Daily Roshni News

افغانستان رو رو کر جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے دوسری طرف اس کی افواج پاکستان کی سرحد کی طرف بڑھ رہی ہیں

افغانستان رو رو کر جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے دوسری طرف اس کی افواج پاکستان کی سرحد کی طرف بڑھ رہی ہیں

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )طالبان کی البدری برگیڈ جو ہمارے بارڈر کی طرف بڑھ رہی تھی، راستے میں ہی مکمل تباہ کر دی گئی ہے، 5 امریکی بم پروف گاڑیوں سمیت 4 ہائی لیکس گاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ افغان طالبان نے ایک بار پھر وعدہ خلافی کی، تراویح کے بہانے اپنے لوگوں اور اسلحہ بارود کو سرحد پر منتقل کرنا شروع کیا ہی تھا کہ شاہینوں نے بھون کے رکھ دیا۔

دنیا اب محض اندازے نہیں لگا رہی بلکہ اس نتیجے تک پہنچنے پر مجبور ہو چکی ہے کہ امریکہ کا خلیج فارس، خلیج عرب اور عرب ممالک میں اپنی افواج اور بحری بیڑوں سمیت غیر معمولی اور بے لگام اضافہ کسی وقتی دفاعی حکمتِ عملی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم، سوچا سمجھا اور طویل المدتی سامراجی منصوبہ ہے۔ عالمی سیاسی، عسکری اور میڈیا تجزیہ کار اب کھل کر اس حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں کہ یہ سارا کھیل عرب ممالک کے قدرتی وسائل، بالخصوص تیل اور گیس، پر مکمل گرفت مضبوط کرنے اور امریکہ کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے رچایا گیا ہے۔ امریکہ دانستہ طور پر پیدا کی گئی بدامنی، کشیدگی اور عدم استحکام کو جواز بنا کر نہ صرف اپنی فوجی موجودگی میں خطرناک حد تک اضافہ کر رہا ہے بلکہ اس اضافے پر آنے والے ماہانہ اور سالانہ اخراجات بھی سیکیورٹی معاہدوں اور دفاعی تحفظ کے نام پر عرب ممالک سے وصول کر کے اپنی جنگی معیشت کو مسلسل ایندھن فراہم کر رہا ہے۔

عام حالات میں امریکی افواج میں اس سطح اور نوعیت کا اضافہ کسی صورت ممکن نہ ہوتا، مگر ایران کو مستقل خطرہ بنا کر اس پورے کھیل کو قابلِ قبول بنایا گیا۔ ایران یہاں کسی مظلوم فریق کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے فعال کردار کے طور پر سامنے آتا ہے جو دوغلے رویوں، ابہام اور مفاد پرستانہ چالوں سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔ چین، روس اور شمالی کوریا کی جدید عسکری و تکنیکی صلاحیتوں کا ایران تک پہنچنا اور پھر ان معلومات کا خفیہ راستوں سے افشا ہونا اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران بڑی طاقتوں کے درمیان ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کے کھیل کا ایک غیر معتبر میدان بن چکا ہے۔

یہی عالمی سازش اس وقت کھل کر عیاں ہو جاتی ہے جب پاکستان کی ارضِ مقدسہ، خصوصاً پاکستان کے دل بلوچستان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اب یہ کہنا خود فریبی کے مترادف ہے کہ بلوچستان کوئی داخلی مسئلہ ہے۔ بلوچستان ہرگز داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک منظم، منصوبہ بند اور طویل المدتی بین الاقوامی پراکسی جنگ کا میدان ہے۔ واضح اور ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں، خصوصاً بی ایل اے، کسی عوامی تحریک کی نمائندہ نہیں بلکہ بیرونی دشمن ممالک کے ایجنڈوں کا مسلح ہتھیار ہیں۔ بھارت، افغانستان، متحدہ عرب امارات بالخصوص ابوظہبی اور دبئی، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے کردار کو نظر انداز کرنا اب قومی سلامتی سے غداری کے مترادف ہے۔

یہ کوئی اتفاق نہیں کہ ان تنظیموں کو جدید اسلحہ، ایمونیشن اور حساس ڈیوائسز فراہم کی جا رہی ہیں، اور یہ بھی کوئی راز نہیں کہ ایران اور افغانستان میں بیٹھے عناصر انہیں منظم کرتے اور ہینڈل کرتے رہے ہیں۔ بلوچستان میں بہنے والا خون کسی داخلی غفلت کا نتیجہ نہیں بلکہ بیرونی مداخلت اور کھلی جارحیت کا ثبوت ہے، جس کا مقصد گوادر، سی پیک، بحیرۂ عرب تک رسائی، معدنی وسائل اور پاکستان کی اسٹریٹیجک حیثیت کو سبوتاژ کرنا ہے۔

ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر پاک افواج، پاکستان آرمی، پاک بحریہ، پاک فضائیہ، انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) نے وہ کردار ادا کیا ہے جو قوموں کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے۔ دشمن کی ہر چال، ہر سازش اور ہر پراکسی کو بے نقاب کرنے میں ان اداروں نے خاموشی، پیشہ ورانہ مہارت اور بے مثال جرات کے ساتھ وہ کام کیا ہے جو صرف مضبوط ریاستیں ہی کر سکتی ہیں۔ پاک فوج کے افسران سے لے کر جوان تک، جنہوں نے بلوچستان کے پہاڑوں، وادیوں اور سرحدی علاقوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، وہ صرف شہید نہیں بلکہ پاکستان کے تحفظ کی زندہ علامت ہیں۔ ان شہادتوں نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ جنگ پاکستان کے وجود کی جنگ ہے اور اس میں پاک افواج ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے والی نہیں۔

چیف ڈیفنس فورسز، چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کی قیادت میں ریاست نے وہ فیصلہ کن سمت اختیار کر لی ہے جس کا قوم طویل عرصے سے انتظار کر رہی تھی۔ سول قیادت، بلوچستان کی دلیر عوام، صوبائی حکومت اور اپوزیشن کی مکمل سیاسی اور قومی حمایت کے ساتھ یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ اب ریاست کسی ابہام، مصلحت یا دباؤ کا شکار نہیں ہوگی۔ پاکستان اب اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھے گا جب تک دہشت گردی کے پورے نیٹ ورک کا خاتمہ، اس کی جڑوں کی بیخ کنی اور اس کے ہر سہولت کار کا راستہ بند نہیں کر دیا جاتا۔

یہ پیغام بالکل واضح ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کو کسی عالمی یا علاقائی طاقت کے کھیل کا میدان بننے نہیں دے گا۔ یہ جنگ بندوقوں کے ساتھ ساتھ بیانیے کی بھی ہے، اور اب ریاست دشمن کے بیانیے کو اسی کی زبان میں جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ بلوچستان پاکستان ہے، اور پاکستان پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ جو اس حقیقت کو چیلنج کرے گا، وہ صرف بلوچستان نہیں بلکہ پورے پاکستان کے خلاف کھڑا ہوگا، اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان ایسی للکاروں کا جواب دینا جانتا ہے۔

‏اگر کوئی بھی ملک آپ کی سرزمین پر براہِ راست یا بالواسطہ حملہ کرے تو وہ اس لمحے دشمن ملک ہی تصور ہوگا۔ پھر یہ بحث ثانوی ہوجاتی ہے کہ وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم۔ نیشن اسٹیٹس کے تصور میں سب سے بنیادی اصول ملکی سالمیت ہوتا ہے۔ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے مکمل خود مختار ہے۔

#PakistanZindabad

#OperationGhazabLilHaqq

#PakAfghanConflict

#Pakistan

DG ISPR

ISPR

Sojhal

Loading