے کے مطابق صرف دو فیصد کو سزا ملتی ہے اور باقی عدم ثبوت کی بنا پر بری ہو جاتے ہیں ۔۔۔حال ہی میں سرگودھا میں ہونے والے واقعے کے مجرم کو پولیس مقابلے میں مبینہ طور پر ہلاک کر دیا گیا ۔۔اب اگر قانون اپنا کام نہیں کرتا اس میں موجود سقم کی بنیاد پر ایسے مجرم بری کر دیے جاتے ہیں تو پھر خدانخواستہ عوام قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ ۔عوامی سطح پر مہم چلائی جائے کہ ایسے جنسی زیادتی کے شکار بچوں کو دفنانی سے پہلے پولیس کو اطلاع کریں ان کے پہنے ہوئے کپڑے محفوظ کر لیں تاکہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے مجرموں تک پہنچا جا سکے ۔اور ایسے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔۔لیکن سوچنے کی بات ہے کہ کیا ایسی سخت سزاؤں کے نتیجے میں یہ واقعات تھم جائیں گے ۔۔۔ایک زمانہ تھا جب برطانیہ میں جیب کتروں نے سب کی ناک میں دم کر رکھا تھا ۔حکومت نے مجبور ہو کر جیب تراشی کی سزا پھانسی مقرر کی ۔۔ایک جیب تراش کو جب سر عام تختہ دار پر لٹکایا گیا تو اس کو دیکھنے کے لیے عوام کا جم غفیر جمع ہوا ۔ اس موقع پر اکثریت کی جیبیں کاٹ لی گئیں ۔۔۔سخت ترین سزائیں ایسے جرائم کی بیخ کنی نہیں کر سکتیں ۔ہمیں ایسے مجرموں سے کوئی ہمدردی نہیں ۔۔لیکن ہمیں سوچنا پڑے گا کہ آخر ہمارے معاشرے میں یہ درندگی کیسے پھیل گئی اس کے پس منظر میں کون سے عوامل کار فرما ہیں ۔۔۔ہم اپنے بچپن میں گلی محلے میں کھیلا کودا کرتے بے خوف ہو کر ۔۔۔۔لیکن اب تو یہ حال ہے کہ گلی محلہ تو چھوڑیں معصوم کمسن بچے اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ۔اس لیے کہ ایک معصوم کمسن بچہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو بیان نہیں کر سکتا ۔۔اسے تو سمجھ ہی نہیں آتی کہ اس کا اپنا قریبی رشتہ دار کیا کر رہا ہے کیا یہ غلط ہے یا درست ۔۔۔ اس کا تو اسے ادراک بھی نہیں ہوتا اور زیادہ تر واقعات میں ایسے بچوں کو دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں اور ڈرایا بھی جاتا ہے ۔۔ایک سروے کے مطابق اپنے گھر والوں اور قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاتھوں ہی زیادہ تر بچے جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں ۔۔گلی محلہ محفوظ نہیں سکول محفوظ نہیں اور اپنا گھر بھی ۔۔تو آخر امان کہاں ملے گی ۔۔۔یہ مسئلہ اتنا زیادہ گھمبھیر ہے کہ صرف حکومت کی قانون سازی سے حل نہیں ہونے والا.اس کو حل کرنے کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا ۔۔۔ہمارے ہاں ویسے بھی جنس پر بات کرنا قابل اعتراض سمجھا جاتا ہے ۔۔یہ ایک فطری جبلت ہے ۔۔اور اس سے کسی کو انکار نہیں ۔۔۔معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ۔۔۔خاص کر اساتذہ علمائے کرام جن کی پہنچ ہر جگہ تک ہے انہیں اپنے سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں مدرسوں اور مسجدوں میں سب کو اس کی تعلیم دینا ہوگی ۔ میڈیا پر اس سے متعلق پروگرام کرنے ہوں گے .ماہرین نفسیات کو ایسے پروگراموں میں بھلا کر پورے معاشرے کی کونسلنگ کرنا ہوگی ۔۔ایسے واقعات پر کھل کر بحث کرنا ہوگی ۔۔۔اور پھر معاشرے میں سادگی کاپر چار کرنا ہوگا ۔۔ٹھیک ہے کہ حکومت کی جانب سے نکاح کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر کر دی گئی ہے لیکن کیا ضروری ہے کہ اس کے بعد 30 سال تک شادی کا انتظار کروایا جائے ۔۔۔سادگی کا پرچار کریں سادگی اپنائیں اور لڑکے لڑکیوں کی جلد از جلد شادی کروائیں ۔۔ورنہ دوسری صورت میں یہ بچے بہک جاتے ہیں ۔۔اور غلط صحبت میں پڑ کر نہ صرف اپنا بلکہ کتنی معصوم جانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں ۔۔ان واقعات کے پس منظر میں دیکھیں تو ایک بڑی وجہ احساس محرومی بھی ہے ۔ہماری آبادی کا 40 فیصد سے زائد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے جبکہ نوجوانوں کی شرح 60 فیصد سے زیادہ ہے اب یہ نوجوان اگر بے روزگار اور محرومی کا شکار ہوں تو ظاہر ہے منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہوں گے ۔ان کے لیے زندگی کی سہولتیں ناپید ہیں۔۔تشدد غربت اور محرومی میں پلنے والے یہ بچے ذہنی طور پر انتشار کا شکار ہوتے ہیں اور آسانی سے بہک جاتے ہیں ۔حکومت عوام کی مشکلات کو دور کرے ۔مہنگائی کم ہو ۔کھیلنے کے لیے کھلے میدان ہوں ۔تفریح کے مواقع ہوں تو یہ نوجوان بہکنے سے بچ جائیں گے ۔۔حکومت نے قانون سازی تو کر دی ۔۔۔ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبی اور سیاسی ، مقتدر حلقوں کے خلاف ہرزہ سرائی پر فوراً سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا جاتا ہے ۔۔ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں آتی ہے ۔۔بسا اوقات غداری تک کے مقدمات چلائے جاتے ہیں ۔۔ہم اس کے خلاف نہیں ۔۔لیکن اس کے برعکس ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھرپور آزادی دی گئی ہے جہاں پر اخلاق باختہ ویڈیوز باآسانی دستیاب ہیں ۔۔ڈارک ویب جیسی سائٹس تک سب کی پہنچ ہے ۔۔ماہرین کے مطابق ایسی ویب سائٹس اور ویڈیوز کو دیکھنے کے بعد جنسی ہیجان پیدا ہوتا ہے۔۔خاص کر چائلڈ پورنوگرافی پر مشتمل ویڈیوز کھلے عام سوشل میڈیا پر چل رہی ہیں جنہیں دیکھنے کے بعد کچے ذہن خود اس گھناؤ نے فعل کو انجام دینے کی طرف راغب ہو جاتے ہیں ۔۔۔ہمارے قانون ساز ادارے آخر اس طرف توجہ کیوں نہیں دیتے ۔۔کہ ہماری ایک نسل ان کا شکار ہو کر اخلاقی دلدل میں دھنس رہی ہے ۔۔روزانہ کمسن بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے پس منظر میں یہی ویب سائٹس اور ویڈیوز کار فرما ہیں ۔۔۔جلد از جلد سوشل میڈیا سے ایسے سارے مواد کو ہٹا دیا جائے ۔۔۔اور یہ ہمارے سائبر کرائم جیسے اداروں کے لیے کچھ مشکل نہیں ۔سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ایسی ویب سائٹس کے خلاف کریک ڈاٶن کرے ۔۔محض مجرموں کو سخت سزائیں دینے سے یہ مسئلے حل نہیں ہوں گے ۔ حال ہی میں برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔اور ایسا کرنے والا یہ پہلا ملک نہیں ۔ انہیں بھی احساس ہو گیا ہے کہ معاشرے میں بگاڑ کی بڑی وجہ سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ہے ۔۔جس طریقے سے یہ جرائم پھیل رہے ہیں انہیں ایک سو نامی کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے کر تہس نہس کر رہا ہے ۔۔۔یہ نہ کہیں کہ ہمارے ہمسائے میں یہ واقعہ ہوا ۔۔۔ہم بھی محفوظ نہیں کل کو ہمارے بچوں کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ ۔۔۔اب ہمارے بچے کہیں بھی محفوظ نہیں ۔۔۔اور ہمیں اپنے بچوں کا حال اور مستقبل دونوں محوظ بنا نے ہوں گے ۔۔سادگی اپنائیں ۔۔۔بچوں کی شادی میں تاخیر نہ کریں ۔۔نکاح آسان بنائیں ۔۔۔سوشل میڈیا پر سخت قسم کی پابندی عائد ہو ۔۔قانون کی عمل داری ہو ۔ زندگی گزارنے کی بنیادی سہولتیں سب کو میسر ہوں ۔ایسے مجرموں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔علمائے کرام مسجدوں کے منبروں پر اپنے خطبات میں ایسے واقعات کو بیان کریں ۔اپنے عوام کی اخلاقی تربیت کریں ۔۔۔ہم میں ہر شخص کسی نہ کسی طریقے سے معصوم بچوں سے جڑا ہے ۔۔۔۔بیٹا بیٹی بھانجا بھانجی نواسہ نواسی پوتا پوتی یہ سب بہت پیارے رشتے ہیں ۔۔۔کیا آپ میں حوصلہ ہے کہ اپنے ان معصوم رشتوں کو اس طریقے سے جنسی درندگی کا شکار ہوتے دیکھیں ۔۔نہیں ناں ۔صرف آنسو بہانے سے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔تو آئیے سب مل کر معاشرے کے سدھار کی جانب توجہ دیں ۔۔اللہ ہم سب کے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔
نازپروین معروف کالم نگار اور پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کی ڈائیرکٹر ہیں.
📧 nazpervin@hotmail.com
![]()

