Daily Roshni News

اصل وقار وہ ہے جو آئندہ نسلوں کو جھوٹ سے محفوظ رکھے۔

اصل وقار وہ ہے جو آئندہ نسلوں کو جھوٹ سے محفوظ رکھے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قدیم جاپان میں، کیوتو کے قریب ایک پہاڑی پر ایک لکڑی کا پل تھا جسے لوگ “پلِ فیصلہ” کہتے تھے۔ روایت تھی کہ جو اس پل سے گزرتا ہے، وہ واپس وہی انسان نہیں رہتا۔ اسی

علاقے میں ہارو نام کا ایک نوجوان سامورائی رہتا تھا

تلوار تیز، اصول سخت، اور دل میں ایک ہی خواہش: بے داغ عزت۔

ایک رات اس کے استاد نے اسے بلایا اور ایک خفیہ حکم دیا:

“شہر کے ایک بوڑھے کاتب کو خاموش کرنا ہے۔ وہ سچ لکھتا ہے، اور سچ اس وقت ریاست کے لیے خطرہ ہے۔”

ہارو نے سر جھکا لیا۔ حکم، حکم ہوتا ہے۔ مگر دل میں پہلی بار بوجھ اترا۔ وہ رات کے اندھیرے میں پل کی طرف بڑھا۔ پل کے بیچ پہنچ کر اسے ایک کمزور آواز سنائی دی۔ بوڑھا کاتب پل کے کنارے بیٹھا کاغذات سمیٹ رہا تھا۔ اس نے ہارو کو دیکھ کر کہا:

“تم دیر سے آئے ہو۔ میں جانتا تھا کوئی آئے گا۔”

ہارو نے تلوار نکالی۔ بوڑھے نے مزاحمت نہ کی۔ بس ایک کاغذ آگے بڑھایا:

“یہ شہر کی کہانی ہے غلطیوں سمیت۔ اگر یہ نہ لکھی گئی تو کل بچے جھوٹ سیکھیں گے۔”

ہارو کے ہاتھ کانپ گئے۔ استاد کی تعلیم یاد آئی: “عزت اطاعت میں ہے۔” مگر پل کے نیچے بہتا دریا سرگوشی کر رہا تھا: “عزت سچ میں بھی ہوتی ہے۔”

ہارو نے تلوار نیام میں ڈال دی۔ اس نے بوڑھے کو پل پار کرا دیا، اور خود پل کے بیچ رُک گیا۔ صبح ہوئی تو خبر پھیلی: ہارو نے حکم توڑا ہے۔ اسے سامورائی سے عام آدمی بنا دیا گیا۔ تلوار لے لی گئی، نام مٹا دیا گیا۔

برسوں بعد، شہر میں قحط آیا۔ وہی کاتب کی تحریریں سامنے آئیں جن میں پہلے سے خبردار کیا گیا تھا۔ شہر بچ گیا۔ لوگ پل کے پاس جمع ہوئے اور اس نوجوان کو یاد کیا جس نے ایک رات عزت کی تعریف بدل دی تھی۔

ہارو اب ایک معمولی کاریگر تھا۔ کسی نے پوچھا:

“تم نے سب کچھ کھو دیا، پچھتاوا نہیں؟”

اس نے پل کی طرف دیکھ کر کہا:

“میں نے سب کچھ نہیں کھویا میں نے خود کو بچا لیا۔”

سبق

اطاعت عزت کی ایک صورت ہے، مگر آخری نہیں۔ جب حکم سچ کو کچل دے، تو نافرمانی انسان کو بچا لیتی ہے۔ اصل وقار وہ ہے جو آئندہ نسلوں کو جھوٹ سے محفوظ رکھے۔

حوالہ جات

جاپانی سامورائی اخلاقیات (Bushidō)

کلاسیکی جاپانی تمثیلی حکایات

Public Domain Japanese Moral Literature

Loading