اسرائیل اور شام کا امریکی ثالثی میں خصوصی رابطہ نظام قائم کرنے پر اتفاق
انٹرنیشنل(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اسرائیل اور شام نے امریکا کی ثالثی میں ایک خصوصی رابطہ نظام قائم کرنے پر اتفاق کرلیا جس کا مقصد انٹیلی جنس اور سفارتی رابطوں، کشیدگی میں کمی اور ممکنہ سکیورٹی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اس حوالے سے امریکا، اسرائیل اور شام کی جانب سے مشترکہ بیان جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا کہ یہ رابطہ سیل فوجی کشیدگی میں کمی ، سفارتی روابط اور تجارتی مواقع کے فروغ میں مدد فراہم کرے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان گزشتہ ایک سال سے وقفے وقفے سے مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا جس کا مقصد ایسا سکیورٹی فریم ورک تیار کرنا تھا جو اسرائیل کے شام پر مسلسل حملوں کا خاتمہ کر سکے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ نیا میکنزم کسی بھی تنازعے کو فوری طور پر حل کرنے اور غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔
یہ پیش رفت پیرس میں اسرائیلی اور شامی حکام کے درمیان ہونے والے حالیہ اجلاسوں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں شامی وزیر خارجہ بھی شریک تھے۔
امریکا نے اسرائیل شام پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
یاد رہےکہ اسرائیل نے 1967 سے شامی گولان کی پہاڑیوں پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس نے مزید شامی علاقوں پر بھی قبضہ کیا جن میں اسٹریٹجک جبل الشیخ بھی شامل ہے، اسرائیل نے شامی وزارتِ دفاع پر بھی حملےکیے ہیں۔
اسرائیل نئی شامی قیادت کو انتہا پسند قرار دیتا رہا ہے حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھل کر شامی صدر کی حمایت کر چکے ہیں۔
![]()

