Daily Roshni News

اصل حقیقت  ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  محمد عظیم حیات

۔۔۔  اصل حقیقت  ۔۔۔

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  محمد عظیم حیات

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔۔۔  اصل حقیقت  ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  محمد عظیم حیات)سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ تصویر دنیا بھر میں شدید بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ پہلی نظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شخص کسی جدید راکٹ یا اڑنے والی مشین پر سوار ہو، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اوپر دکھائی جانے والی تصویر اصل قدیم نوادر نہیں، بلکہ ایک جدید تخیلاتی (Artistic Reconstruction) تصویر ہے۔ اصل نوادر نیچے دکھایا گیا مٹی کا برتن ہے، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ پیرو کے Brüning Museum میں محفوظ ہے اور قبل از کولمبس دور کی ایک قدیم تہذیب سے تعلق رکھتا ہے۔

یہ برتن اپنی منفرد ساخت کی وجہ سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہے۔ اس کا لمبا، نوک دار جسم اور اوپر لیٹی ہوئی انسانی شکل اسے عام برتنوں سے بالکل مختلف بناتی ہے، اسی لیے اس کے اصل مقصد پر آج تک مکمل اتفاق نہیں ہو سکا۔

کچھ ماہرین کے نزدیک یہ کسی مذہبی یا ثقافتی رسم میں استعمال ہونے والا برتن تھا، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ یہ کسی دیومالائی کردار، شکاری یا مقامی ہیرو کی علامتی تصویر پیش کرتا ہے۔ کچھ ماہرین اسے قدیم فنکاروں کی تخلیقی سوچ کا شاہکار قرار دیتے ہیں، جہاں مقصد کسی مشین کو دکھانا نہیں بلکہ ایک تصور یا عقیدے کی عکاسی کرنا تھا۔

دوسری طرف قدیم اسرار میں دلچسپی رکھنے والے بعض مصنفین اور محققین ایک مختلف امکان بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر واقعی ماضی میں زمین پر کوئی ایسی ترقی یافتہ تہذیب موجود تھی جس کے آثار ابھی تک دریافت نہیں ہو سکے، یا اگر خلائی مخلوق کبھی زمین پر آئی تھی، تو ممکن ہے کسی قدیم انسان نے ایسی کسی چیز کو دیکھا ہو اور بعد میں اسی مشاہدے کو مٹی کے اس برتن کی شکل میں محفوظ کر دیا ہو۔ اسی وجہ سے بعض لوگ اس نوادر کو Ancient Astronaut Theory یا خلائی مخلوق کے نظریے سے بھی جوڑتے ہیں۔

اگرچہ اس خیال کے حق میں آج تک کوئی قابلِ اعتماد سائنسی یا آثارِ قدیمہ کا ثبوت موجود نہیں، لیکن یہ نظریہ کئی دہائیوں سے دنیا بھر میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، اور اسی وجہ سے اس برتن کو دیکھ کر آج بھی لوگوں کے ذہن میں نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔

کچھ لوگ اسے قدیم ہوائی جہاز کا ماڈل سمجھتے ہیں، کچھ راکٹ کہتے ہیں، کچھ اسے مذہبی برتن قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ کے نزدیک یہ صرف ایک علامتی فن پارہ ہے۔ شاید اصل حقیقت ان تمام امکانات سے مختلف ہو۔

ہزاروں سال گزرنے کے باوجود یہ خاموش مٹی کا برتن آج بھی اپنا راز اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔ شاید مستقبل کی کوئی نئی دریافت، کوئی نئی کھدائی یا کوئی نیا سائنسی تجزیہ اس معمہ کو حل کر دے… یا شاید یہ ہمیشہ تاریخ کے دلچسپ ترین رازوں میں سے ایک ہی رہے۔

پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔

دعا کا طالب

محمد عظیم حیات

لندن

حوالہ:

  • Museo Brüning (Peru)

  • Peru Ministry of Culture

#funpaaray #history #Amazing

Loading