احساس کمتری کے حصار کو توڑیں
تحریر۔۔۔مشکور الرحمنٰ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ احساس کمتری کے حصار کو توڑیں۔۔۔ تحریر۔۔۔مشکور الرحمنٰ)احساس کمتری کا روحانی علاج: خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ۔۔۔احساس کمتری ایک ایسا جذبہ ہے جس میں آدمی بات بے بات رنج و غم میں مبتلا رہتا ہے اور معمولی سے معمولی بات کو اپنے لئے پریشانی بنا کر افسردہ دل ہو جاتا ہے۔ اور یہ بات اس وقت پیدا ہوتی ہے جب آدمی کے اندر قوت ارادی کمزور ہو جاتی ہے۔ کمزور قوت ارادی کی وجہ سے بنے بنائے کام بگڑ جاتے ہیں۔ بار بار ایسا ہونے سے آدمی احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جب یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم کسی شخص کے سامنے نہیں جاسکتے بات نہیں کر سکتے ، ہم دوسرے لوگوں سے کمتر ہیں یا دوسرے لوگ ہم سے کمتر ہیں۔ یہ سب باتیں کمزور قوتِ ارادی کی عکاسی کرتی ہیں۔ احساس کمتری ایک مرض ہے جو نا آسودہ خواہشات سے پیدا ہوتا ہے۔ زیادہ تر آدمی اس قسم کے خیالات میں گھرا رہتا ہے کہ مجھ سے کوئی محبت نہیں کرتا، گھر یا معاشرے میں میری کوئی وقعت نہیں۔ ماں باپ دوسرے بہن بھائیوں کو چاہتے ہیں اور مجھے ہر قدم پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ایسا شخص اپنی بات دوسروں سے منوانے کے لئے تیز لہجہ استعمال کرتا ہے اور بات بے بات غصہ کرتا ہے۔ نتیجہ میں جو لوگ فی الواقع اس سے محبت کرتے ہیں اس کے بے اعتدال طرز عمل کی وجہ سے اس سے دور ہو جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی بچے کی والدہ یاوالد کا انتقال ہو گیا یا دونوں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ بہن بھائیوں نے حق تلفی کی تو بھی احساس کمتری پیدا ہو جاتا ہے۔ بڑا ہونے پر اس پر اللہ تعالی کا کتنا ہی انعام ہو جائے لیکن وہ احساس کمتری سے نہیں لکھتا۔ اور وہ ایسی ایسی باتیں دہراتا ہے کہ جس سے لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔ یہ ایسا مرض ہے جس سے وہ خود بھی پریشان رہتا ہے اور دوسرے لوگ بھی عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ طرز فکر صحیح ہو یا علامہ دونوں کا تعلق دماغ کے ان خلیوں سے ہے جو زندگی میں کام آنے والے جذبات کو تخلیق کرتے ہیں۔ اور جذبات آدمی کی قوت ارادی کے تابع ہوتے ہیں۔ اس لئے جب کسی انسان کے اندر جذبات اس کے ارادہ کے تابع نہیں رہتے تو اس کی زندگی میں خلا واقع ہو جاتا ہے۔ اس خلا کا دباؤ ہی در اصل احساس کمتری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ نہایت آسان اور سبل علاج یہ ہے کہ آدمی ہر وقت باوضور ہے۔ باوضو ر ہنے میں اس بات کی احتیاط لازم ہے کہ بول و بر از یا اخراج ریاح کے قدرتی عمل کو روکا نہ جائے کیونکہ اس سے بھی دماغ پر زور پڑتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر دوبارہ وضو کر لیا جائے۔روحانی علاج: ہر نماز کے بعد سومرتبہ یا اللہ پڑھنے سے قوت ارادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ غیر مستقل مزاجی دور ہو جاتی ہے اور بگڑے ہوئے حالات درست ہو جاتے ہیں۔
آج ہم احساس کمتری سے ملنے کے لیے کچھ تجاویز بتا رہے ہیں جنہیں اپنا کر وقتی طور پر حاوی ہونے والے محرومی کے احساس سے تو نمٹا جا سکتا ہے، تاہم اگر کوئی بچپن سے اس کیفیت میں مبتلا ہے توایک طویل المدتی حکمت عملی اور مثبت طرز عملاپنانے کی ضرورت ہو گی۔اپنی پیٹھ تھپتھپائیںاحساس کمتری کا میں مبتلا افراد کے لیے اپنی
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الرَّضَاعَتُ عَمَانَوِيلُ …. 3 مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کر کے پئیں۔ دن میں 3 مرتبہ ایک پیچ شہد کھائیں اور اس پر بھی الرضاعت عمانویل پڑھ کر دم کریں۔مراقبہآنکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں۔ آنکھوں پر سیاہ روئیں دار کپڑے کی پٹی باندھ لیں اور دل میں یہ الفاظ بار بار دہرائیں۔ میرے ماحول میں ہر چیز دلفریب اور خوش گوار ہے۔ میں کسی سے کمتر نہیں ہوں۔ میں جو چاہوں وہ کر سکتا ہوں۔ یہ عمل روزانہ پندرہ منٹ تک کریں۔ 100 مرتبہ اللہ اکبر پڑھ کر مراقبہ کریں۔ مراقبہ میں یہ تصور کیا جائے کہ آسمان سے سبز روشنی آرہی ہے اور میرے اوپر پڑ رہی ہے۔ مراقبہ فجر کی نماز پڑھنے سے پہلے میں منٹ تک کیا جائے۔ 12×9 انچ کے سفید شیشے پر نیلا رنگ پینٹ کر کے وقفہ وقفہ سے دیکھیں۔طبی علاج: جوارش شاہی به نسخه کلان 6-6 گرام صبح شام کھائیں۔ ناشتہ میں اور رات کو کھانے کے بعد عمدہ قسم کی 2-2 کھجوریں کھائیں۔ احساس کمتری کی وجہ سے اعصابی کمزوری دور کرنے کے لئے جب یا قوت ایک ایک گولیناشتہ کے بعد اور سوتے وقت کھائیں۔ رنگ و روشنی سے علاج :افسردہ دلی اور ہر وقت رنج و غم میں مبتلا رہنا۔ اس کے لئے سرخ رنگ بہت مفید ہے کیونکہ اس سے شجاعت ر مردانگی پیدا ہوتی ہے۔ نیز نار بھی رنگ بھی جس سے دل کی پریشانی دور ہو کر سکون ملتا ہے، استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے مریضوں کو زیادہ تر لال رنگ کے کپڑے پہنے چاہئیں۔ سونے کے کمرے میں پردے بھی سرخ ہوں۔ البتہ پلنگ کی چادریں، تکیہ کے خلاف نارنجی رنگ کے ہونے چاہئیں اور ایک چھوٹی سی ٹوکری میں نارنگیاں بھر کے کمرے میں رکھ لی جائیں اور روزانہ نارنگیوں پر چند منٹ نگاہ کو مرکوز رکھا جائے ۔ اگر اس کے ساتھ ساتھ صبح سویرے اٹھتے ہی ایک بڑے آئینے کے سامنے تن کر کھڑے ہو کر اپنے سراپا پر ٹکٹکی باندھ کر دیکھا جائے اور دو تین منٹ تک آہستہ آہستہ دل میں یہ الفاظ دہرائے جائیں۔ہر چیز دلفریب اور خوشگوار ہے، میں کسی سے کمتر نہیں ہوں، جو چاہوں وہ کر سکتا ہوں۔“یہ عمل کرنے کے بعد چند منٹ تک کمرے میں چہل قدمی کی جائے اور پھر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر وہی عمل دوہرایا جائے۔ اس طرح یہ عمل روزانہ تین دفعہ کیا جائے تو دس پندرہ روز میں احساس کمتری کی تمام شکایتیں رفع ہو جائیں گی۔
تعریف کرنا سب سے زیادہ ضروری عمل ہے کیونکہ ان کی زندگی میں اسی چیز کی کمی ہوتی ہے۔ دن کے اختتام پر اپنے دن بھر کے معمولات پر نظر ڈالیں اور ان کاموں کی تعریف کریں جن کی وجہ سے دوسرے آپ سے خوش ہوئے۔یادر کھیں … بعض دفعہ آپ ذاتی یا عملی زندگی میں ایسے افراد سے بھی گھرے ہوتے ہیں جو آپ سے حسد کرتے ہیں، ایسے لوگ آپ کے اچھے کاموں اورکامیابی پر بھی ہمیشہ تنقید کرتے رہیں گے لہذا آپ کو خود اپنے اچھے کاموں کو محسوس کرنا اور ان پر اپنی پیٹھ جھکتی ہے۔ اپنے آپ کو بہتر سمجھیں لیکن خیال رکھیں کہ یہ احساس، احساس برتری میں تبدیل نہ ہو جو احساس کمتری سے بھی زیادہ مخطر ناک ہے۔ سوشل میڈیا کا عمل دخل کم متعدد تحقیقات میں یہ بات ثابت کی جاچکی ہے کہ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر دوسروں کی ذاتی زندگی میں جھانکتے ہوئے لوگ اپنی زندگی کا اس سے موازنہ کرتے ہیں جس کے بعد انہیں اپنی زندگی کی تجدیدہ محرومیوں کا احساس ہوتا ہے۔یہ بھی یادر کھیں کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر اچھی شے واقعی اچھی نہیں ہوتی۔ خصوصا یہاں دکھائی دینے والے خوبصورت چہرے فوٹو شاپ اور فلٹر ز کا کمال ہوتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے۔ اسی طرح اپنی زندگی کو خوش باش اور بہترین پیش کرنے والے افراد بھی بعض اوقات حقیقت میں نہایت پریشان اور ناخوش ہوتے ہیں لہذا کبھی بھی کسی کی زندگی کا اپنی زندگی سے تقابل نہ کریں۔ مشغلہ تلاش کریں اگر آپ ایک لگی بندھی گھر سے دفتر، اور دفتر سے گھر کی زندگی کے عادی ہیں تو اس معمول میں تبدیلی لائیں۔ اپنی پسندیدہ سرگرمیوں اور مشغلوں کو اپنائیں۔ مختلف کھیل، تخلیقی کام، کھانا پکانا، گھر سجانا، باغبانی، رضا کارانہ خدمات یا ایسے کام جن کی طرف آپ کار جان ہو ، اپنی زندگی کا حصہ بنا ئیں۔ اپنے ہم مشغلہ افراد سے ملیں۔ ان لوگوں سے گفت و شنید اور میل جول سے آپ کے مخیالات میں نیا پن پیدا ہو گا۔
آپ کو آگے بڑھنے کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ غلطیوں سے سیکھیںدنیا کا ہر شخص غلطی کرتا ہے لیکن اس غلطی سے سبق سیکھ کر دوبارہ نہ دہرانے کی صلاحیت چند لوگوں میں ہی ہوتی ہے۔ دنیا کی تمام عظیم شخصیات اگر ابتدائی زندگی میں غلطیاں نہ کر تیں اور اس سے سبق نہ سیکھتیں تو وہ کبھی کامیابی کے اونچے درجے پر فائز نہ ہو تھیں۔غلطیاں کرنا صلاحیتوں اور کار کردگی کو بہتر بنانے کا موقع دیتا ہے۔ اپنی غلطی کو کھلے دل سے تسلیم کریں، اگر ممکن ہو تو اسے درست کریں ورند اسے ایک سبق کے طور پر یادر کھیں۔یاد رکھیں غلطی تسلیم نہ کرنا شخصیت کیخامی ہے، لیکن غلطی کو تسلیم کرکے طویل وقت تک اپنے آپ کو اس کے لیے مورد الزام ٹہراتے رہنا بہترین شخصیت کو بھی تباہ کر سکتا ہے۔مثبت انداز فکرمثبت رخ پر سوچنا زندگی کے بہت سے مسائل کو کم کر سکتا ہے۔ ہر نقصان اور ہر برائی سے کوئی بہتری تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی ناقابل تلافی غلطیوں اور کوتاہیوں کو بھی اس لیے بہتر جائیں کہ وہ آپ کو اچھا انسان بننے اور بہتر زندگی کی طرفجانے میں مدد دیتی ہیں۔ سیلفش نہ بنیںہر وقت اپنے بارے میں نہ سوچیں۔ دوسروں کے بارے میں زیادہ سوچیں۔ ان کے دکھ درد میں ان کے کام آئیں۔ ان کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کریں ۔ دوسروں کو اپنا بنانے کی کوشش کریں۔ ان کی توجہ حاصل کریں۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ مئی 2018
![]()

