Daily Roshni News

آسمان کا راز ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔  سید  اسلم  شاہ

آسمان کا راز ۔۔۔۔۔

تحریر  ۔۔۔۔۔  سید  اسلم  شاہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ آسمان کا راز ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔  سید  اسلم  شاہ)ہماری دنیا کے اوپر سات آسمان ہیں ۔جتنی وسعت والی یہ دنیا ہے ۔۔۔۔ آسمان بھی اتنی ہی وسعت والا ہے ۔

۱۔  پہلا آسمان ہمارے ہی اوپر ہے جہاں تک آکسیجن ہے وہاں تک یہ والا آسمان ہے۔ یعنی تقریبا اکیس ۲۱ کلومیٹر یعنی اڑسٹھ ہزار نو سو فٹ ۶۸۹۰۰ فٹ تک ۔  دنیا میں آج تک کوئی اس سے اوپر نہیں جاسکا وہ اس لیئے کہ اس سے اوپر والا آسمان انسان ابھی تک مسخر نہیں کر سکا ہے ۔ انسان نے ناسا سے ہٹ کر بے شمار تجربات کیئے ہیں اس سے اوپر جانے کے ۔ بیلون کے ساتھ اور راکٹ کے ساتھ ۔  ساٹھ ہزار ۶۰۰۰۰ فٹ کی بلندی سے اوپر کسی قسم کے میٹر کام نہیں کرتے لہذا یہ ثابت ہی نہیں کیا جاسکتا کہ کون اس سے اوپر گیا ہے۔ جو جتنی مرضی گپ لگا لے یا پھر مصنوعی میٹر دنیا کو دیکھا کر بے وقوف بنا کر اپنی قابلیت کا اظہار کرے  ۔ ۵۸ یا ۶۰ ہزار فٹ سے اوپر جس نے بھی اپنی بلندی ثابت کی تھی وہ اس کا اپنا مفروضہ ہی تھا کیونکہ اس سے اوپر کوئی میٹر کام نہیں کرتے۔  ۶۸،۹۰۰ فٹ سے کچھ پہلے ہی جہاز کے پر رک جاتے ہیں ۔ انجن بند ہوجاتا ہے ۔ اگر بیلون بھیجا جائےتو بیلون پھٹ جاتے ہیں اور اگر راکٹ بھیجا جائے تو راکٹ ٹکرا کر نیچے گر جاتے ہیں ۔ اس طرح کے زیادہ تر تجربات  میں انسان خود نہیں جاتا کیونکہ زندگی خطرے میں ہوتی ہے بلکہ انسان کیمروں کے ساتھ ایسی چیزیں تجربات حاصل کرنے کے لیئے بھیجتا ہے ۔

۲۔   ۲۱   کلومیٹر یعنی اڑسٹھ ہزار نو سو فٹ ۶۸۹۰۰ فٹ کی بلندی کے بعد دوسرا آسمان شروع ہو جاتا ہے ۔ اس آسمان میں زمین کی کشش ہے لیکن بہت ٹھوس قسم کی عجیب و غریب قسم کی گیسس ہیں ۔ جن کی بنا پر اب تک انسان اس کو کراس نہیں کر سکا ۔۔ بہت لوگوں نے بہت تجربات کیئے ہیں اور اس سے اوپر جانے کی بہت کوشش کی ہے لیکن اب تک کوئی انسان کامیابی حاصل نہیں کر سکا ۔

یہ آسمان عجیب طرح کا ہے اس کی گیسس کی خاصیت یہ ہے کہ نیچے سے ترچھا دیکھنے سے اوپر والی چیز اپنے سائز سے زیادہ بڑی نظر آتی ہے ۔ یعنی جتنا زیادہ اینگل ہوگا دور جاتا چاند اور سورج بجائے چھوٹا دیکھلائی دینے کے مزید بڑا دیکھلائی دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سورج اور چاند دور سے طلوع اور غروب کے وقت اپنے سائز سے بڑے دیکھلائی دیتے ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہی ستارے بھی دور تک نظر آتے رہتے ہیں۔

۳۔  اس عجیب قسم کی  ٹھوس گیسس کے بعد تیسرا آسمان شروع ہو جاتا ہے ۔ اس آسمان میں صرف چاند ہے ۔ اور زمین کی کشش نہیں ہے ۔

اس آسمان میں چاند زمین کے سنٹر کے گرد گھوم رہا ہے ۔ اس آسمان کی گیسس کی وجہ سے چاند دنیا کے سینٹر کے گرد ہر ماہ میں ایک مرتبہ اپنا مدارآہستہ آہستہ  پھیلاتا اور چودہ دن بعد آہستہ آہستہ  سکیڑتا ہے ۔ چاند میں آدھا مرکب اس طرح کا ہے کہ سورج کی روشنی پڑنے پر وہ چمکتا ہے اور نور دینا شروع کر دیتا ہے اور باقی آدھا مرکب نارمل ہے  جس کو سورج کی روشنی سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اسی وجہ سے وہ نہیں چمکتا ۔ چاند اپنے ہر ماہ مین ایک دفعہ اپنے گرد بھی ایک چکر لگاتا ہے اور ساتھ ساتھ دنیا کے سینٹر کے گرد بھی گھومتا ہے ۔  جب چاند اپنے گرد گھومتا ہے تو اس کا وہ حصہ جو سورج کی روشنی سے منور ہوتا ہے وہ گھومتا ہوا نیچے کی طرف آتا ہے تو چا ند کی روشنی نظر آنا شروع ہوجاتی ہے اور تقرینا چودہ دنوں بعد پورا روشن نظر آتا ہے ۔ جب  چودہ دنوں کے بعد مکمل روشن ہو جاتا ہے تو روشن حصہ اوپر کی طرف جانا شروع کر دیتا ہے اور آہستہ آہستہ چودہ دنوں بعد مکمل غیر روشن ہو جاتا ہے ۔  چاند کی اسپیڈ سورج سے سلو ہے ۔ چاند اوسطا روزانہ بیالیس ۴۲ منٹ اور تریپن  ۵۳ سیکنڈ سورج کے مدار کی نسبت پیچھے رہ جاتا ہے ۔

چاند کبھی کبھی اپنے ہی آسمان پر رہتے ہوئے اپنے مدار سے نیچے آجاتا ہے اس وجہ سے اپنے سائز سے بڑا دکھلائی دینے لگتا ہے ۔

۴۔  اس کے بعد چوتھا آسمان شروع ہو جاتا ہے ۔ اس آسمان پر صرف سورج ہے ۔ اور زمین کی کشش نہیں ہے ۔ یہ آسمان بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ اس آسمان میں سورج زمین کے لامتناہی گرونڈ ( جس کی حدوں کو کوئی سوچ بھی نہ سکے ) کے سنٹر کے گرد چکر لگا رہا ہے ۔

سورج اپنا سب سے چھوٹا چکر اکیس ۲۱ جون کو لگاتا ہے اور اپنا سب سے لمبا چکر اکیس ۲۱ دسمبر کر لگاتا ہے ۔

اپنا درمیانہ چکر اپنی درمیانی سپیڈ کے ساتھ اکیس ۲۱ مارچ اور پھر دوبارہ اکیس ۲۱ ستمبر کو لگاتا ہے ۔ دنیا کا گرونڈ اسقدر بڑا ہے اور سورج اسقدر نیچے ہے جس کی وجہ سے ایک وقت میں ساری دنیا کو روشن نہیں کر سکتا ۔ بلکہ جہاں جہاں گھوم کر جاتا ہے روشنی دیتا ہے اور جب زیادہ دور ہو جاتا ہے تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غروب ہوگیا ۔ اور جب دوبارہ گھوم کر واپس آتا ہے تو صبح ہو جاتی ہے ۔

سورج ساری دنیا میں ایک وقت میں روشنی اس لیئے نہیں پھینک سکتا کیونکہ نمبر ایک سورج بہت نیچے ہے، نمبر دو  نیچے آکسیجن ہے، نمبر تین نیچے نمی ہے اورنمبر چار  پلوشن ہے ۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر ایک وقت میں ہر جگہ روشنی نہیں پھیلتی بلکہ سورج کو اپنی روشنی اور حرارت پہچانے لے لیئے گھومنا پڑتا ہے  اسی وجہ سے جوں جوں ہم بلندی پر جاتے ہیں سورج بھی دیر سے غروب ہوتا ہے یا پہلے طلوع ہوتا ہے  ۔

 اس پیج کی کور پیکچر پر غور کریں یہ تصویر بھی کافی بلندی سے بادلوں سے اوپر سے لی گئی ہے اور دیکھیں کیسے بادلوں سے اوپر سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا ہے  اور آدھے بادلوں پر غروب ہوگیا ہے آدھے پر نہیں ہوا ہے ۔

سورج کے آسمان کی گیسس ایسی ہیں جن کی وجہ سے ہی سورج کی روشنی ماند نہیں پڑتی ۔۔ اور اس آسمان کی گیسس ہی سورج کے دائرے کو ہر چھ ماہ تک  آہستہ آہستہ نارتھ کے نزدیک لاتی ہیں اور ہر چھ ماہ تک آہستہ آہستہ نارتھ سے دور کرتی رہتیں ہیں ۔ سورج اپنے مدار کو پھیلاتا اور سکیڑتا ہے تاکہ ہر جگہ موسم بدلتے رہیں اور ہم خالق کا شکر کرتے رہیں ۔

۵۔ اس کے بعد پانچواں آسمان شروع ہوجاتا ہے یہ آسمان صرف تاروں کے لیئے ہے ۔۔ دنیا کے تمام ستارے گردش کر رہے ہیں ۔۔ سب سے چھوٹی گردش نارتھ کا ستارہ کرتا ہے ۔ اس کی گردش اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ لگتا ہے کھڑا ہے ۔ نارتھ پول کے اوپر والےستارے دنیا کے ساؤتھ کے ملکوں کو نظر نہیں آتے یہ اسلیئے کیونکہ ان کا فاصلہ کافی بڑھا ہوا ہوتا ہے ۔ جیسے جیسے نارتھ یعنی دنیا کے سنٹر سے ستارے دور ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے ان کا دائرہ بڑھتا جاتا یے اور ساتھ ساتھ اسپیڈ بھی بڑھتی جاتی ہے ۔۔ سب سے لمبا دائرہ اور سب سے تیز اسپیڈ ساؤتھ کی طرف کے ستاروں کی ہوتی ہے ۔۔

یہ تمام ستارے اپنے آسمان میں گردش کر رہے ہیں اور سورج سے کافی چھوٹے ہیں ۔ تمام ستاروں کی روشنی سفید یعنی دودھیا ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی کوئی نیا ستارہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی کبھی ایسا ستارہ آجاتا ہے جس کی روشنی سورج جیسی پیلی ہوتی ہے ۔

ستاروں کی تعداد کم اور زیادہ ہوتی رہتی ہے زیادہ تر ستارے اپنے آسمان سے نہیں نکلتے لیکن اگر کوئی نکل جائے تو تباہ ہوجاتےہیں اور شہاب ثاقب بن جاتے ہیں ۔

ہر ستارہ اپنا چکر چوبیس ۲۴ گھنٹے میں ہی پورا کرتا ہے ۔

۶۔ اس کے بعد چھٹا آسمان شروع ہو جاتا ہے ۔۔ یہ آسمان غالبا دوسرے آسمان جیسا ہی ہے ۔ اس میں دوسرے آسمان کی طرح کی ٹھوس گیسس ہیں ۔ یہی وجہ ہے کی شہاب ثاقب کبھی اوپر کی جانب آوٹ ہوتے ہوئے نہیں نظر آتے ۔ لیکن ایک بہت بڑا فرق ہے ۔ اس آسمان کی کشش زمین کی طرف نہیں بلکہ آسمان کی طرف ہوتی ہے . یعنی الٹی کشش ہوتی ہے ۔

۷۔ اس کے بعد آخری یعنی ساتواں آسمان آجاتا ہے۔ یہ بھی غالبا اس دنیا کے اوپر کے پہلے آسمان کی طرح کا آسمان ہے یعنی  آکسیجن کے ساتھ  ہے اور کشش بھی ہے ۔ لیکن الٹی کشش ہے یعنی اوپر کی جانب کشش ہے ۔

اور اس آخری آسمان کے اوپر غالبا پانی ہے ۔۔

لیکن اس کے علاوہ اور کیا کیا ہے کوئی نہیں جانتا سوائے خالق کے ۔۔ جیسے یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ اس دنیا کے نیچے کیا ہے ۔

ان تمام آسمانوں میں ۔۔۔۔ آسمانوں کے خالق کی شان ہے جو بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے .

Loading