آل ابراہیم سے مراد کون ؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آپ کا سوال یہ ہے کہ ہم درودِ ابراہیمی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آلِ محمد اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ آلِ ابراہیم پر بھی درود بھیجتے ہیں؛ تو اگر ’’آل‘‘ سے مراد خاندان اور اولاد ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں #یہودی بھی شامل ہیں، کیا اس طرح ہم #یہودیوں پر بھی درود بھیج رہے ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اصل غلط فہمی لفظ ’’آل‘‘ کے مفہوم کو صرف ’’خاندان اور اولاد‘‘ تک محدود کردینے سے پیدا ہوئی ہے۔ عربی زبان میں ’’آل‘‘ کا مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے۔ یہ لفظ بعض مواقع پر خاندان اور اہلِ بیت کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن بہت سے مقامات پر اس سے کسی شخص کے پیروکار، حامی، مددگار، متبعین اور اس کے طریقے سے وابستہ لوگ مراد ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہر مقام پر ’’آل‘‘ کا ترجمہ صرف ’’اولاد‘‘ یا ’’نسل‘‘ کرنا عربی استعمال کے ساتھ انصاف نہیں۔
قرآن مجید خود اس معنی کی نہایت روشن اور فیصلہ کن مثال پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَأَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾، یہاں ’’آلِ فرعون‘‘ سے مراد محض فرعون کی اولاد اور خونی رشتہ دار نہیں ہوسکتے۔ فرعون کی حکومت، اس کے اقتدار، اس کے ظلم اور اس کے باطل نظام کے ساتھ وابستہ اس کے حامی، اعوان و انصار اور پیروکار بھی اس نسبت میں شامل ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کے اسلوب میں ’’آل‘‘ کا مفہوم محض نسبی خاندان تک محدود نہیں بلکہ اتباع اور وابستگی بھی اس کے مفہوم میں داخل ہے۔
اسی طرح عربی زبان کے قدیم شعری اور نثری استعمال میں بھی ’’آل‘‘ ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہوا ہے جو کسی شخص سے اس کے خاندان کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ، اس کے طریقے، اس کے اقتدار یا اس کی پیروی کی وجہ سے وابستہ ہوں۔ عربی لغت کا مطالعہ کرنے والے اہلِ علم کے لیے یہ استعمال کوئی اجنبی چیز نہیں۔
اس لیے درودِ ابراہیمی کو سمجھتے ہوئے سب سے پہلے یہ اصول ذہن میں رکھنا چاہیے کہ نسب اور اتباع ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ کوئی شخص حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہوسکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معنوی ’’آل‘‘ میں بھی شامل ہو۔ اسی طرح کسی شخص کا نسبی تعلق نہ ہو، لیکن وہ ایمان، اتباع اور دینی وابستگی کی بنا پر کسی نبی کے ’’آل‘‘ کے مفہوم میں داخل ہوسکتا ہے۔
قرآن کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے اسی حقیقت کو ایک نہایت جامع اصول کے طور پر بیان کیا ہے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذریت کے بارے میں دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ﴾ یعنی ’’میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔‘‘
اس آیت میں ایک بنیادی قرآنی حقیقت واضح کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محض نسبی تعلق کوئی ایسی سند نہیں جو انسان کو دینی فضیلت یا الٰہی عہد کا مستحق بنادے۔ نسب اپنی جگہ ایک نسبت ہے، لیکن اللہ کے ہاں اصل وزن ایمان، اطاعت، تقویٰ اور حق کی پیروی کا ہے۔
اب درودِ ابراہیمی کے الفاظ کو سامنے رکھیے: اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ… یہاں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ’’آل‘‘ کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قیامت تک آنے والی تمام نسلی اولاد، خواہ وہ ایمان لائے یا انکار کرے، خواہ وہ ان کے دین کا پیرو ہو یا مخالف، سب کے لیے یکساں طور پر درود کی دعا کی جارہی ہے۔ ایسا مفہوم نہ لفظ ’’آل‘‘ کے وسیع عربی استعمال سے لازم آتا ہے اور نہ دینی اصولوں سے۔
بلکہ یہاں ’’آل‘‘ کو اس کے دینی و معنوی مفہوم کے ساتھ سمجھنا چاہیے؛ یعنی وہ لوگ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین، ایمان اور طریقِ حق سے وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم نے ’’آل‘‘ کے مفہوم کو صرف قرابتِ نسبی تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس میں اہل، پیروکار، متبعین اور دینی وابستگان کے معانی بھی بیان کیے ہیں۔
یہاں ایک اور نہایت اہم نکتہ قابلِ توجہ ہے۔ اگر ’’آل‘‘ کا مفہوم ہر جگہ صرف ’’اولاد‘‘ ہی ہوتا، تو قرآن مجید کا ’’آلِ فرعون‘‘ کہنا ایک مشکل تعبیر بن جاتا؛ کیونکہ فرعون کے تمام حامی اور پیروکار اس کی نسلی اولاد نہیں تھے۔ قرآن کا یہ استعمال خود اس بات کی دلیل ہے کہ ’’آل‘‘ کا دائرۂ مفہوم نسب سے آگے بڑھ کر اتباع، نصرت اور وابستگی کو بھی شامل ہوتا ہے۔
اسی حقیقت کو سمجھنے سے درودِ ابراہیمی کا یہ اشکال بھی از خود دور ہوجاتا ہے۔ ہم جب آلِ محمد یا آلِ ابراہیم کہتے ہیں تو ضروری نہیں کہ ہمارے ذہن میں ان حضرات کی ہر نسلی اولاد ہو؛ بلکہ لفظ اپنے سیاق کے مطابق ان لوگوں کی طرف اشارہ کرسکتا ہے جو ان سے دینی اور معنوی نسبت رکھتے ہیں۔
یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ درود محض کسی شخص کے لیے خیر کی عمومی دعا کا نام نہیں، بلکہ نبی کریم ﷺ کی تعلیم کردہ ایک مخصوص عبادت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ سے نبی اور ان سے وابستہ اہلِ ایمان کے لیے رحمت، برکت، رفعت اور خصوصی عنایت کی دعا کی جاتی ہے۔ اس لیے اس کے الفاظ کو محض خونی رشتوں کے دائرے میں مقید کرکے سمجھنا درست نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں اگر کوئی ایسا شخص ہو جو ان کے دین و ایمان کا پیرو نہیں، تو محض نسب کی بنا پر اسے ’’آلِ ابراہیم‘‘ کے اس دینی مفہوم میں داخل نہیں کیا جاسکتا جس پر درود بھیجا جارہا ہے۔ یہودیوں کے بارے میں بھی یہی اصول ہے۔ ان میں کسی کا نسبی تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہونا ایک تاریخی و نسلی نسبت ہوسکتی ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ درودِ ابراہیمی میں مذکور ’’آلِ ابراہیم‘‘ کے معنوی مفہوم میں شامل ہو۔
میں نے اپنی شرحِ صحیح مسلم میں بھی اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے اسی بنیادی نکتے کی وضاحت کی ہے کہ ’’آل‘‘ کو صرف ’’خاندان اور اولاد‘‘ کے معنی میں محدود کردینا عربی زبان کے وسیع اور معروف استعمال کو نظر انداز کرنا ہے۔ قرآن کریم کے استعمال، عربی لغت اور قدیم عربی شاعری کے شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ’’آل‘‘ میں اتباع، نصرت اور وابستگی کے معانی بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں۔
لہٰذا درودِ ابراہیمی پڑھتے ہوئے یہ اشکال پیدا کرنا کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہر نسلی اولاد، حتیٰ کہ ان لوگوں پر بھی درود بھیج رہے ہیں جو ان کے دین کے منکر ہیں، لفظ ’’آل‘‘ کے مفہوم کو غیر ضروری طور پر محدود کرنے کا نتیجہ ہے۔ عربی زبان کی وسعت، قرآن کے استعمال اور حدیث کے سیاق کو سامنے رکھا جائے تو یہ اشکال باقی نہیں رہتا۔
ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ
![]()

