اسوہ رسول ﷺ
خواجہ شمس الدین عظیمی /ادارہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اسوہ رسول ﷺ۔۔۔ خواجہ شمس الدین عظیمی /ادارہ)سنت، اسودہ اور طرز فکر:اسوہ رسول، سنت نبوی، رسول الله ﷺ کی طرز فکر، مفہوم کے اعتبار سے تینوں ایک ہی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ ، سنت نبوی ﷺ یا حضور ﷺ طرز فکر کیا ہے….؟
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے کسی نے پوچھا کہ رسول اللہ میم کا خلق کیا ہے…؟ حضرت عائشہ نے اس شخص فرمایا۔ تم نے قرآن پڑھا ہے….؟ اس نے جواب دیا۔ جی۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا: “قرآن ہی رسول اللہ ﷺ کا خلق یا اسوۂ حسنہ ہے“۔
رسول اللہ عﷺکی طرز فکر، سنت یا اسوہ حسنہ کو سمجھنے کے لیے خود حضور علیہ صلوۃ و السلام نے رہنمائی فرمائی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ مٹی یا نیم سے عرض کیا۔
آپ ﷺ کی سنت کیا ہے …. ؟
جوامع الکلم سید نا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی سنت ، اسوہ اور طرز فکر کو ان الفاظ کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے کہ المَعْرِفَةُ رَأْسُ مَالِي ( معرفت میرا سرمایه زندگی ہے)
-
والعقلُ أَصْلُ دِينِي (متقل میرے دین کی اصل ہے)
-
والحب اسامی (محبت میری بنیاد ہے)
-
وَالشَّوقُ مَرْكَبِی (شوق میری سواری ہے)
-
وذكر الله انیسی (ذکر الہی میرا مونس ہے)
-
وَالشَّقَةُ كَنُزِی (اعتماد میر اخزانہ ہے)
-
وَالْحُزْنُ رفيقي ( فکرمندی میری رفیق ہے)
-
والعِلم سلامی (علم میرا ہتھیار ہے)
-
9. والصبرُ رِدائی (مبر میری چادر ہے)
-
وَالرَّضَاء غَنِيمَتِی (رضامیر امالِ غنیمت ہے)
-
وَالعَجْزُ فَخْرِى ( عجز وانکسار میر انخر ہے)
-
وَالدُّهُدُ حِرْ فَتِي (زبد میرا پیشہ ہے)
-
وَاليَقينُ قُونِي (یقین میری طاقت ہے)
-
والصدق شفیعی (سچائی میری مددگار ہے)
-
وَالطَّاعَةُ حَسبی (اطاعت میرا حسب ہے)
-
وَالْجِهَادُ خُلقی ( جد وجہد میری عادت ہے)
-
وَقُوَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوة ( صلوۃ میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے)
[ تخریج احادیث الاحياء الفوائد المجموعه المشوکانی، کشف التقاء، حوالہ : کتاب الشفاء قاضی عیاض ]
دیکھنے میں یہ 17 مختصر جملے ہیں، لیکن یہ سترہ جملے سنت نبوی اور اسوۂ حسنہ کی تفہیم کے لیے 17 ابواب ہیں اور ہر باب اپنے آپ میں ایک مکمل کتاب ہے۔ ہر لفظ میں معرفت اور حکمت و دانائی مخفی ہے ، اور ہر جملہ علم و عرفان کے اسرار و رموز سے معمور ہے۔ ان فرمودات پر یکسوئی کے ساتھ نظر کیا جائے تو آپ نیلم کے اسوۂ حسنہ کو واضح طور سے سمجھا جا سکتا ہے۔
آئے اب ایک ایک فرمان کو توجہ کے ساتھ پڑھیں اور اس کے معنی اور مفہوم پر غور کریں۔ فرمودات کے اندر جو حقیقتیں مخفی ہیں اور اسرار و رموز کا جو سمندر پنہاں ہے، اس تک رسائی پانے کی کوشش کریں ….
معرفت ، سرمایه زندگی
معرفت کے معنی ہیں پہچانا۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالی نے مخلوق کو اپنی محبت خاص سے اس لئے پیدا کیا تا کہ مخلوق اللہ کو پہچانے ، اللہ کی کبریائی اور عظمت کا اقرار و اعتراف کرے۔ معرفت دو قسم کی ہے۔
معرفت نفس اور معرفت الہی:انسان کا اصل مقصد اللہ تعالی کو پہچانا ہے اللہ تعالی کا عرفان حاصل کرنا ہے۔ اللہ تعالی کو پہچاننے سے پہلے انسان کا خود کو پہچانا ضروری ہے۔
انسان خلوص نیت کے ساتھ پہلے باطل نظریات و عقائد و تعصبات وغیرہ سے دل کو صاف کر کے اپنی ہستی پر غور و فکر کرے تو اس پر اس کا مقصد حیات منکشف ہوتا ہے۔ اسے کائنات اور اپنے معبود کے تعلق کا علم ہوتا ہے۔ معرفت نفس معرفت الہی کا اولین مرحلہ ہے۔ معرفت کو رسول اللہ صلی ا ہم نے اپنے لیے سرمایہ حیات کیا ہے، آپ نے اپنی پوری زندگی معرفت کے راہ میں گزاری اور اس دنیا سے پردہ فرماتے ہوئے بھی آپ کے الفاظ یہی تھے کہ رفیق اعلیٰ کی جانب ..
عقل، دین کی اصل
اصل کے معنی بنیاد یا جڑ کے ہیں۔ جس طرح درخت اپنی بنیاد جڑ پر قائم ہوتا اور اس پر اس کی نشو و نما اور بقا کا دار و مدار ہوتا ہے۔ دین اسلام اور اللہ تعالی کے ارشادات کی فہم تک رسائی عقل کے ذریعے ہوتی ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے غور و فکر سے کام
لیں ۔ قرآن میں کئی مرتبہ فرمایا گیا ہے …. کیا تم مشاہدہ نہیں کرتے ؟ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے ؟ کیا تم تدبر نہیں کرتے ؟
محبت میری بنیاد
اللہ تعالی فرماتے ہیں، میں چھپا ہوا خزانہ تھا پیس میں نے محبت کے ساتھ مخلوق کو پیدا کیا تا کہ میں پہچانا جاؤں۔ محل نظر یہ بات ہے کہ اللہ خود کہتا ہے ” میں نے محبت کے ساتھ تحقیق کیا ہے “۔ یعنی اللہ کو پہنچانے کا ذریعہ محبت ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ مخلوق بھی محبت کے ساتھ اللہ کی قربت پانے کی جستجو کرے۔ اللہ کی محبت میں ڈوب کر اور اس محبت کے رستے پر چل کر اللہ کادوست بنا جا سکتا ہے۔
محبت الہی انسان کو طبعاً ودیعت کی گئی ہے۔ اللہ تعالی کی محبت کا یہ تقاضا بھی ہے کہ اس کی مخلوقات خصوصاً بنی نوع انسان سے محبت کی جائے۔ محبت انسانی کا مطلب یہ ہے کہ بنی نوع انسان سے حسن اخلاق اور عدل و احسان کیا جائے کیونکہ اللہ عدل و احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ وَأحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ محبت آپ علیہ الصلوہ و والسالم کے اسوۂ حسنہ کی بنیاد ہے، حضرت محمد علیم صرف عالم انسانی نہیں بلکہ تمام عالموں کے لیے رحمت ہیں۔
شوق میری سواری
عربی زبان میں شوق سے مراد طلب و جستجو یا آرزو ہے۔ جس سے زندگی میں حر کی فعالیت پیدا ہوتی ہے۔ شوق میری سواری “ کا مطلب یہ ہوا کہ۔۔۔جاری ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ستمبر 2024
![]()

