Daily Roshni News

ارشد قریشی  کی کتاب پندرہ دن کی زندگی کی  تقریب رونمائی کی خصوصی رپورٹ۔۔۔۔۔۔تحریر۔۔۔طاہر لطیف

ارشد قریشی  کی کتاب پندرہ دن کی زندگی کی  تقریب رونمائی کی خصوصی رپورٹ۔۔۔

تحریر۔۔۔طاہر لطیف

ہالینڈ (ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کتاب پندرہ دن کی زندگی ۔۔۔ تحریر۔۔۔طاہر لطیف)ارشد قریشی کی کتاب ’’15 دن کی زندگی‘‘ کی آن لائن تقریبِ رونمائی، روحانی و ادبی حلقوں کی بھرپور پذیرائی

حج و عمرہ کے روحانی سفرنامے پر ادبی شخصیات کا اظہارِ خیال، پاکستان سمیت مختلف ممالک سے اہلِ قلم کی آن لائن شرکت

 معروف قلم کار ارشد قریشی کی کتاب ’’15 دن کی زندگی‘‘ کی آن لائن تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں پاکستان سمیت ہالینڈ، ملائیشیا اور دیگر ممالک سے ادبی شخصیات اور اہلِ قلم نے شرکت کی۔ مقررین نے کتاب کو حج و عمرہ کے روحانی تجربات، قلبی کیفیات اور محبتِ رسول ﷺ سے بھرپور ایک منفرد ادبی کاوش قرار دیا۔

تقریب کا آغاز ڈاکٹر محسن علی آرزو نے اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے کیا۔ انہوں نے سورۂ کوثر کا منظوم ترجمہ بھی پیش کیا۔ تقریب کی صدارت کراچی سے معروف ادبی شخصیت ڈاکٹر رئیس احمد سمدانی نے کی۔

’’15 دن کی زندگی‘‘ روایتی سفرنامے سے مختلف ہے

کتاب پر تنقیدی و تحقیقی گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر کاشف بٹ نے کہا کہ حج و عمرہ کے سفرنامے عام سفرناموں سے مختلف ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں جغرافیائی مشاہدات کے بجائے عقیدت، روحانیت اور قلبی کیفیات کو زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے کتاب کو شبلی نعمانی، ڈاکٹر سید عبداللہ اور مرزا ادیب کے وضع کردہ ادبی معیارات کی روشنی میں پرکھتے ہوئے کہا کہ ارشد قریشی کی تحریر کا جھکاؤ بیرونی مناظر کے بجائے باطن اور قلبی واردات کی جانب ہے۔

ڈاکٹر کاشف بٹ کے مطابق کتاب کا جملہ ’’کیا کعبہ مجھے پہچانے گا؟‘‘ اس کے بنیادی روحانی مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بقول مصنف نے کعبہ کو ایک زندہ اور باشعور ہستی کے طور پر محسوس کیا ہے، جس کے باعث یہ تحریر روایتی سفرنامے سے بڑھ کر ایک عاشق کی خود کلامی بن گئی ہے۔

مکہ نے عاجزی اور مدینہ نے محبت سکھائی

سیدہ ایف گیلانی نے کتاب کو صاحبِ دل مسافر کے روحانی تجربات کی داستان قرار دیتے ہوئے مختلف اقتباسات کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ مصنف کے نزدیک مکہ نے انہیں عاجزی جبکہ مدینہ نے محبت کا درس دیا۔ بیت اللہ پر پہلی نظر کی کیفیت بیان کرتے ہوئے مصنف نے خود کو دنیاوی پریشانیوں سے خالی اور نور سے معمور محسوس کیا۔

انہوں نے بتایا کہ صفا و مروہ کی سعی کے دوران مصنف نے اپنے تجربے کو حضرت ہاجرہؑ کے توکل اور صبر سے جوڑا، جبکہ مسجد نبوی ﷺ میں حاضری کے دوران انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے صدیوں کا فاصلہ سمٹ گیا ہو۔

ملیشیا سے عاطف عثمانی کی شرکت

ملیشیا سے آن لائن شریک ہونے والے عاطف عثمانی نے ارشد قریشی، جن کا قلمی نام میم الف عرشی ہے، کی تحریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ سفر انسان کی زندگی کا لازمی حصہ ہے اور روحانی سفر انسان کے باطن کو نئی روشنی عطا کرتا ہے۔

انہوں نے کتاب کو ایک بہترین ادبی شہ پارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنف کی روحانی وابستگی کتاب کے آغاز سے اختتام تک نمایاں ہے۔

ارشد قریشی: یہ کتاب جذبات، آنسوؤں اور دعاؤں کی داستان ہے

کتاب کے مصنف ارشد قریشی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ انہیں مقدس مقامات کی حاضری کی سعادت ملی اور پھر ان کیفیات کو الفاظ میں محفوظ کرنے کا موقع بھی ملا۔

انہوں نے اپنے ادبی سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے لکھنے کا شوق تھا اور وہ اسکول کے زمانے میں حکیم محمد سعید کے رسالے ’’ہمدرد نونہال‘‘ کے لیے بھی لکھا کرتے تھے۔

ارشد قریشی نے اپنی مرحومہ والدہ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ کتاب کی رونمائی ان کی والدہ کے ہاتھوں ہو۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ اگر والدہ آج حیات ہوتیں تو اس کتاب کی تکمیل پر سب سے زیادہ خوش ہوتیں۔

مصنف نے اعلان کیا کہ وہ یہ کتاب اپنے احباب کو بطور ہدیہ پیش کریں گے جبکہ کتاب کی پی ڈی ایف بھی دستیاب کی جائے گی۔

ڈاکٹر رئیس احمد سمدانی: یہ محض سفرنامہ نہیں

تقریب کے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر رئیس احمد سمدانی نے تمام مقررین کی گفتگو کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’15 دن کی زندگی‘‘ محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ ایمان، محبتِ رسول ﷺ اور روحانی کیفیات کی آئینہ دار ہے۔

انہوں نے ارشد قریشی کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی رفاقت 2013 میں ہماری ویب رائٹرز کلب کے قیام کے زمانے سے ہے۔

ڈاکٹر سمدانی نے خانہ کعبہ پر پہلی نظر کے حوالے سے اپنی ایک نظم بھی پیش کی اور کہا کہ کتاب میں بیان کی گئی کیفیات نے انہیں اپنے ذاتی روحانی تجربات کی یاد دلا دی۔

ہالینڈ سے جاوید عظیمی کی خصوصی شرکت

ہالینڈ سے جاوید عظیمی نے بھی تقریب میں آن لائن شرکت کی۔ وہ بزمِ ادب نیدرلینڈز کے سربراہ ہیں۔

انہوں نے کتاب کے عنوان ’’15 دن کی زندگی‘‘ کو منفرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عنوان ان مخصوص دنوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کی روحانی کیفیات اور تاثرات مصنف نے کتاب میں محفوظ کیے ہیں۔

جاوید عظیمی نے کہا کہ ڈاکٹر رئیس احمد سمدانی کی گفتگو سنتے ہوئے انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ خود خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوں۔ انہوں نے اپنے 2003 کے حج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی انہوں نے اسی طرح کی قلبی کیفیت محسوس کی تھی جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے آن لائن تقریب کو منظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا نے فاصلے کم کر دیے ہیں اور مختلف ممالک میں موجود افراد بھی ایک دوسرے کے اتنے قریب محسوس ہوتے ہیں جیسے بالمشافہ ملاقات ہو رہی ہو۔

جاوید عظیمی نے ارشد قریشی کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے مزید علمی و ادبی کامیابیوں کی دعا کی۔

تقریب کے اختتام پر افضل رضوی نے کلماتِ تشکر ادا کیے، جبکہ کشمیر سے ڈاکٹر ریاض توحیدی اور دیگر شرکاء نے بھی ارشد قریشی کو کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی۔

آخر میں دعا اور گروپ فوٹو کے ساتھ کتاب ’’15 دن کی زندگی‘‘ کی آن لائن تقریبِ رونمائی اختتام پذیر ہوئی۔

Loading