آپ جب چاہیں سیکھ سکتے ہیں
جو چاہیں کھا سکتے ہیں
تحریر۔۔۔حنا عظیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ آپ جب چاہیں سیکھ سکتے ہیں جو چاہیں کھا سکتے ہیں ۔۔۔ تحریر۔۔۔حنا عظیم) ہیں کیونکہ تین سے چھ لوگوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گروپ آپ کو بہت ساری معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ Hofman کہتے ہیں گروپ اسٹڈی کو کامیاب بنانے کے لیے دو چیزوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ایک تو یہ کہ گروپ میں با معنی پڑ ھائی ہو اور اس پر تبادلہ خیال کیا جائے، دوسرا یہ کہ گروپ ممبر ز متعلقہ
موضوع پر چھوٹے چھوٹے سوالات یا کوئیز بنائیں جو انہیں امتحان کے لیے تیاری میں مدد دیں اور پھر ان پر Discussion کریں تاکہ جس لکھتے پر آپ کو پریشانی ہے اس کی وضاحت ہو سکے۔ گروپ اسٹڈی میں عین امکان ہے جس سوال کا جواب آپ کے پاس نہیں آپ کے دوسرے ساتھی کے پاس ہو اس طرح آپ ایک دوسرے کی الجھن کو حل کر سکیں گے اور پھر گھر جا کر آپ کو صرف دہرانا ہو گا یوں آپ خود کو بہتر طور پر امتحان کے لیے تیار کریں۔
وڈیوگیمز کھیلیں: یہ والدین کے لیے سرپرائیز ہے جن کے بچے وڈیو گیمز کھیلنے کے شوقین ہیں۔ Jay pratt کی ٹیم جو کہ کینیڈا کی ایک یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں نے یہ پتا لگایا ہے کہ وہ لوگ جو ہفتے میں چھ سے آٹھ گھنٹے وڈیو گیمز کھیلتے ہیں ان کی ٹائم مینجمنٹ زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ ان میں ایسے کام کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے جن میں ہاتھ اور آنکھوں کا بیک وقت استعمال زیادہ Jay pratt کے مطابق Video Games کی تیز رفتاری ایسے لوگوں میں دماغی کار کردگی بڑھادیتی ہے اور وہ دماغ کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ اور آنکھوں کا استعمال ایک ساتھ ماہرانہ انداز میں کر سکتے ہیں۔ اس کے مطابق ایسے Action Games جو درجے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزید پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں وہ کھیلنےوالے کے حواس یعنی دیکھنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ خود کوپرسکون رکھیں پڑھائی کے دوران مسلسل مطالعے سے دماغ بو جھل ہونے لگتا ہے ۔ ایسی صورت میں پڑھائی کے دوران وقفہ آپ کے دماغ کو وہ توانائی فراہم کرتا ہے جس کے دوران آپ نے جو کچھ پڑھا یا یاد کیا یا سیکھا اسے اکٹھا اور ترتیب وار کر دیتا ہے۔ Davachi Lila جو کہ نیو یارک یونیورسٹی میں کام کرتی ہیں نے یہ جاننے کے لئے ایسے لوگوں کے دماغوں کو Scan کیا جن کو بہت ساری تصویریں دکھائی
گئیں۔ پھر انہیں ان تصویروں کے بارے میں سوچنے کے لیے کہا گیا۔ اس وقفے کے دوران دماغ کے دو حصوں کو سب سے سر گرم دیکھا گیا۔
ایک Hipocampus جو یاداشت اور چیزوں کو یادرکھنے میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اور دوسرا Cortex جس کا سوچنے میں اہم کردار ہے۔ اسے تھنکنگ ریجن بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق دماغ کے یہ دو حصے جتنے زیادہ سر گرم اور ایکٹو ہوتے ہیں آپ پیچیدہ سے پیچیدہ اور مشکل سے مشکل کسی بھی سبق یا نئی چیز کو یاد رکھ پاتے ہیں۔ تو اگر آپ نے بھی الفاظ کی ایک بڑی فہرست یاد کرنی ہے یا پھر مختلف واقعات کی پرانی تاریخیں یاد کرنی ہیں تو درمیان میں ذرا دیر کو اپنی آنکھیں بند کر کے ستائیں مگر سونا نہیں ہے۔ یہ مشق آپ کو یہ ساری معلومات یاد رکھنے یوم میں مدد دے گی۔
خود کواستاد تصور کیجیے :اگر آپ یہ سوچیں کہ یہ چیز آپ کو آگے جا کر کسی اور کو پڑھانی ہے تو کوئی بھی چیز آپ بہتر طور سے یاد کر سکتے ہیں۔Kormell کو یہ انکشاف اس وقت ہوا جب اس نے اپنے شاگردوں سے دس منٹ میں ایکThe charge of the bridge پڑھنے کو دیا۔ وہ تمام طلبہ جنھوں نے سبق لینے سے پہلے یہ کہا کہ وہ نہ صرف اسے پاس کریں گے بلکہ آگے جا کر اسے کسی کو پڑھائیں گے بھی، ان کی یاداشت بہتر رائے بھی ان کی یاداشت بہتر طور سے منتظم تھی۔
Kornell کے مطابق تمام لوگ بہتر طور سے یاد کر سکتے ہیں اگر وہ یہ سوچ لیں کہ انھیں یہ مضمون آگے جا کر کسی کو پڑھانا ہے۔ اس کی وضاحت انتہائی آسان ہے۔ جب ہم یہ سوچ لیتے ہیں کہ آپ سے سوال ہو سکتا ہے کہ آپ نے کیا اور کتنا سیکھا یہ دباؤ ہمیں یاد رکھنے میں خاصی مدد دیتا ہے۔ اور آپ اس ٹاپک کو ہر پہلو سے مجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو پھر جب بھی آپ پڑھنے بیٹھے تو اپنے آپ سے سوال کریں۔ سوچیئے کہ بحیثیت استاد ا گر آپ کو یہ پڑھانا پڑتا تو آپ سے کیا کیا سوال ہو سکتے ہیں اور آپ ان کا کیا
جواب دیتے۔
دوسری اہم مشق جو آپ کر سکتے ہیں وہ یہ کہ جو بھی آپ نے یاد کیا اسے اپنے لفظوں میں لکھنے کی کو شش کیجیئے۔ اس سے نہ صرف آپ بہتر طور یہ لکھ سکیں گے بلکہ اپنے الفاظ میں لکھی تحریر کو یاد رکھنا بھی آسان ہو جائے گا۔ Kornell اور ان کی ٹیم نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنے شاگردوں کو محض امتحانات کی تیاری کے لئے زور مت ڈالیں بلکہ ان کو learning strategy کے تحت ایسی مشقوں کی رہنمائی بھی فراہم کریں جو ان کے سیکھنے اور یاد رکھنے کے عمل میں ان کی مدد گار ثابت ہوں اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے بھر پور استعمال کے مواقع میسر آسکیں۔
کرگزریں:کارلٹن یونیورسٹی کینیڈا کے Micheal اور اس کے ساتھی کہتے ہیں سخت محنت کرنے کے باوجود اگر آپ امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکیں تو اس بات کے لیے خود کو الزام نہ دیں بلکہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کیجیے ۔ واقعی اس کے لیے سب سے زیادہ ضروری آپ کا ذہنی طور پر تیار ہونا ہے اگر آپ واقع کامیابی چاہتے ہیں تو اس کے لئے اپنی قوتِ ارادی کو بروئے کار لائیے۔ فلوریڈا سٹیٹ یونیوسٹی کے رائے ہو میسر قوت ارادی پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کچھ بھی سیکھنے کے لیے قوت ارادی اور خود کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ جیسے مسلسل ایکسر سائز آپ کے جسم کو مضبوط تر بناتی ہے اسی طرح قوت ارادی کو آپ اپنے جسم کا ایک ایسا مضبوط عضلہ (Muscle) مجھے۔ کسی Muscle کا جتنا زیادہ استعمال ہو گا وہ اتنا ہی مضبوط ہو گا۔ لہذا گر آپ نے کامیاب ہونے کی ٹھان لی ہے تو پھر ستی چھوڑیئے اور ڈٹ جائیے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جون 2015
![]()

