Daily Roshni News

آواز کی ملکہ ۔۔۔ تحریر ۔۔۔حقیقت اور فسانہ

آواز کی ملکہ

تحریر ۔۔۔حقیقت اور فسانہ ۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ آواز کی ملکہ ۔۔۔ تحریر ۔۔۔حقیقت اور فسانہ )لوگ کہتے ہیں صحرا میں رہنے والوں کی آواز میں ایک الگ سی کشش ہوتی ہے، جیسے ریت پر چلتی ہوا کا رخ بدل دے۔

میں نے یہ بات سچی پائی۔

میری ماں جب گاتی تھی تو چولستان کی تپتی ہوئی زمین ٹھنڈی ہو جاتی تھی۔ اس کی آواز میں وہ درد تھا جو صحرا کی ویرانیوں میں پلتا ہے، وہ امید جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔

اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی وہی تحفہ دیا۔ میرے گالوں کے ڈیلے تو مٹی سے بنے تھے، لیکن میرا حلق کسی بلبل سے کم نہ تھا۔ میری عمر پانچ سال تھی، اور گاؤں کے لوگ کہتے، “یہ لڑکی تو اپنی ماں سے بھی زیادہ سریلی ہے۔ سروں کی ملکہ بن کر آئی ہے۔”

مجھے ان باتوں پر فخر تھا۔

ہمارا گزارہ بھی اسی گانے سے تھا۔ موسم بہار کا میلہ لگتا تو ہم تینوں — میں، اماں، اور ابا — چولستان سے نکل کر بہاولپور کے قریبی گاؤں پہنچ جاتے۔ اماں گاتی، ابا ڈھولک پر ہاتھ پھیرتے، اور میں ان کے پاؤں سے لگ کر بیٹھ جاتی۔ ہجوم اکٹھا ہوتا، لوگ سر پھیر کر گانے سنتے، اور ہماری جھولی روپوں سے بھر جاتی۔

وہ رقم سال بھر کا سہارا ہوتی۔

وہ دن بھی ایسا ہی تھا۔ میلے میں رنگ برنگے جھولے تھے، چنا چبھنے والی چھولیاں تھیں، اور ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ اماں نے اپنا سب سے اچھا صحرائی گیت چھیڑا۔

“آ جا وے سانول، آ جا…”

میری اماں کی آواز جب بلند ہوئی تو میلے کا شور دھیرے دھیرے خاموش ہوتا چلا گیا۔ لوگ اکٹھے ہو گئے۔ میں ان کی ٹانگوں کے درمیان سے جھانکتی رہی، اپنی اماں کو دیکھتی رہی۔

گانا ختم ہوا تو ہجوم نے تالیاں بجائیں۔ لوگ آگے بڑھے، روپے ڈالنے لگے۔

اسی ہجوم میں میں کہیں کھو گئی۔

میں نے اماں کو پکارا، “اماں! امان!”

لیکن آواز شور میں گم ہو گئی۔ میری آنکھیں ہر طرف دوڑنے لگیں۔ چاروں طرف اجنبی چہرے تھے، اجنبی ٹانگیں۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

تبھی ایک عورت اور مرد میرے قریب آئے۔ عورت کے چہرے پر بڑی سی شفقت تھی، اور اس کے ہاتھ میں گڑ کی ڈلی تھی۔

وہ جھکی اور بولی، “رو نہ بیٹا، تیرے اماں ابا سامنے درخت کے نیچے کھڑے تیرا انتظار کر رہے ہیں۔ چل، میں لے چلوں تجھے۔”

مجھے یقین آ گیا۔

میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

وہ مجھے لے کر چلی۔ مرد پیچھے پیچھے تھا۔ ہم میلے سے باہر نکلے، پھر کچی سڑک پر آئے، پھر ایک گلی میں گھس گئے۔

میں نے پوچھا، “اماں کہاں ہیں؟”

عورت نے سر ہلایا، “بس پہنچے۔”

وہ ایک ادھوری سی کوٹھری میں لے گئی۔ دروازہ بند ہوا تو میری سمجھ میں آ گیا۔

یہ لوگ میرے ماں باپ نہیں تھے۔

میں نے چیخنا شروع کر دیا۔ عورت نے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ مرد نے کہا، “چپ کر، ورنہ…”

وہ رات میرے لیے قیامت تھی۔

اس گھر میں پانچ چھ اور بچے بھی تھے۔ سب کی آنکھوں میں وہی خوف تھا جو میری آنکھوں میں تھا۔ میں نے ان سے پوچھا، “تمہارے اماں ابا کہاں ہیں؟”

ایک بڑی بچی نے کہا، “یہ ہمارے اماں ابا ہیں۔”

میں نے کہا، “یہ جھوٹ بولتے ہیں۔”

اس نے میری طرف دیکھا اور کچھ نہ بولی۔

مرد وہاں سے چلا گیا۔ عورت نے مجھے گود میں اٹھایا اور کہا، “بیٹا، میں تیری ماں ہوں۔ یاد رکھ۔ اگر کسی سے کہا کہ میں تیری ماں نہیں ہوں، تو تجھے کچا کھا جاؤں گی۔”

وہ رات میرے دل میں بیٹھ گئی۔

پھر اگلے دنوں میں ڈھل گئی۔ میں نے گانا چھوڑ دیا۔

نئی اماں مجھ سے گانے کے لیے کہتی، لیکن میرا گلا بند ہو چکا تھا۔ وہ مجھے مارتی، کہتی، “گانا کیوں نہیں گاتی؟ میں نے تجھے کھلایا پلایا ہے، تو میرا بھی حق ہے۔”

میں خاموش رہتی۔

ایک دن اس نے مجھے کونے میں بٹھا کر کہا، “تمہارے حقیقی ماں باپ تمہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ تم کوئی یتیم ہو۔ میں نے تم پر رحم کیا ہے۔”

میں نے کہا، “نہیں، تم جھوٹ بولتی ہو۔ میرے اماں ابا میلے میں گیت گاتے تھے۔”

اس نے میرے منہ پر تھپڑ رسید کیا۔

پھر اس نے مجھے گھر میں بند کر دیا۔

کھانا بھی نہ دیا۔

میں بھوکی رہی، پھر بھی نہ گائی۔

تین دن بعد وہ میرے پاس آئی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، ہاتھ میں چھری تھی۔ اس نے کہا، “آخری بار کہہ رہی ہوں، گا۔”

میں ڈر گئی۔

لیکن میری زبان نہیں ہلی۔

اس نے چھری میری طرف بڑھائی تو دروازہ کھلا اور مرد آیا۔ اس نے اسے روکا، “پاگل ہو گئی ہے؟ یہ ہمارا سرمایہ ہے۔ بغیر گانے کے اس کی کیا قیمت؟”

پھر اس نے میری طرف دیکھا، “تم گاؤ گی، کیونکہ تمہیں کوئی چارہ نہیں۔”

وہ ٹھیک کہہ رہے تھے۔

چارہ نہیں تھا۔

میرے پاس صرف میری آواز تھی۔

آہستہ آہستہ میں نے گانا شروع کر دیا۔ لیکن اب میرے گانے وہ صحرائی گیت نہیں تھے جو اماں گاتی تھیں۔ اب میرے گیتوں میں درد تھا، وہ چیخ تھی جو میرے اندر دب گئی تھی۔

لوگ سن کر روتے۔

مرد نے کہا، “اس کی آواز میں تو جادو ہے۔”

عورت مسکرائی، “میری بیٹی ہے۔”

میں مسکرا سکتی تھی، لیکن دل میں آگ جلتی تھی۔

برسوں گزر گئے۔

میں بڑی ہو گئی۔ میری پہچان صرف میری آواز تھی۔ مرد میری آواز کے پیچھے دیوانے تھے۔ شادی کے پیغام آتے، لیکن عورت نے کہا، “ابھی نہیں۔ ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔”

وہ مجھے شہر شہر لے جانے لگی۔ لوگ مجھے “صحرا کی بلبل” کہتے۔ میں گاتی، اور روپے اس عورت کی جھولی میں آتے۔

وہ عورت جسے میں ماں کہتی تھی، میری ماں نہیں تھی۔

میں نے یہ بات کبھی نہیں بھولی۔

ایک رات جب سب سو گئے، میں نے گھر کے پیچھے سے نکلنے کی کوشش کی۔ لیکن مرد جاگ گیا۔ اس نے مجھے پکڑ لیا۔ اس رات کے بعد مجھے کبھی اکیلے نہیں چھوڑا گیا۔

میں نے سمجھ لیا، بھاگنا ممکن نہیں۔

پھر میرے دل میں ایک نیا منصوبہ آیا۔

میں نے کہا، “اماں، اب مجھے شادی کرنی ہے۔”

عورت چونکی، “کیوں؟”

میں نے کہا، “بڑی ہو گئی ہوں۔ لوگ کہتے ہیں، اب یہ لڑکی گھر میں نہیں رہ سکتی۔”

عورت نے مرد سے بات کی۔ ان کا اصل کاروبار بچے بیچنا تھا، اور اب میں ان کے لیے صرف ایک ذریعہ تھی۔ انہوں نے سوچا، شادی کروا کر بھی تو پیسے لیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے میری شادی ایک امیر آدمی سے کر دی۔

میرا نیا گھر لاہور میں تھا۔ میرا شوہر مجھے “ملکہ” کہتا۔ میں گاتی، اور وہ خوش ہوتا۔

لیکن میں خوش نہ تھی۔

میں نے اسے اپنے ماضی کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔

ایک روز وہ مجھے لے کر بہاولپور گیا۔ میں نے کہا، “مجھے چولستان لے چلو۔”

وہ حیران ہوا، “وہاں کیا رکھا ہے؟”

میں نے کہا، “میری ماں کی قبر ہے۔”

جھوٹ بول رہی تھی۔

ہم چولستان پہنچے۔ میں نے اس گاؤں کے لوگوں سے پوچھ گچھ شروع کی۔ کسی کو کچھ یاد نہ تھا۔ پندرہ سال گزر چکے تھے۔

آخر ایک بوڑھی عورت ملی۔ اس نے کہا، “ہاں، ہاں۔ ایک عورت تھی، بہت اچھا گاتی تھی۔ اس کی بیٹی میلے میں کھو گئی تھی۔ اس کے بعد وہ پاگل ہو گئی۔ کہتی تھی، میری بیٹی زندہ ہے۔ لوگ ہنستے تھے۔ پھر وہ مر گئی۔ اس کا شوہر بھی کچھ دن بعد چل بسا۔”

میرا دل بیٹھ گیا۔

میں نے پوچھا، “ان کا گھر؟”

بوڑھی عورت نے بتایا۔

میں وہاں گئی۔ وہ گھر اب کھنڈر تھا۔ دیواریں گر چکی تھیں، آنگن میں جھاڑیاں اگ آئی تھیں۔ میں اس کھنڈر کے سامنے کھڑی ہو کر روئی۔

میری اماں کا گیت میرے کانوں میں گونج رہا تھا۔

“آ جا وے سانول، آ جا…”

میں نے سوچا، اماں، میں آ گئی۔ لیکن تم تو نہیں ہو۔

اس رات میں نے وہ گیت گایا جو اماں نے میلے میں گایا تھا۔ میرا شوہر سن کر رونے لگا۔ اس نے کہا، “آج تم نے کچھ اور گایا۔”

میں نے کہا، “یہ میری ماں کا گیت ہے۔”

اس رات میں نے اسے سب بتا دیا۔

میرا شوہر خاموش رہا، پھر بولا، “وہ عورت کہاں ہے؟”

میں نے کہا، “بہاولپور میں۔”

اگلے دن ہم نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی۔ جب پولیس نے چھاپا مارا تو اس کوٹھری میں مزید تین بچے تھے۔

عورت اور مرد گرفتار ہو گئے۔

عدالت میں جب عورت نے مجھے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے کہا، “بیٹا، میں نے تجھے پالا ہے۔”

میں نے کہا، “تم میری ماں نہیں ہو۔ تم وہ عورت ہو جس نے مجھے میری ماں سے چھین لیا۔”

جج نے اسے عمر قید سنا دی۔

مگر اس دن بھی میرے دل میں کوئی چین نہ تھا۔

میں اپنی اماں کی قبر پر گئی۔ اس پر کوئی تختی نہ تھی، کوئی نشان نہ تھا۔ میں نے زمین پر ہاتھ رکھا اور کہا، “اماں، میں آ گئی ہوں۔”

پھر میں نے وہی گیت گایا جو اس نے مجھے سکھایا تھا۔

آج بھی جب بھی میں گاتی ہوں، مجھے لگتا ہے جیسے وہ میرے ساتھ گاتی ہیں۔ میری آواز میں وہی درد ہے، وہی سحر ہے جو ان کی آواز میں تھا۔

لوگ کہتے ہیں میں صحرا کی بلبل ہوں۔

لیکن میں جانتا ہوں، میں صحرا کی وہ بلبل ہوں جو اپنا آشیاں کھو چکی ہے۔

🌙

خلاصہ یہ کہ: ماں کا وجود صرف جنم دینے کا نام نہیں، یہ وہ پناہ ہے جو ساری عمر ساتھ نہیں دے سکتی، لیکن اس کی یاد اور اس کا درد ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ سچی محبت کو کوئی اغوا نہیں کر سکتا، اور نہ ہی وقت مٹا سکتا ہے۔

اس کہانی نے آپ کے دل کو چھوا تو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

ایسی اور سچی کہانیوں کے لیے، ہمارے پیج حقیقت اور فسانہ کو ضرور فالو کریں۔

اگر آپ نے کبھی کسی بچے کو اس طرح کھوتے دیکھا ہے۔ تو تبصرے میں بتائیں ۔۔

Loading