Daily Roshni News

اتحاد، تدبر اور سیاسی حکمت بھی سلطنتوں کے استحکام کے لیے ضروری ہوتی ہے

اتحاد، تدبر اور سیاسی حکمت بھی سلطنتوں کے استحکام کے لیے ضروری ہوتی ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ابراہیم لودھی برصغیر کی تاریخ کا وہ حکمران تھا جس کے ساتھ ایک عظیم سلطنت کا خاتمہ ہوا اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ وہ تقریباً 1480ء میں پیدا ہوا اور 1517ء میں اپنے والد سلطان سکندر لودی کی وفات کے بعد دہلی کے تخت پر بیٹھا۔ وہ لودھی خاندان کا آخری فرمانروا تھا۔ ابراہیم لودی بہادر، خوددار اور مضبوط ارادوں کا مالک تھا، مگر اس کی سخت مزاجی اور امراء کے ساتھ سخت رویّے نے اس کے اپنے ہی افغان سرداروں کو اس سے دور کر دیا۔ اس نے اقتدار سنبھالتے ہی سلطنت کو مضبوط بنانے اور مرکزی اختیار بڑھانے کی کوشش کی، کئی باغی گورنروں کو شکست دی اور فوج کو منظم کیا۔ گوالیار جیسے مضبوط قلعے کی فتح اس کی عسکری طاقت کا ثبوت تھی، لیکن اندرونی اختلافات بڑھتے گئے۔ پنجاب کے گورنر دولت خان لودی اور دیگر ناراض امراء نے اس کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ انہی حالات میں کابل کے حکمران ظہیر الدین محمد بابر کو ہندوستان پر حملے کی دعوت دی گئی۔ بابر پہلے بھی سرحدی علاقوں پر حملے کر چکا تھا، مگر اس بار اس کا مقصد مکمل فتح تھا۔ 21 اپریل 1526ء کو پانی پت کے میدان میں فیصلہ کن معرکہ ہوا جسے تاریخ میں پہلی جنگِ پانی پت کہا جاتا ہے۔ ابراہیم لودی کی فوج تعداد میں تقریباً ایک لاکھ تھی جبکہ بابر کی فوج کم مگر جدید توپ خانے اور بہتر حکمت عملی سے لیس تھی۔ جنگ کے دوران ابراہیم لودی نے غیر معمولی بہادری دکھائی اور میدان چھوڑنے کے بجائے آخری دم تک لڑتا رہا۔ بالآخر وہ اسی میدان میں مارا گیا اور اس کے ساتھ ہی دہلی کی لودھی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور مغلیہ سلطنت کی بنیاد پڑی۔ ابراہیم لودی کی داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ صرف بہادری کافی نہیں ہوتی بلکہ اتحاد، تدبر اور سیاسی حکمت بھی سلطنتوں کے استحکام کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

Loading