Daily Roshni News

“أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ”۔۔۔تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم

“أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ”

تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم )وہ کیلنڈر پر نشان لگاتی جا رہی تھی۔

پہلا دن…

پھر دوسرا…

پھر تیسرا…

جیسے کوئی قیدی دیوار پر لکیریں کھینچتا ہے، ویسے ہی وہ رمضان کے دن گن رہی تھی۔

گھر میں سب اسے “مریم خالہ” کہتے تھے، حالانکہ وہ ابھی پچاس کی بھی نہ ہوئی تھی۔ شوہر کو گئے سات برس ہو چکے تھے۔ بیٹا دبئی میں تھا، بیٹی اپنی سسرال میں۔ گھر بڑا نہیں تھا مگر خاموشی بڑی تھی اور اس خاموشی میں اذان کی آواز کچھ زیادہ ہی گونجتی تھی۔

اس سال اس نے طے کیا تھا کہ وہ رمضان کو صرف گزارے گی نہیں، گنے گی۔

“أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ” ، چند گنے ہوئے دن۔

وہ اس آیت کو بار بار دہراتی۔

چند دن… تو پھر یہ بوجھ کیوں لگتے ہیں؟

چند دن… تو پھر یہ اتنے لمبے کیوں ہوتے ہیں؟

پہلے روزے کے دن وہ کمزور ہو گئی۔ ڈاکٹر نے شوگر کی وارننگ دی ہوئی تھی۔ پڑوسن نے کہا:

“خالہ جی، آپ چھوڑ دیں، اللہ رخصت دیتا ہے۔”

وہ مسکرائی۔

“اللہ رخصت دیتا ہے… مگر کیا میں اپنے دل کو رخصت دے سکتی ہوں؟”

دوسرے دن عصر کے بعد چکر آیا۔ وہ صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھ گئی۔ آسمان سفید سا تھا۔ ہوا میں ہلکی سی گرد۔ اسے اپنا بچپن یاد آیا۔ گاؤں کا کچا صحن، مٹی کی خوشبو، ماں کی آواز:

” مریم، بس چند دن ہیں، صبر کر لو۔”

چند دن…

زندگی بھی تو چند دن ہی ہے۔

تیسرے روز اس نے کیلنڈر پر نشان لگاتے ہوئے رک کر سوچا:

میں دن گن رہی ہوں… یا دن مجھے گن رہے ہیں؟

اس سوال نے اسے چونکا دیا۔

افطار کے وقت اس نے صرف ایک کھجور اور پانی لیا۔ ٹی وی بند رکھا۔ کوئی ڈرامہ نہیں، کوئی شور نہیں۔ صرف اذان اور اس کے بعد کی خاموشی۔

اُس رات وہ دیر تک جاگتی رہی۔ تسبیح ہاتھ میں تھی مگر گنتی الجھ رہی تھی۔ 33 کے بعد وہ بھول جاتی۔ پھر شروع کرتی۔ پھر بھول جاتی۔

اچانک اسے خیال آیا……

ہم اللہ کو یاد کرتے ہوئے گنتی کیوں کرتے ہیں؟

کیا محبت بھی گنی جاتی ہے؟

چوتھے دن اس نے کیلنڈر دیوار سے اتار دیا۔

اب وہ دنوں کو نشان نہیں لگا رہی تھی۔

اب وہ ہر دن کو جینے لگی تھی۔

صبح فجر کے بعد وہ صحن میں پانی چھڑکتی، مٹی کی خوشبو کو سانس میں بھرتی۔ قرآن کھولتی تو آیتوں پر انگلی رکھ کر ٹھہرتی۔ جیسے ہر لفظ سے پوچھتی ہو:

تم میرے لئے کیا لائے ہو؟

ایک دن اس نے محلے کی یتیم بچی کو افطار پر بلا لیا۔ بچی ہنستی تو گھر کی دیواریں نرم پڑ جاتیں۔ مریم خالہ نے محسوس کیا…..

یہ گھر خالی نہیں تھا، وہ خود خالی تھی۔

پندرہواں روزہ آیا تو کمزوری بڑھ گئی۔ بیٹے نے ویڈیو کال پر سختی سے کہا:

“امی، آپ ضد نہ کریں۔”

وہ مسکرائی۔

“بیٹا، میں ضد نہیں کر رہی… میں اپنے رب سے بات کر رہی ہوں۔”

مگر اس رات اسے واقعی تکلیف ہوئی۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب۔ سانس کچھ بھاری۔ وہ بستر پر لیٹی رہی۔ کھڑکی سے چاند کا ہلال نظر آ رہا تھا۔

اس نے آہستہ سے کہا:

“یا اللہ، اگر یہ بھی گنے ہوئے دن ہیں… تو مجھے ان میں خالی نہ جانے دینا۔”

اگلے دن اس نے روزہ نہیں رکھا۔

یہ اس کے لئے شکست تھی۔

پورا دن عجیب سا بوجھ رہا۔ جیسے وہ مقابلہ ہار گئی ہو۔ عصر کے وقت وہ جائے نماز پر بیٹھ گئی۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“یا رب… میں کمزور ہو گئی ہوں۔”

دل کے اندر سے ایک نرم سی آواز آئی……

” میں نے کبھی تم سے طاقت نہیں مانگی، میں نے تم سے نیت مانگی تھی۔”

وہ چونک کر سیدھی بیٹھی۔

کیا روزہ صرف بھوک کا نام تھا؟

یا اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دینے کا؟

اس دن اس نے سمجھا…..

” أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ” صرف روزوں کے دن نہیں…

یہ سانسیں بھی گنی ہوئی ہیں۔

یہ دھڑکنیں بھی۔

یہ موقع بھی۔

آخری عشرہ آیا تو اس نے عبادت میں شدت نہیں، نرمی پیدا کی۔

کم پڑھتی، مگر سمجھ کر۔

کم بولتی، مگر سچ بولتی۔

کم کھاتی، مگر شکر کے ساتھ۔

ستائیسویں شب وہ صحن میں بیٹھی تھی۔ آسمان پر تارے صاف تھے۔ اس نے ہاتھ اٹھائے، مگر لمبی دعا نہیں کی۔

صرف اتنا کہا:

“یا اللہ، اگر یہ چند دن تھے… تو مجھے ان میں پا لے۔”

عید کی صبح آئی تو کیلنڈر اب بھی دیوار سے اترا ہوا تھا۔

مگر اس کے چہرے پر ایک عجب سکون تھا۔

بیٹی ملنے آئی تو بولی:

“امی، آپ بدل گئی ہیں۔”

وہ ہنس دی۔

“نہیں بیٹی… میں گننا چھوڑ گئی ہوں۔”

اور واقعی…..

اب وہ دن نہیں گن رہی تھی۔

وہ ہر دن کو امانت سمجھ کر رکھ رہی تھی۔

کیونکہ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ

“أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ”

صرف رمضان کے بارے میں نہیں کہا گیا…

یہ پوری زندگی کی خبر ہے۔

اور زندگی….

واقعی چند ہی دن کی ہے۔

#مقیتہ وسیم

#أيامًا_معدودات

#رمضان

#رمضان_الکریم

#روحانی_تحریر

#افسانہ

#اسلامی_ادب

#تدبر

#قرآن_سے_رشتہ

#یاد_الٰہی

#صبر_و_شکر

#زندگی_کے_چند_دن

#نور_کی_تلاش

#مقیتہ_وسیم

Loading