استخارہ
قسط نمبر1
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔استخارہ )کوئی کام کرنے سے پہلے استخارہ کر ناسنت ہے۔ استخاره دراصل اللہ تعالی سے مشورہ کرنا ہے۔
استخارہ کا لفظ ہم میں سے بیشتر لوگوں کے لیے نیا نہیں ہے۔ کئی مرد و خواتین مختلف معاملات میں استخارہ کرتے ہیں۔ کئی افراد کسی نئے کام میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے استخارہ ضرور کر لیتے ہیں۔ کئی گھرانوں میں شادی کے لیے آئے ہوئے رشتے کے بارے میں والدہ یا پھر لڑ کی خود بھی پہلے استخارہ کر لیتی ہے کہ آیا یہ رشتہ مناسب رہے گا یا نہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو چوائس موجود ہوں اور فیصلہ نہ ہو پارہا ہو۔ ایسے موقع پر بھی استخارہ کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ کاروبار کے انتخاب یا شروعات پر استخارہ کرتے ہیں۔ ملازمت کے متمعی بعض افراد بھی جاب کی آفر آنے یا پھر فیلڈ کے چناؤ کے وقت استخارہ کرتے ہیں۔ بعض لوگ مکان یا پلاٹ خریدتے وقت بھی یہی عمل کرتے ہیں۔ استخارہ کے حوالے سے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے چندار شادات درج کیے جارہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” اولاد آدم کی سعادت ہے کہ وہ ہر معاملے میں اللہ سے استخارہ کرے ، اور اس کے فیصلے پر راضی رہے اور اولاد آدم کی بد نصیبی ہے کہ وہ اللہ سے استخارہ کرنا چھوڑ دے اور اللہ کے فیصلے پر ناگواری کا اظہار کرے۔ “ [مسند احمد ترمذی]
ایک موقع پر آپ دلی ہم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: جس نے استخارہ کیا وہ ناکام نہیں ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہ ہوا“۔ [طبرانی] نبی کریم می کنیم بذات خود بھی استخارہ کیا کرتے اور صحابہ کرام کو بھی کرنے کی ہدایت فرماتے تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے اپنے صحابہ کو استخارہ کی تعلیم اس طرح دی جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ [بخاری، ترمذی، ابوداؤد ]
حدیث پاک کے حفظ وضبط میں جن نفوس قدسیہ نے لازوال خدمات انجام دیں ان میں سے ایک محمد بن اسماعیل البخاری نہیں، جن کی تالیف الجامع الصحیح البخاری کے بارے میں خود امام بخاری فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی حدیث اس کتاب میں اس وقت تک درج نہیں کی جب تک غسل کر کے دو رکعت نماز ادا نہ کر لی ہو ۔ بیت اللہ میں اسے میں نے تالیف کیا اور دو رکعت نماز پڑھ کر ہر حدیث کے لیے استخارہ کیا۔ ایل روحانیت بزرگان دین نے استخارہ کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ وہ خود بھی اس پر عمل کیا کرتے تھے۔ حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش نے اپنی معروف کتاب کشف المحجوب“ لکھنے سے پہلے استخارہ کرنے کے بعد اس معرکتہ الآراء کتاب کو تحریر کرنے کا آغاز کیا۔ اس بارے میں داتا صاحب فرماتے ہیں: علی بن عثمان جلابی عرض پرداز ہے کہ میں نے استخارہ کیا۔ نفسانی اغراض کو دل سے دور کیا اور اس کتاب سے مراد بر لانے کا ارادہ کر لیا اوراس کا نام کتاب سے مراد بر لانے کا مصمم ارادہ کر لیا اور اس کا نام کشف المحبوب رکھا ۔ یہ جو میں نے کہا کہ میں نے استخارہ کیا اس سے مراد اللہ تعالی کے ان آداب کی نگہداشت ہے جس کا اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو حکم دیا ہے۔ استعاذہ، استعانت اور استخار وسب کے معنی طلب خیر اور اپنے کاموں کو خدا تعالی کے سپرد کرنا اور طرح طرح کی آفتوں سے نجات پانا ہے۔ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ ہمیں جس طرح قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے اسی طرح استخارہ کی تعلیم فرمایا کرتے تھے۔ بندہ جانتا ہے کہ تمام امور کی بہتری اس کے کسب اور اس کی تدبیر پر موقوف نہیں کیونکہ بندوں کی بہتری کو خدا تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔ لا محالہ قضائے الہی کو تسلیم کر لینے اور اس سے مدد مانگنے کے سوا چار ڈکار اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام کاموں میں بندہ اللہ استخارہ کیا کرے تاکہ وہا ہں کو خطا و خلل اور آفت سے محفوظ رکھے“۔ [ کشف محجوب ]
لغوی طور پر استخارہ کا مطلب خیر یا عافیت طلب کرتا ہے۔ اس طرح بندہ اللہ تعالی سے ایسے اسباب پیدا کرنے کی درخواست کرتا ہے جس میں اس کی بھلائی اور بہتری ہو۔ استخارہ کا طریقہ استخارہ کا ایک مسنون طریقہ یہ ہے کہ جب کسی غیر معمولی اور اہم کام کو انجام دینے کا ارادہ ہو تو رات تمام کاموں سے فارغ ہو کر خشوع و خضوع سے دو رکعت نفل پڑھیں اس کے بعد یہ دعاپڑھیں : اللهم إني أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَاسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ. وَانتَ عَلامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ إِن كُنتَ تَعْلَمُ أنَّ هَذَا الأَمْرَ خَيْرٌ فِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ.فَاقْدُرُه لي وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ شر لي في دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي – او قال في عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ . فَاصْرِفْهُ عَنِي وَاصْرِ فنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِنی بہ
ا ے اللہ ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھے سے بہتری اور تیری قدرت کے ذریعہ قوت طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں اس لیے کہ تو اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور میں نہیں رکھتا اور تو علم جانتا ہے اور میں نہیں جاتا اور تو ہی تمام پوشیدہ باتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔اے اللہ …. ! تجھے معلوم ہے کہ یہ کام میرے حق میں میرے دین و دنیا، میری معاشی و اخروی زندگی کے اعتبار سے میرے حق میں بہتر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر فرمادے اور آسان کر دے اور اس میں میرے لیے برکت بھی عطا فرما۔ اگر یہ کام میرے دین و دنیا ، میری معاشی و اخروی زندگی کے اعتبار سے میرے حق میں بہتر نہیں ہے تو اس کام کو مجھ سے اور مجھے اس کام سے دور کر دے اور جہاں بھی میرے لیے بہتری ہو اس کو مجھے نصیب فرما اور پھر مجھے اس سے مطمئن کر دے“۔ [بخاری، ترمزی]
نبی کریم حضرت محمد ﷺ اپنے صحابہ کرام کو استخارہ کی تلقین فرماتے اور تعلیم دیتے۔ حضرت ابوایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : ” تم اپنی ضروریات ذہن میں رکھ کر بہترین طریقہ سے وضو کرو پھر جتنا مقدر میں ہو نماز پڑھو پھر اپنے رب کی تعریف اور بزرگی بیان کر کے یہ دعاپر ھو اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ۔۔۔جاری ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اکتوبر2022
![]()

