Daily Roshni News

اسمائے مبارک آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

اسمائے مبارک آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جمال رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم از حضرت ابوالفیض سہروردی قلندر رحمۃ اللہ علیہ. آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم رحمت ہیں

اور تمام مخلوق کے لیے رحمت ہیں، جن و انسان کے لیے رحمت ہیں، مومن و کافر کے لیے رحمت ہیں، مومن کے لیے رحمت بسببِ ہدایت کے، منافق کے لیے رحمت بسببِ امان از قتل کے اور کافر کے لیے رحمت بسببِ تاخیرِ عذاب کے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے تمام مخلوق اُن عذابوں سے محفوظ ہو گئی ہے جو پہلی امتوں پر آتے رہے ہیں۔ جنہوں نے اپنے پیغمبروں (علیہم الصلوٰۃ والسلام) کو جھٹلایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نبیِ رحمت، نبیِ ءتوبہ، نبیِ ملاحم ہیں، آپ کا رحمت ہونا کسی خاص قوم یا خاص ملک کے لیے نہیں ہے، وہ رحمت کا بادل مشرق و مغرب اور شمال و جنوب پر یکساں برسا، جس طرح بادشاہ اُس کے چشمہٴ کرم سے بہرہ یاب ہوئے اُسی طرح غریبوں نے بھی اُس کی رحمت کے موتیوں سے اپنی جھولیاں بھریں۔ جس طرح نشیب و فراز نے اُس سے نفع اٹھایا اُسی طرح حاضر و غائب مستفیض ہوئے اور شش جہات کی کوئی چیز اُس کی رحمت سے خالی نہ رہی۔

  1. 88. آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم مُحَلِّل ہیں

یعنی اُن اشیاء و افعال کے مجاز ہیں جو کسی پر حلال نہ تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بندشوں کے دروازے کھول دیئے ہیں۔

  1. 89. آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم مُحَرِّم ہیں

ہر وہ چیز جو فطرتاً اپنی تاثیر کے ماتحت انسان کے لیے مضر تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کے فائدے کے لیے اس کے استعمال سے صرف منع ہی نہیں فرمایا بلکہ اس کے مرتکب پر وعید اور سزا بھی فرمائی ہے تاکہ رافت کے ماتحت یہ لوگ دینِ فطرت کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو عظمت و ہیبت سے اُن کو اس مضر شے یا فعل سے باز رکھا جائے۔

  1. 90. آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم آمِر و ناہٍ ہیں

یعنی صاحبِ امر و نہی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہاں اور نہ فرمانے میں کوئی سچا نہیں، صاحبِ قصیدہ بردہ فرماتے ہیں کہ صاحبِ امر و نہی ہونے کے یہ معنی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حاکم ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا عالم میں کوئی حاکم نہیں اور نہ وہ کسی کے محکوم ہیں بلکہ صاحبِ فرمان، مالکِ افتراض و والیِ تحریم ہیں اور یہ وہ شان ہے جو بعد از خداوندِ جل و علاشانہٴ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کو حاصل نہیں، آپ نے صحرا نشینوں، امّیوں، بے تہذیبوں اور اُجَڈّوں میں پیدا ہو کر اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست وغیرہ معاملات کے علاوہ امر و نہی کے وہ قوانین وضع فرمائے کہ دنیا میں حیرت انگیز ترقی کے باوجود آج تک اُن میں کسی کو ترمیم کی گنجائش نظر نہیں آئی۔

  1. 91. آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم شکور ہیں

یعنی ہر لحظہ بارگاہِ رب العزت میں شکر گزار ہیں، ہر نعمت و مشقت پر مولائے کریم کا شکر ادا فرماتے۔ ایک مرتبہ حضرت أم المؤمنین عائشہ صدیقہؓ نے دیکھا کہ آپ رات کی نماز میں اس قدر قیام فرماتے ہیں کہ آپ کے قدمِ مبارک سوج جاتے اور متورِّم ہو کر اُن سے خون کی سیرین پھوٹ نکلتیں تو حضرت صدیقہؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کو اللہ کریم نے بے شمار فضائل و محاسن سے نہیں نوازا؟ اور آپ پر لا تعداد انعامات نہیں فرمائے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اللہ کریم نے مجھ پر بے انداز نوازشات فرمائی ہیں جو کسی کو بھی حاصل نہیں تو حضرت صدیقہؓ عرض کرتی ہیں کہ پھر آپ عبادت میں اس قدر تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں اور اس قدر مشقت کیوں فرماتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ کیا تو چاہتی ہے کہ میں اُس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ یعنی جس مولائے کریم نے مجھ پر یہ کرم نوازی کی ہے میرا بھی فرض ہے کہ میں اُس کا شکریہ ادا کروں۔

  1. 92. آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم قریب و منیب ہیں

رب العزت کے حضور میں سب سے آگے، جنت میں سب سے آگے، پیدائش میں سب سے آگے اور شفاعت میں سب سے آگے ہیں۔ وہ زندگی کے ہر شعبے میں بنی نوع انسان کی مکمل راہنمائی فرماتے ہیں اور رجوع الی اللہ کا یہ عالم ہے کہ دین کے ساتھ دنیا کو بھی لے چلنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ادنیٰ سی خصوصیت ہے۔ فطری طور پر ایک گمراہ، پابندِ ہوا و ہوس اور زمانہ ناشناس، تہذیب و تعلیم سے گری ہوئی قوم کے لیے دین و دنیا کا یکجا قوام کر کے انتہائی ترقی کے زینہ پر لے جانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے جن کی تبلیغ کی گہرائی میں ساری دنیا سما گئی۔

  1. 93. آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم مبلغ ہیں

جنہوں نے شریعتِ مطہرہ کے احکام کھول کھول کر خلقِ خدا کو پہنچائے۔ جنسی اور نسلی تعصبات کروڑوں انسانوں کو پامالِ جور و ستم بنائے ہوئے تھے، ہر قوم جو طاقت رکھتی تھی روئے زمین کی ہر چیز کو صرف اپنے ہی لیے سمجھتی تھی، باہمی رواداری اور اتحاد و یگانگت کا کوئی مستحکم رشتہ موجود نہ تھا، آخر اس مبلغِ اعظم و تاجدارِ اخوت و مساوات نے انسانیت کی شیرازہ بندی کے لیے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کا ایک اسلامی رشتہ قائم کیا اور منتشر دلوں کو باہم جوڑ کر بھائی بھائی بنا دیا۔ اس کا سب سے زندہ اعجاز اور ابدی سبق قرآنِ کریم ہے جو انہی الفاظ میں اب تک موجود ہے جو بذریعہٴ وحی 23 برس کی مدت میں نازل ہوا تھا۔

  1. 94. آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم طٰس و حم ہیں

اُن رازوں کے رازدار جو رب العزت نے آپ کے لیے ودیعت فرمائے اور اُن اسماء سے موسوم ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باطنی حالات و کمالات، فضائلِ جلیلہ، خصائل و خصائصِ جمیلہ، درجاتِ رفیعہ و مراتبِ منیعہ کے ماتحت مولائے کریم نے رکھے۔ جن میں عوام کا لانعام کی تو کیا حقیقت ہے انبیاء و مرسلین و ملائکہِ مقربین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم کا بھی حصہ نہیں ہے۔ ان ارشادات کا علم خطاب فرمانے والا جانتا ہے یا خطاب کیا گیا۔

  1. 95. آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم حسیب ہیں

جن کو کائنات کے ذرے ذرے کا اس لیے عالم بنایا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب پر محاسبت فرماسکیں گے کیونکہ بغیر اس محاسبہ کے کوئی بھی علوِّ مرتبت نہیں پا سکتا۔ حسیب ہونا ایک وہ بلند صفت ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھی کیونکہ حسیب وہ ہوتا ہے جس میں قوت و طاقت تو بے پناہ ہو مگر عقل کی تابع ہو۔ ہر مشکل کے وقت حتیٰ کہ سکراتِ موت میں بھی نفس مطمئن ہو اور اس کے اس بلند پایہ اور بے پرواہ فعل کی تعریف کی جائے حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو صاحبِ حوصلہ و سخی اور ہر معاملہ میں حسیب اور خوش رہنے والا نہیں دیکھا۔

  1. 96. آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم اولیٰ ہیں

جن کے احکام اُن کے تصرف کی قوت سے ملے ہوئے ہیں جن کا غلام یا صحابی بننا موجبِ سعادتِ دنیا و عقبیٰ ہے۔ تورات میں ذکر کیا گیا ہے کہ ایک اولیٰ شخص، اولیٰ امت کے لیے، اولیٰ ہونے کی حیثیت میں ظاہر ہوگاے۔ وہ اپنی امت کی اصلاحِ ہدایت و تعلیم سے کرے گا اور رہتی دنیا تک نوعِ انسان کے ساتھ رہے گا۔ وہ خوبیاں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولیت پر گواہ ہیں وہ ہیں جن میں کسب و عمل کو دخل نہیں بلکہ رب العزت کی عنایت و موہبت سے ہیں: فضیلت، نبوت، رسالت، خلت، محبت، برگزیدگی، اسرار، دیدارِ قرب، شفاعت، مقامِ محمود، معراجِ جسمانی، امامتِ الانبیاء، قیامت کو انبیاء و اممِ سابقہ پر گواہ ہونا، اولادِ آدم کی سرداری، صاحبِ عرش کے نزدیک حمد، لواءِ الحمد کا پانا، رحمت اللعالمین ہونا، ہدایت، امانت، رضا، کوثر، گذشتہ و مابعد امور سے قبل از وقوع معافی، انشراحِ صدر، رفعت، ذکرِ سکینہ کا اُترنا، فاتح ہونا، تائیدِ ملائکہ، کتاب و حکمت، سبعِ مثانی، قرآنِ عظیم، پاکیزگیِ رحمت، اللہ تعالیٰ اور ملائکہ کا درود شریف پڑھنا، آپ کے اسمِ پاک، پیشانی، عمر اور مسکنِ پاک کی قسمیں کھائی جانا، قبولیتِ دعا کا وعدہ، شجر و حجر کا کلام، انگشتانِ مبارک سے پانی کا اجرا، تھوڑی چیز میں برکت، شق القمر، ردّ الشمس، اشیاء کا مدد دینا، علمِ غیب، سایہ نہ ہونا، سنگریزوں کا تسبیح پڑھنا، دردوں بیماریوں کا اچھا کر دینا، لوگوں کے شر سے بچانا، وغیرہ جن کا کوئی عقل احاطہ نہیں کر سکتی اور اُن کے علم پر سوائے اُس کے عطا فرمانے والے خدائے وحدہُ کے اور کوئی آگاہ نہیں۔

  1. 97. آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم رحمة اللعالمین ہیں

تمام جہان اور تمام جہانیوں کے لیے خواہ وہ اول ہیں یا آخر، حاضر ہیں یا غائب، زندہ ہیں یا مردہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسمِ پاک کی برکت سے یہ اُمت ”اُمتِ مرحومہ“ کہلانے کے مستحق ہو گئی ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طفیل آپس میں صبر و رحمت کی وصیت کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطاب کے ماتحت کائنات کے ایک ایک ذرے کو ابدی طور پر اپنی وسیع رحمت کے دائرے میں گھیر لیا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بجائے خود ایک صفتِ رحیم کی، اور صفت اُس وقت تک فناء نہیں ہوتی جب تک موصوف فناء نہ ہو جائے۔ چونکہ رب العزت جلَّ شانہُ کے فناء کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں۔ لہٰذا اُس کی صفتِ رحمت اللعالمینی یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ابدی اور ہر شے کو گھیرے ہوئے ہیں۔

چنانچہ بیان کیا گیا ہے کہ جبریل علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آپ کو بھی اُس رحمت سے کچھ حصہ ملا ہے، فرمانے لگے ہاں ملا ہے اور وہ یہ ہے کہ میں اپنے انجام سے ڈرا کرتا تھا مگر اب بے خوف ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی رحمت کے پیشِ نظر قرآنِ پاک میں میری تعریف کی ہے اور مجھے مولائے کریم نے اپنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں با عزت مطبوع اور امین فرمایا ہے اور جو میرے ساتھ دشمنی رکھنے والی مخلوق ہے اُن کو اپنا دشمن بیان کیا ہے اور اصحابِ یمین کی سلامتی اسی رحمت کے طفیل ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ رب العزت نے میری اُمت کے لیے میری وجہ سے دو امانتیں اتاری ہیں، ایک یہ کہ جب تک کہ میں اُن میں ہوں اُن پر عذاب نہ آئے گا۔ دوسرے جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے عذاب سے محفوظ ہوں گے۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابدی طور پر بحیثیتِ رحمت اللعالمین ہونے کے اُمت کے ساتھ ہیں۔ اس لیے اُمت عذاب سے مامون ہے۔

مندرجہ بالا اسماءِ شافیہ کے علاوہ قرآنِ کریم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اور بہت سے اسماءِ مبارکہ ہیں جن کو یہاں ذکر نہیں کیا گیا۔ وہ تفصیلی تذکار میں انشاء اللہ مذکور ہوں گے اور یہ خصوصیاتِ عالیہ وہ تھیں جو غلاموں کی آگاہی کے لیے اپنے محبوب کی اظہارِ شان کی غرض سے رب العزت جلّ مجدہُ نے ارشادات و احکام میں ظاہر و باہر فرما دیں اس کے سوا جو کچھ اُس مالکِ دو جہان نے مراتبِ عالیہ و مدارجِ رفیعہ دارِ آخرت میں آپ کے واسطے زیادہ فرمائے ہیں وہ یہ ہیں جن کے تصور سے عقلیں گم ہو جاتی ہیں اور ادراک اُن کی خبر ہی سے حیران ہوئے جاتے ہیں۔

خدا کرے کہ جن حقائق کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماءِ شافیہ کے ماتحت فقیر نے مختصراً درج کیا ہے عوام الناس کے قلوب اُن سے قُربِ نبوت کے انوار حاصل کریں اور اپنی باطنی بینائی سے معرفتِ رسالت کو پا سکیں اور اُس ابدی سخی کو اپنا ملجائی و ماویٰ ٹھہرائیں۔ جس کے کسی سائل کو ناکامی نہیں ہوئی اور جس کا کوئی بھکاری نامراد نہیں رہا اور جس کے دربار میں دشمن بھی رسوا و ذلیل نہیں ہوئے۔ جو مفسدین کے اعمال بھی اُن کے منہ پر نہیں لاتا اور جس نے دشمنوں کو بھی ہمیشہ اپنی رحمت کی کملی میں پناہ دی ہے۔ وہی مجرموں اور عاصیوں کا سہارا اور وہی ناداروں و خطاکاروں کا آسرا ہے۔

جو اُس کے جلوؤں سے ہو منوّر، اُس آئینے میں نہ بال آئے

مٹے خیالِ گناہ دل سے، جو دل میں اُس کا خیال آئے!

اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ جَمَالِ مُحَمَّدٍ اَرَنِیْ وَجْہَ مُحَمَّدٍ حَالاً وَّ مَالاً

ترجمہ:

اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حسن و جمال کے صدقے، مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا چہرہِ انور ابھی (اسی وقت/بیداری میں) اور انجامِ کار (مستقبل/آخرت میں) دکھا دے۔

Loading