Daily Roshni News

آزمائش۔۔۔ تحریر :  من مائل

آزمائش

تحریر :  من مائل

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ آزمائش۔۔۔ تحریر :  من مائل )نسرین نے جیسے ہی مٹی کے کچے گھر کے صحن میں قدم رکھا، اس کا چہرہ غصے اور حسد سے تپ رہا تھا۔ وہ دو دن اپنے میکے رہ کر آئی تھی اور ہمیشہ کی طرح وہاں سے اپنے دل میں طوفان سمیٹ لائی تھی۔ اس کے پیچھے دونوں بچے، ساجد اور نمرہ، کندھے لٹکائے اداس چہروں کے ساتھ اندر آئے۔

صحن میں بیٹھی بوڑھی اماں صابرہ نے تسبیح پڑھتے ہوئے سر اٹھایا، “آ گئیں بہو؟ خیریت تو ہے، چہرہ کیوں اترا ہوا ہے؟ اور بچے بھی اتنے خاموش ہیں؟”

نسرین نے ہاتھ میں پکڑا کپڑوں کا تھیلا مٹی کے فرش پر پٹخا اور چڑ کر بولی، “اماں! خیریت کہاں سے ہو؟ میکے گئی تھی تو وہاں اپنی قسمت پر رونے کو دل کر رہا تھا۔ میری دونوں بھابھیاں اپنے نئے ریشمی سوٹ اور سونے کی چوڑیاں دکھا دکھا کر طعنے دے رہی تھیں۔ کہتی ہیں ‘نسرین باجی! یہ والا جوڑا تو پانچ ہزار کا ہے، آپ کے بھائی نے عید سے پہلے ہی دلا دیا ہے، آپ نے  کیا کیا لیا ہے ؟’۔ اور ادھر بچوں کو دیکھو، میرے بھائیوں کے بچے اتنے بڑے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں، ٹائی لگا کر گاڑی میں جاتے ہیں۔ اور میرے بچے؟ اسی سرکاری اسکول کی دھول چاٹ رہے ہیں جہاں بیٹھنے کو ٹاٹ بھی نصیب نہیں!”

 اماں صابرہ نے دھیمے لہجے میں سمجھایا، “بہو! اللّٰہ نے ہر انسان کا رزق الگ لکھا ہے۔ رمضان اپنی بساط کے مطابق حلال کما کر لاتا ہے۔ بھابھیوں کے دکھاوے پر اپنا دل اور گھر خراب نہیں کرتے۔”

“اوہو اماں! بس کریں اپنی یہ نصیحتیں،” نسرین نے اکھڑ کر جواب دیا، “ان باتوں سے پیٹ نہیں بھرتا۔ وہاں میری بھابھی اپنے بچوں کو مہنگے برگر اور آئس کریم کھلا رہی تھی اور میرے بچے حسرت سے ان کا منہ دیکھ رہے تھے۔ مجھے تو وہاں بیٹھ کر اپنی غریبی پر شرم آ رہی تھی!”

اتنے میں ساجد نے دادی کے پاس جا کر روتے ہوئے شکایت کی، “دادی! ممانی کے گھر پر سب بچوں کے پاس نئے ویڈیو گیمز ہیں۔ میں نے کھیلنے کے لیے مانگا تو ممانی نے ہاتھ سے چھین لیا اور بولیں کہ ‘اپنے ابو سے کہو وہ دلا دیں، ہمارے پاس فالتو نہیں ہے’۔ سب کزن میرا مذاق اڑاتے ہیں کہ تمہارا باپ تو منڈی میں بوری اٹھاتا ہے۔”

 اماں صابرہ نے ساجد کا ہاتھ پکڑا، “میرا بچہ! صبر کرتے ہیں، اللّٰہ دیکھ رہا ہے۔”

“نہیں دادی! مجھے صبر نہیں چاہیے، مجھے بھی بڑے اسکول جانا ہے اور گیم چاہیے!” ساجد نے غصے سے پیر پٹخا اور اندر کمرے کی طرف بھاگ گیا۔ نمرہ بھی روتی ہوئی اپنی ماں کے دوپٹے سے لپٹ گئی۔

شام ڈھلے جب رمضان دن بھر کی سخت مزدوری کے بعد تھکا ہارا گھر لوٹا، تو نسرین نے صحن میں کھڑے ہو کر اس کا جینا حرام کر دیا۔

“آ گئے ہمارے سیٹھ صاحب! دن بھر مٹی اڑا کر چند روپے کما لائے؟” نسرین نے تیکھے لہجے میں کہا۔ “کب تک یہ فقیروں والی زندگی جیو گے؟ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے! میرے بھائی میرے حالات دیکھ دیکھ کر کڑھتے ہیں، وہ کہتے ہیں نسرین کو کس بے فقیر اور نااہل انسان کے پلے باندھ دیا جو اپنی بیوی بچوں کو دو وقت کی روٹی بھی عزت سے نہیں دے سکتا!”

رمضان نے  اماں صابرہ کی طرف دیکھا جو خاموشی سے سر جھکائے آنسو بہا رہی تھی، اور پھر نسرین سے دھیمی آواز میں بولا، “خدا کے لیے نسرین، اماں کے سامنے تو ایسی باتیں نہ کرو۔ کمرے میں چلو، وہاں بات کرتے ہیں۔”

کمرے میں جاتے ہی نسرین نے کواڑ زور سے بند کیا اور رمضان کے سامنے شیرنی کی طرح کھڑی ہو گئی۔

“ہاں! اب بولو، کمرے میں آ گئے، اب کیا صلہ دو گے میری اس بربادی کا؟” نسرین کی آواز میں زہر گھلا ہوا تھا۔ “دس سال ہو گئے رمضان! دس سال سے میں اس کچی کوٹھری میں تمہاری یہ غریبی برداشت کر رہی ہوں۔ جوانی مٹی میں رل گئی میری۔ اب میں مزید اس جہنم میں نہیں رہ سکتی!”

رمضان نے تھکے ہوئے انداز میں چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا، “نسرین، تم جانتی ہو میں منڈی میں جتنا حلال کما سکتا ہوں، کما لاتا ہوں۔ میں چوری یا بے ایمانی تو نہیں کر سکتا نا؟”

“تمہیں چوری کرنے کو کہہ کون رہا ہے؟” نسرین نے غصے سے پیر پٹخا۔ “تمہارے بھائیوں نے شہر میں کوٹھیاں بنا لیں، اور تم یہیں سڑ رہے ہو۔ سنو، اس بار جب میں میکے گئی تھی تو میرے بڑے بھائی نے پھر کہا ہے۔ وہ تمہیں چوتھی بار یہ آفر دے رہے ہیں کہ ان کے پاس کام پر لگ جاؤ۔ وہ تمہیں اپنے کاروبار کا حصہ بنانے کو تیار ہیں۔”

رمضان نے چونک کر نسرین کی طرف دیکھا، اس کا چہرہ فکرمند ہو گیا، “بڑے بھائی کے پاس؟ نسرین! تم اچھی طرح جانتی ہو میں نے پہلے بھی تین بار انکار کیوں کیا تھا۔

 تمہارا بڑا بھائی کون سا کام کرتا ہے، یہ پورا شہر جانتا ہے۔ وہ لوگوں کی مجبوریاں خریدتا ہے، وہ سود پر پیسے دیتا ہے اور سود لیتا ہے! وہ سود کا دھندا کرتے ہیں!”

“تو کیا ہوا؟” نسرین چِلائی، “آج کل کون سود نہیں کھا رہا؟ دنیا کی بڑی بڑی بینکیں سود پر چل رہی ہیں۔ وہ کوئی ڈاکا تھوڑی مار رہے ہیں، لوگوں کی ضرورت پوری کرتے ہیں اور اپنا منافع لیتے ہیں۔ تم اتنے پاک باز بنتے ہو، مجھے بتاؤ تمہاری اس حلال کی کمائی نے ہمیں کیا دیا ہے؟ یہ ٹوٹی ہوئی چھت؟ یہ پھٹے پرانے کپڑے؟”

“نسرین! سود لینا اور دینا، اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے خلاف کھلی جنگ ہے،” رمضان کی آواز کانپ رہی تھی۔ “میری بوڑھی ماں نے مجھے ہمیشہ حلال کی سوکھی روٹی کھلائی ہے لیکن کبھی حرام کا ایک لقمہ میرے حلق سے نیچے نہیں اترنے دیا۔ میں اس کچے مٹی کے گھر میں بھوکا مر جاؤں گا، لیکن سود کے پیسے سے اپنے بچوں کا پیٹ نہیں بھروں گا۔ میرے اصول…”

“حرام کر دیا ہے تم نے اپنے ان اصولوں کو ہماری زندگی پر!” میں کچھ نہیں جانتی نسرین نے بیچ میں بات کاٹی “بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے رمضان! تمہارے بچے اچھے کپڑوں اور کھلونوں کے لیے ترستے ہیں اور تمہیں اپنے اصولوں کی پڑی ہے۔ میرے بھائی نے کہا ہے کہ اگر تم کل صبح ان کے پاس جا کر ہاں کرو گے، تو وہ پہلے ہی مہینے تمہیں پچاس ہزار روپے نقد دیں گے، اور بچوں کا داخلہ شہر کے سب سے بڑے اسکول میں کروا دیں گے۔”

“میں نے کہہ دیا نا نسرین، میں سود کا حصہ نہیں بنوں گا!”

“تو پھر میری بات بھی کان کھول کر سن لو!” نسرین نے آخری پتا کھیلا، “اگر تم نے کل صبح میرے بھائی کے پاس جا کر ہاں نہ کی، تو میں بچوں کو لے کر ہمیشہ کے لیے میکے چلی جاؤں گی۔ اور وہاں جا کر عدالت سے خلع کا کیس دائر کروں گی۔ پھر اکیلے بیٹھ کر اپنی ماں کے ساتھ یہاں حلال کا ماتم کرنا۔ بچوں کی زندگی برباد کرنے کا حق میں تمہیں نہیں دوں گی۔ اب فیصلہ تمہارا ہے، تمہیں اپنی یہ سوکھی شرافت چاہیے یا اپنے بیوی بچے!”

نسرین یہ کہہ کر غصے سے بستر پر لیٹ گئی اور دوسری طرف منہ کر لیا۔

کمرے میں گھٹن زدہ خاموشی چھا گئی۔ رمضان کا دم گھٹنے لگا۔ وہ کمرے سے نکلا اور اپنے چھوٹے سے حجرے میں چلا گیا جہاں پرانا مصلّٰی بچھا تھا۔ کواڑ بند کر کے وہ سجدے میں گر گیا اور اس کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ اس کے آنسو کچی زمین پر گر کر مٹی کو بھگونے لگے اور وہ اپنے رب کے سامنے گڑگڑا کر رو پڑا۔

“یا باری تعالیٰ! یا میرے غفور الرحیم… میں تیرے سامنے ہارا ہوا انسان ہوں۔ میں محنت کرتا ہوں، فجر سے مغرب تک ہڈیاں توڑتا ہوں، لیکن میرے بچوں کے چہروں کی حسرتیں مجھے جیتے جی مار دیتی ہیں۔ میرے مولا! تو نے خود فرمایا تھا کہ مال اور اولاد آزمائش ہیں۔ آج تیرا یہ عاجز بندہ اس آزمائش میں گھٹنوں کے بل گر گیا ہے۔”

رمضان نے سجدے سے سر اٹھایا، ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے، اس کی ہچکی بندھ چکی تھی:

“اللّٰہ! میری بیوی کو دنیا کی آسائشیں چاہئیں، وہ مجھے سود کی دلدل میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ میری اولاد کو وہ سب چاہیے جو میں حلال کی مزدوری سے نہیں خرید سکتا۔

میری ماں کہتی ہے کہ صبر کر، لیکن جب ساجد اور نمرہ مجھے حسرت سے دیکھتے ہیں اور نسرین مجھے طعنے دیتی ہے تو میرا کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ مالک! مجھے کسی غلط راہ پر مت چلنے دینا، مجھے حرام کی لذت سے بچانا۔ لیکن میرے اللّٰہ! کوئی تو راستہ نکال، میں اپنے بچوں کو کھونا نہیں چاہتا، میں ایک باپ ہوں، مجھے ان کے سامنے اتنا بے بس اور لاچار مت کر… یا اللّٰہ! میرے ایمان کی حفاظت فرما…”

رمضان دیر تک روتا رہا، یہاں تک کہ اس کا گلا رندھ گیا اور وہ اسی مصلے پر بے دم ہو کر بیٹھ گیا۔

اگلی صبح، سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی رمضان کے سامنے زندگی کا سب سے تاریک چوراہا تھا۔ ایک طرف اس کا وہ ایمان تھا جو اس کی ماں نے اس کی روح میں پھونکا تھا، اور دوسری طرف اس کی بیوی کی دھمکی اور بچوں کا مستقبل تھا۔ وہ گھر کی دلیز پر کھڑا تھا اور اسے فیصلہ کرنا تھا کہ وہ منڈی جائے گا یا نسرین کے بھائی کے پاس سود کے اڈے پر۔

——————————

(جاری ہے…)

Loading