Daily Roshni News

اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو

اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو)شاعر مشرق علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں،مذہب کا اعلیٰ تصور جو زندگی کی وسعتوں کا متلاشی ہے لازمی طور پر ایک تجربہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ “مذہب انسانی شعور کو نکھارنے کی ایک بچی کوشش سے عبارت ہے اور یوں تجربے کی اپنی مختلف سطحوں کے لئے اسی طرح ناقدانہ رویہ رکھتا ہے جس طرح کہ خود اپنے مختلف مدارج پر فطرتیت (نیچرل ازم) جرح و تنقید کرتی ہے۔“

اقبال بتاتے ہیں ، ایمان محض جذبے کا نام نہیں بلکہ اس میں عقل کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔ مذہبی اصولوں کا انحصار معقولیت پسندی پر ہے۔ فکر اور وجد ان ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی سر چشمے سے فیض یاب ہیں۔

قدیم یونانی فلسفی محسوسات کے علم کو غیر حقیقی مخیال کرتے تھے، یونانی فلسفے نے مسلمان حکماء کو اپنے گہرے اثر میں لیا ہوا تھا، ایسے الحاد زدہ ماحول کا خاتمہ امام غزالی نے کیا، وہ عقلیت کی بھول بھلیوں سے نکل کر صوفیانہ واردات تک پہنچے، جن سے عقل و فکر کی محدودیت ان پر واضح ہوئی۔ اقبال بتاتے ہیں کہ اگر انسان ترقی پذیر زندگی کی حرکت کو محسوس نہ کرے تو اس کی روح پتھر کی مانند سخت ہو جاتی ہے، اور آخر کار انسان بے جان مادے کی سطح پر آجاتا ہے۔ اس لیے حقیقت مطلقہ کے کلی او راک کے لیے ہمیں حتی علم کے علاوہ علم باطن بھی سیکھنا چاہیے۔

دوسرے خطبے مذہبی مشاہدات کا فلسفیانہ معیار میں اقبال نے ہستی کے تین مدارج یعنی مادہ، حیات اور شعور پر مفصل بحث کی ہے۔ مادیت کی بحث میں انھوں نے ارسطو، نیوٹن سے لے کر برٹرینڈ رسل اور آئن سٹائن کے تصورات زمان و مکان کا ذکر کیا اقبال نے ان کے نظریات کا موازنہ قرآنی تصویر زمان و مکان سے کیا ہے۔ ووكل يَوْمٍ هُوَ فِي شأن اور انا الدھر کے حوالوں سے اسلامی تصویر زمان و مکان

کی وضاحت کرتے ہیں، اقبال فطرت کو سُنت الله قرار دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس کی نشوو نما کی کوئی حد نہیں۔ فطرت کوئی جامد حقیقت نہیں بلکہ واقعات و حوادث کا ایسا مجموعہ ہے جو مسلسل تخلیقی رو کا مالک ہے۔ فطرت کا علم در اصل خدا کے طریق عمل کا علم ہے۔ خطبے کے اختتام پر وہ فلسفے کو پستی سے نکالنے کے لیے فکر و ذکر اور قرب السی کی ضرورت بیان کرتے ہیں، جسے مذہب کی اصطلاح میں دعا کہا جاتا ہے۔ تیسرے خطبے ” خدا کا تصور اور دعا کا مفہوم “ میں اقبال فرد کی تعریف اور انائے مطلق کی صفات پر بحث کرتے ہوئے سور کاخلاص اور سورہ نور کا حوالہ دیتے ہوئے اللہ نور السموات والارض کا ذکر کرتے ہیں، اقبال کہتے ہیں کہ مذہبی واردات عقلی معیار پر پوری اترتی ہے۔ اس واردات کی اساس ایک تخلیقی مشیئیت ہے، جسے انائے مطلق کہا جا سکتا ہے۔ قرآن اس انائے مطلق کی انفرادیت ظاہر کرنے کے لیے اسے خاص نام دیتا ہے۔ اراد ہ تکوین اور فعل آفرینش ایک ہی ہیں اور کائنات کی اصل روحانی ہے۔

اس کے بعد اقبال خیر و شر کا ذکر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ ہستی جس کی حرکات و سکنات مکمل طور پر مشین کی طرح ہوں، نیکی کے کام نہیں کر سکتی۔ نیکی کے لیے آزادی شرط ہے۔ خدا نے انسانی مودی کو آزادی عمل کی نعمت سے سرفراز کیا ہے۔ اس کے بعد اقبال دعا کی وضاحت کرتے ہیں اور کہتے ہیں

کہ دعا کی بدولت ہماری شخصیت کا چھوٹا سا جزیرہ ایک وم بحر بے کراں بن جاتا ہے۔ تلاش حقیقت میں فلسفہ بہت سست رفتار ہے جب کہ دعا برق خرام ہے۔ چوتھے خطبے خودی، آزادی اور لافانیات میں علامہ اقبال خودی کی بحث کرتے ہیں اور انسان کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قرآن کے مطابق انسان اشرف مخلوق ہے، انسان کو اللہ نے خلیفہ فی الارض کا منصب عطا کیا ہے ۔ اقبال کے مطابق انسان آزاد شخصیت کا امین ہے، وہ کہتے ہیں کہ خودی وائس یہ مکان نہیں ہے۔ اسی طرح زمان بھی خارجی دنیا میں ماضی، حال اور مستقبل کی صورت اختیار کرنے کے باوجود اندرونی دنیا میں ناقابل تقسیم ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شعوری تجر بہ خودی کے روحانی جو ہر کا صحیح سراغ نہیں دے سکتا لیکن اس کے باوجود شعوری تجربے کی تعبیر ہی وہ شاہراہ ہے جس پر چل کر ہم مودی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔

پانچویں خطبے ”اسلامی ثقافت کی روح میں علامہ اقبال اسلامی کلچر کی روح کا ذکر کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ابن خلدون نے سب سے پہلے اسلام کی ثقافتی تحریک کی روح کو محسوس کر کے اسے منظم طور پر بیان کیا ۔ اقبال فقہ کو اسلام کا اصول حرکت قرار دیتے ہیں جو اسے سب زمانوں کے لیے کافی بنا دیتا ہے، اقبال بتاتے ہیں قرآن کی رو سے حصول علم کے تین ذرائع ہیں : باطنی مشاہدہ، مطالعہ فطرت اور تاریخ۔ خط پر ششم ”اجتہاد، اسلام میں اصول حرکت “ میں علامہ اقبال اسلام کے اصول حرکت اور اجتہاد یعنی قانونی معاملات پر آزادانہ رائے قائم کرنے کا تفصیلی ذکر کرتے ہیں اس مخطبے میں اقبال بتاتے ہیں کہ قرآن سے ماخوذ قانونی اصول، بدلتے زمانہ اور حالات کے مطابق پھیلاؤ اور ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قرآن میں اللہ نے اجتہاد و جد وجہد کرنے والوں کی رہنمائی کا وعدہ کیا ہے۔ حضرت عمر نے حالات کے مطابق اجتہاد کیا، چہار فقہی مکاتب کے بعد اسلامی فقہ جمود کا شکار ہو گیا کیونکہ مختلف وجوہ کی بنا پر اجتہاد کے دروازے بند کر دیے گئے ، اس سے مسلم امت کو فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہوئے۔

اقبال عقیدہ توحید کو بنی نوع انسانی کی وحدت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جو مصنوعی امتیازات رنگ و نسل وغیرہ کو مٹاکر ساری انسانیت کو ملت واحدہ بنا سکتا ہے۔ اسلام ہر زمانے اور کل انسانیت کے لیے منبع ہدایت ہے۔

آخری خطبے کیا مذہب کا امکان ہے ؟“ میں علامہ اقبال مشرق و مغرب کی اقوام کی زبوں حالی کا تذکرہ کرتے ہوئے ان مشکلات سے نکلنے کا واحد ذریعہ مذہب کو قرار دیتے ہیں۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اگست 2023

Loading