آدمؑ سے پہلے زمین کا وارث کون؟ ایک بھولا ہوا راز! – تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد )کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس نیلے سیارے کی تاریخ صرف انسانوں کے گرد گھومتی ہے؟
ذرا ٹھہریے!
تخلیقِ آدمؑ سے لاکھوں سال قبل، جب زمین پر انسان کا نام و نشان تک نہ تھا، تب بھی یہ دنیا سنسان نہیں تھی۔ یہ وہ دور تھا جس کے طلسماتی راز آج بھی ہماری قدیم تاریخ کے سینے میں دفن ہیں۔
اگر آپ یہ مان کر بیٹھے ہیں کہ ہم اس زمین کے پہلے اور واحد باسی ہیں، تو آج آپ کی یہ سب سے بڑی غلط فہمی دور ہونے والی ہے، کیونکہ زمین پر انسانوں سے پہلے ایک ایسی مخلوق کا راج تھا جس کی داستانیں سن کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
تاریخِ انسانی کے عظیم محققین اور اسلامی روایات، بالخصوص علامہ ابن کثیرؒ کی “البدایہ والنہایہ” کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے پہلے اس زمین پر “جنات” آباد تھے۔
لیکن کہانی یہاں سے بھی پیچھے جاتی ہے۔
روایات کے مطابق جنات سے بھی پہلے اس کائنات میں “حن اور بن” (Hinn and Binn) نامی عجیب الخلقت مخلوقات کا بسیرا تھا۔
یہ وہ گمنام مخلوقات تھیں جن کے خدوخال اور طرزِ زندگی کے بارے میں تاریخ آج بھی خاموش ہے۔
جب ان مخلوقات نے زمین کا سکون برباد کیا اور فساد برپا کیا، تو اللہ تعالیٰ نے جنات کو ان کے خاتمے کے لیے بھیجا۔ ایک طویل جنگ کے بعد حن اور بن کا صفایا ہو گیا اور یوں اس زمین کا اقتدار مکمل طور پر جنات کے ہاتھ میں آ گیا۔
مگر وقت کے ساتھ طاقت کا نشہ جنات کو بھی لے ڈوبا۔
انہوں نے اس خوبصورت زمین کو ظلم اور خون ریزی کا گڑھ بنا دیا۔
یہ وہ مقام تھا جب آسمانوں سے فرشتوں کا لشکر اترا اور ان باغی جنات کو مار مار کر سمندروں کے جزیروں اور گھنے ویرانوں کی طرف دھکیل دیا گیا۔
اور پھر کائنات کی تاریخ کا وہ عظیم ترین موڑ آیا جب اللہ نے زمین پر اپنا ‘خلیفہ’ بھیجنے کا ارادہ کیا۔
فرشتے ماضی کا انجام دیکھ کر بول اٹھے کہ
“کیا تو اسے بنائے گا جو اس میں فساد کرے اور خون بہائے؟”
مگر خالقِ کائنات کا حتمی فیصلہ آ چکا تھا،
“جو میں جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔”
یوں آدمؑ کی تخلیق ہوئی اور ہم انسان اس زمین کے نئے وارث قرار پائے۔
#سنجیدہ_بات
#آزادیات
#بلال #شوکت #آزاد
![]()

