آسمان کے ان گنت مسافر: ستاروں کی گنتی کیسے ممکن ہوئی؟
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ آسمان کے ان گنت مسافر: ستاروں کی گنتی کیسے ممکن ہوئی؟۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی )رات کی پراسرار خاموشی میں جب ہم سر اٹھا کر نیلمی آسمان کی وسعتوں کو دیکھتے ہیں، تو ستاروں کی جھلملاہٹ ہمیں دنگ کر دیتی ہے۔ عام طور پر ایک سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ: “جب ہم ایک مٹھی چاول نہیں گن سکتے، تو سائنسدانوں نے کھربوں ستاروں کا حساب کیسے لگا لیا؟ کیا یہ محض ایک تکہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی ٹھوس حقیقت ہے؟”
بقولِ شاعر:
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا، نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی
آئیے، اس گتھی کو نہایت سادہ اور علمی انداز میں سلجھاتے ہیں۔
1۔ چاول کے تھیلے کی مثال (شماریاتی تخمینہ)
سائنسدان ایک ایک ستارے کو انگلی رکھ کر نہیں گنتے، بلکہ وہ “نمونہ سازی” (Sampling) کا طریقہ اپناتے ہیں۔ فرض کریں آپ کے پاس چاول کا ایک بڑا تھیرا ہے۔ آپ اس میں سے ایک چھوٹا سا چمچ بھر کر نکالتے ہیں اور دانے گنتے ہیں (فرض کریں 100 دانے)۔ پھر آپ دیکھتے ہیں کہ پورے تھیلے میں ایسے کتنے چمچ آ سکتے ہیں۔
اسی طرح، ہبل (Hubble) جیسی طاقتور دوربینیں آسمان کے ایک نہایت چھوٹے سے حصے کی تصویر لیتی ہیں، وہاں کے ستارے گنتی ہیں اور پھر اسے پوری کائنات کے رقبے سے ضرب دے دی جاتی ہے۔
2۔ کہکشاں کا وزن (ترازو کا کمال)
یہ سب سے حیران کن طریقہ ہے۔ سائنسدان کہکشاں (Galaxy) کی گردش اور اس کی کششِ ثقل (Gravity) کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس سے کہکشاں کا “کل وزن” معلوم ہو جاتا ہے۔ اب اگر ہمیں پوری کہکشاں کا وزن معلوم ہو، تو اسے ایک اوسط ستارے (جیسے ہمارا سورج ہے) کے وزن پر تقسیم کر کے ستاروں کی کل تعداد معلوم کر لی جاتی ہے۔ گویا ہم کہکشاں کو گنتے نہیں، بلکہ اس کا “تول” کرتے ہیں۔
3۔ یہ گنتی کون کرتا ہے؟
یہ کام اب انسانوں کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔ اب یہ فریضہ سپر کمپیوٹرز اور روبوٹک مشنز (جیسے یورپی خلائی ایجنسی کا Gaia مشن) انجام دے رہے ہیں۔ یہ مشن سیکنڈوں میں کروڑوں ستاروں کی دوری، چمک اور ان کی حرکت کا ڈیٹا پراسیس کرتے ہیں۔
4۔ کائنات کی وسعت: ریت کے ذرے بمقابلہ ستارے
سائنس کا اندازہ ہے کہ مشاہداتی کائنات میں ستاروں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر آپ زمین کے تمام ساحلوں اور صحراؤں کی ریت کے ایک ایک ذرے کو بھی گن لیں، تو آسمان کے ستاروں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ نکلے گی!
فکری پیغام: “اللطیف و الخبیر”
یہ اعداد و شمار ہمیں اس عظیم خالق کی قدرت کی طرف لے جاتے ہیں جس نے کائنات کو ایک خاص تناسب اور حساب سے پیدا کیا۔ وہ ذات جس نے ستاروں کو راستہ دکھانے کا ذریعہ بنایا، وہی ان کے دقیق حساب سے بھی باخبر ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ”
(اور راستے کی نشانیاں بنائیں، اور لوگ ستاروں کے ذریعے (راستوں کی) رہنمائی پاتے ہیں۔ سورۃ النحل: 16)
حاصلِ بحث: سائنسدانوں کا بتایا ہوا ہندسہ صرف “اندازہ” نہیں بلکہ ریاضیاتی اور طبعی قوانین پر مبنی ایک مستند حقیقت ہے۔
#ScienceAndQuran #Astronomy #CountingStars #MilkyWay #Universe #MakkahResearch #TariqIqbalSohdravi #SpaceExploration #سائنس_اور_قرآن #ستاروں_کی_دنیا #فلکیات #تحقیق #اللہ_کی_قدرت
![]()

