التجائے بندگی، فہمِ وسیلہ اور خالص توحید کا الہامی شعور: قرآن و سنت کی روشنی میں ایک تجزیاتی مطالعہ! – بلال شوکت آزاد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی نفسیات کا اگر ہم ایک عمیق اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیں، تو یہ حقیقت بڑی صراحت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے کہ انسان اپنی تمام تر مادی ترقی، سائنسی ایجادات اور عقلی بلوغت کے باوجود اندر سے ایک انتہائی محتاج اور کمزور وجود ہے۔
جب وہ زندگی کے کسی ایسے گرداب میں پھنستا ہے جہاں دنیاوی اسباب کے تمام دروازے مقفل ہو جاتے ہیں، قریبی رشتے دم توڑ دیتے ہیں اور ماہرین کی تمام تر تدبیریں ناکام ہو جاتی ہیں، تو اس کی روح کی گہرائیوں میں چھپا ہوا ایک نادیدہ تار خود بخود جھنجھنا اٹھتا ہے۔
اس بے بسی کے عالم میں اس کا لاشعور ایک ایسی برتر، حتمی اور بالا طاقت کو پکارتا ہے جو زمان و مکان کی قیود اور مادی مجبوریوں سے مکمل طور پر آزاد ہو۔ یہ پکار، یہ بے ساختہ التجا اور یہ گڑگڑانا ہی دراصل بندگی کی سب سے خالص، فطری اور خوبصورت شکل ہے جسے شریعت کی زبان میں “دعا” کہا جاتا ہے۔
لیکن انسانی تاریخ کا ایک بڑا المیہ اور فکری زوال یہ بھی رہا ہے کہ اس نے اپنے اور اپنے خالق کے درمیان موجود اس سیدھے، روشن اور شفاف راستے پر خود ہی اپنے وہموں، ثقافتی روایات اور عقیدتوں سے ایسی پیچیدگیاں پیدا کر لی ہیں جنہوں نے اس خالص تعلق کو دھندلا کر رکھ دیا ہے۔
پچھلے چند ہفتوں سے جب میں نے خالص توحید، عقائد کی اصلاح اور پروردگار کے ساتھ براہ راست تعلق کے موضوع پر اپنی گفتگو کا سلسلہ شروع کیا، تو مجھے مختلف حلقوں کی جانب سے بے شمار پیغامات، تبصرے اور سوالات موصول ہوئے۔ ان میں سے بیشتر احباب، جن کی فکری وابستگی کسی نہ کسی روایتی مکتبِ فکر یا ان صوفیانہ افکار سے ہے جو صدیوں کے ثقافتی اثرات کے تحت پروان چڑھے، وہ مجھ پر یہ اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ میں شاید دعا میں وسیلے، توسط یا واسطے کا سرے سے انکاری ہوں اور اسے رد کر رہا ہوں۔
ان کا اصرار ہے کہ قرآن کی فلاں آیت یا فلاں مخصوص روایت میں وسیلے کا ذکر موجود ہے، لہٰذا کسی بزرگ، پیر یا فوت شدہ ہستی کے توسط سے دعا مانگنا عین دین ہے۔
آج کی یہ طویل اور تفصیلی نشست دراصل اسی فکری الجھن، نظریاتی کشمکش اور روایتی مغالطوں کو سلجھانے کی ایک سنجیدہ، مدلل اور قرآن و سنت کی روشنی میں کی گئی کاوش ہے تاکہ یہ بالکل واضح ہو سکے کہ ہمارا رب ہم سے کیا چاہتا ہے اور پکارنے کا وہ کون سا طریقہ ہے جو براہ راست عرش کے مالک تک پہنچتا ہے۔
دعا محض چند رٹے ہوئے الفاظ کی ادائیگی، ہونٹوں کی میکانکی حرکت یا کسی رسمی عبادت کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ بندے اور رب کے درمیان ایک انتہائی ذاتی، گہرا اور براہ راست تعلق ہے۔
سنن ابی داؤد کی ایک مستند حدیث (رقم 1479) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی دو ٹوک الفاظ میں ارشاد فرمایا:
“الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ”
(دعا ہی اصل عبادت ہے)۔
جب انسان اپنے گناہوں کے بوجھ تلے دب کر یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ شاید وہ بہت سیاہ کار ہے اور اس کی میلی آواز براہ راست اس عظیم الشان پروردگار تک نہیں پہنچ سکتی، تو وہ اپنے اور رب کے درمیان ایک مڈل مین، ایک سفارشی یا کسی نیک ہستی کو تلاش کرنے لگتا ہے۔
یہ سوچ دراصل دنیاوی بادشاہوں، وزیروں اور درباروں کے بوسیدہ نظام سے تو مطابقت رکھ سکتی ہے، جہاں کسی بڑے افسر تک پہنچنے کے لیے کسی کلرک یا سیکرٹری کی سفارش چاہیے ہوتی ہے، لیکن نظامِ ہستی کے تنہا مالک کے ہاں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ کی آیت 186 میں انسان کے اس نفسیاتی وہم کا انتہائی نرمی، محبت اور صراحت کے ساتھ ازالہ کرتے ہوئے فرمایا:
“وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ”
(اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں، تو یقیناً میں بالکل قریب ہوں، میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے)۔
ذرا اس الہامی جملے کی لسانی ساخت اور اس کے ربط پر غور کریں!
پورے قرآن میں جہاں بھی صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال کیا (مثلاً چاند کے بارے میں، شراب کے بارے میں، یا یتیموں کے بارے میں)، تو اللہ نے ہمیشہ جواب میں لفظ “قُلْ” (آپ کہہ دیجیے) استعمال کیا کہ اے نبی! آپ انہیں یہ جواب دے دیں۔
لیکن جب بات دعا کی آئی اور بندوں نے پوچھا کہ ہمارا رب کہاں ہے، تو اللہ نے درمیان سے “قُلْ” کا لفظ بھی ہٹا دیا اور براہ راست خود متوجہ ہو کر فرمایا کہ “میں قریب ہوں”۔
اس سے بڑی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے اور اپنے درمیان کسی بھی قسم کے واسطے یا پیغام رساں کو پسند نہیں فرماتا جب بات براہ راست پکار کی ہو۔
اب یہاں یہ سوال پوری شدت اور علمی دیانت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام میں “وسیلہ” کا تصور سرے سے موجود ہی نہیں؟
اور قرآن کی وہ آیات جہاں وسیلے کا واضح ذکر ہے، ان کا کیا مطلب ہے؟
روایتی افکار رکھنے والے لوگ اکثر سورہ المائدہ کی آیت 35 کا حوالہ دیتے ہیں جہاں ارشاد ہوتا ہے:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ”
(اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو)۔
جو لوگ درگاہوں، مزاروں اور فوت شدہ ہستیوں سے عقیدت رکھتے ہیں، وہ اسی آیت کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اپنا بنیادی استدلال بناتے ہیں اور قبروں میں مدفون ہستیوں کو اپنا وسیلہ قرار دے لیتے ہیں۔
حالانکہ تاریخِ اسلام کے جلیل القدر مفسرین، محدثین اور علمائے سلف کے نزدیک اس آیت میں وسیلے سے مراد ہرگز کوئی انسان، بزرگ یا فوت شدہ شخصیت نہیں ہے۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق تفسیر “تفسیر ابن کثیر” میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت مجاہد اور قتادہ جیسے اکابرین کا متفقہ قول نقل کرتے ہیں کہ عربی لغت میں ‘وسیلہ’ اس عمل کو کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی مقصود تک پہنچا جائے، اور اللہ کی طرف وسیلہ یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور ان کاموں سے بچا جائے جن سے اس نے منع کیا ہے۔
یعنی وسیلہ کوئی “شخص” نہیں بلکہ ایک “عمل” ہے۔
شریعتِ مطہرہ نے توحید پرستوں کے لیے دعا کی قبولیت کے لیے وسیلے کی تین انتہائی خوبصورت، موثر، مستند اور خالص اقسام مقرر کی ہیں جو عقیدہِ توحید کے عین مطابق ہیں اور جن میں غیر اللہ پر انحصار کا کوئی شائبہ تک موجود نہیں۔
وسیلے کی پہلی اور سب سے طاقتور قسم اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ (خوبصورت ناموں) اور اس کی عظیم صفات کا واسطہ دے کر دعا مانگنا ہے۔
قرآن مجید سورہ الاعراف کی آیت 180 میں واضح حکم دیتا ہے:
“وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا”
(اور اللہ ہی کے لیے سب سے بہترین نام ہیں، پس تم اسے انہی ناموں سے پکارو)۔
اگر میں یہاں اپنی ذات کی بات کروں، تو زندگی کے کٹھن ترین موڑ پر، جب میں شدید پریشانی، بے بسی یا کسی الجھن کا شکار ہوتا ہوں، تو میرا اپنا معمول اور تجربہ اسی الہامی اور شرعی اصول پر مبنی ہے۔ میں رات کے اس پرسکون پہر، جب دنیا گہری نیند سو رہی ہوتی ہے، تہجد کے مصلے پر کھڑا ہو کر اپنے رب سے براہ راست ہمکلام ہوتا ہوں۔ میں اپنی حاجت کے لیے کسی درگاہ کا رخ نہیں کرتا، کسی بزرگ کا نام نہیں لیتا، بلکہ میں اپنے پروردگار کی صفات کا واسطہ دے کر اس سے گڑگڑاتا ہوں۔
میں عرض کرتا ہوں کہ
” اے میرے اللہ! تجھے تیرے رازق ہونے کا واسطہ کہ تو ہی سب کو پالنے والا ہے، تجھے تیرے خالق ہونے کا واسطہ جس نے مجھے عدم سے وجود بخشا، تجھے تیرے قہار اور غفار ہونے کا واسطہ کہ تو گناہوں کو بخشنے پر قادر ہے، تجھے تیرے رحیم و کریم ہونے کا واسطہ، میری اس مشکل کو حل فرما دے اور مجھے اس گرداب سے نکال لے۔”
میرا یہ کامل اور غیر متزلزل یقین ہے، اور یہ میری زندگی کا بارہا کا آزمودہ تجربہ بھی ہے کہ میں نے آج تک اس طرح تہجد کی تنہائی میں اپنے رب کی صفات کا واسطہ دے کر جو بھی دعا سچے دل سے مانگی ہے، وہ فجر کی سفیدی پھوٹنے سے پہلے ہی شرفِ قبولیت پا گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کو یہ انداز بے حد پسند ہے کہ اس کا بندہ اس کی بڑائی، اس کی صفات اور اس کی طاقت کا اعتراف کر کے، پورے سرنڈر کے ساتھ اس سے مانگے۔ یہ وہ شرعی اور مسنون وسیلہ ہے جس میں بندے اور رب کے درمیان کوئی تیسرا انسان یا ہستی حائل نہیں ہوتی، اور بندے کا رشتہ سیدھا ساتویں آسمان سے جڑ جاتا ہے۔
جائز اور شرعی وسیلے کی دوسری قسم اپنے کسی خالص اور نیک عمل کا واسطہ دے کر اللہ سے مدد مانگنا ہے۔
اس کی سب سے بڑی اور ناقابلِ تردید دلیل غار میں پھنس جانے والے ان تین افراد کا مشہور واقعہ ہے جو صحیح بخاری (حدیث نمبر 2272) میں پوری تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
جب ایک بھاری چٹان نے پہاڑ سے گر کر اس غار کا منہ مکمل طور پر بند کر دیا جس میں وہ بارش سے بچنے کے لیے پناہ لیے ہوئے تھے، اور ان کے بچنے کی تمام مادی امیدیں دم توڑ گئیں، تو انہوں نے اس موت کے منہ میں کسی گذشتہ نبی، ولی یا فرشتے کی روح کو مدد کے لیے نہیں پکارا، بلکہ انہوں نے باری باری اپنے ان نیک اعمال کا واسطہ دے کر اللہ سے دعا کی جو انہوں نے تنہائی میں، صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے انجام دیے تھے۔ ان میں سے ایک نے اپنے بوڑھے والدین کی بے لوث اور تھکا دینے والی خدمت کا واسطہ دیا کہ اے اللہ اگر میں نے وہ کام صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو اس چٹان کو ہٹا دے۔ دوسرے نے اپنی چچا زاد بہن سے شدید محبت اور اس پر مکمل قابو پا لینے کے باوجود، محض اللہ کے ڈر سے گناہ سے بچ جانے کا واسطہ دیا، اور تیسرے نے اپنے ایک مزدور کی امانت پوری دیانتداری سے لوٹانے اور اس کی کمائی میں برکت ڈالنے کا واسطہ دیا۔ ہر ایک کی دعا کے بعد چٹان تھوڑی تھوڑی کھسکتی گئی یہاں تک کہ وہ پوری طرح ہٹ گئی اور وہ غار سے صحیح سلامت باہر آ گئے۔
یہ حدیث اس بات کی روشن اور حتمی دلیل ہے کہ انسان کی اپنی نیکی، اس کا اپنا تقویٰ اور اس کا اپنا عمل ہی اس کا اصل وسیلہ ہے جسے وہ اللہ کی بارگاہ میں بطورِ سفارش پیش کر سکتا ہے۔
وسیلے کی تیسری اور آخری جائز قسم کسی زندہ، نیک اور صالح انسان کے پاس جا کر اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کرنا ہے۔
جب ہم کسی نیک اور متقی شخص کو دیکھتے ہیں تو ہم اسے اپنی پریشانی بتا کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے حق میں اللہ سے دعا کرے، کیونکہ ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے لیے پیٹھ پیچھے کی گئی دعا جلدی قبول ہوتی ہے۔
اس کی نظیر ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں بکثرت ملتی ہے کہ وہ قحط یا بیماری کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کی درخواست کرتے تھے۔
لیکن یہاں جو سب سے اہم، فیصلہ کن اور عقیدے کو پرکھنے والا نکتہ ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد، صحابہ کرام نے بارش مانگنے یا کسی اور مشکل کے لیے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مبارک کا رخ نہیں کیا اور نہ ہی دعا میں آپ کی ذات کا واسطہ دیا۔
صحیح بخاری (حدیث نمبر 1010) کی وہ مستند روایت اس بحث کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیتی ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب شدید قحط پڑا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سگے چچا، حضرت عباس رضی اللہ عنہ، جو اس وقت حیات تھے، ان کو آگے کیا اور ان الفاظ میں دعا فرمائی:
“اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا”
(اے اللہ! پہلے ہم تیرے نبی کے ذریعے تجھ سے وسیلہ پکڑتے تھے تو تو بارش برسا دیتا تھا، اب ہم تیرے نبی کے چچا (کی دعا) کے وسیلے سے تجھ سے مانگتے ہیں، پس ہم پر بارش برسا دے)۔
ذرا اس واقعے کی منطق، فہم اور شرعی اصول پر غور کریں!
اگر فوت شدہ ہستیوں کا وسیلہ جائز ہوتا، تو کیا اس روئے زمین پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی عشقِ رسول کا دعویدار ہو سکتا تھا؟
وہ سیدھے روضہِ رسول پر جاتے اور وہاں کھڑے ہو کر واسطہ دیتے۔
لیکن انہوں نے ایک فوت شدہ عظیم ترین ہستی کو چھوڑ کر ایک زندہ ہستی (حضرت عباس) کی دعا کا وسیلہ اختیار کر کے پوری امت کو یہ حتمی اصول سمجھا دیا کہ وفات کے بعد کسی بھی ہستی کا وسیلہ پکڑنا شریعت کا طریقہ نہیں ہے۔
ان تین واضح اور شرعی طریقوں کے علاوہ، کسی بھی فوت شدہ بزرگ، پیر، نبی، یا ولی کی ذات کو درمیان میں لانا، ان کے نام کی دہائی دینا، قبروں پر جا کر ان سے مانگنا یا یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ہماری عرضیاں، ہماری فریادیں اور حاجتیں سنتے ہیں اور اللہ تک پہنچاتے ہیں، قرآن و حدیث کے کسی بھی مستند پہلو سے قطعی طور پر ثابت نہیں ہے۔
جو لوگ اس باطل اور بدعی طریقے کو اپناتے ہیں، وہ دراصل مکہ کے ان مشرکین کی روش پر چل رہے ہوتے ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بڑی صراحت سے کیا ہے۔
مکہ کے مشرکین بھی اللہ کو کائنات کا خالق، رازق اور مالک مانتے تھے، لیکن وہ اپنے بتوں، جو دراصل گزرے ہوئے نیک لوگوں کے مجسمے تھے، کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہیں۔ سورہ الزمر کی آیت 3 میں اللہ تعالیٰ ان کے اس استدلال کو بیان کرتا ہے:
“مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ”
(ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں)۔
آج کے دور میں جب کوئی شخص کسی مزار پر جا کر یہ کہتا ہے کہ میں اس بزرگ کی عبادت نہیں کر رہا بلکہ اسے صرف اللہ تک پہنچنے کا واسطہ یا ذریعہ بنا رہا ہوں، تو وہ دراصل بعینہ اسی دلیل کو دہرا رہا ہوتا ہے جو ابو جہل اور اس کے ساتھی دیا کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے اس عقیدے کو شرک قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
مزید برآں، سورہ فاطر کی آیت 14 میں اللہ تعالیٰ فوت شدہ ہستیوں کو پکارنے کی حقیقت کھولتے ہوئے فرماتا ہے:
“إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ”
(اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سکتے، اور اگر بالفرض سن بھی لیں تو تمہاری فریاد رسی نہیں کر سکتے، اور قیامت کے دن وہ تمہارے اس شرک کا انکار کر دیں گے)۔
اس دو ٹوک قرآنی فیصلے کے بعد کسی تاویل یا بحث کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اس علمی بحث کے دوران بعض حضرات ایک خاص حدیث کا حوالہ دے کر کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جسے “نابینا صحابی کی حدیث” کہا جاتا ہے (جامع الترمذی، حدیث 3578)۔
اس واقعے میں ایک نابینا صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اللہ سے دعا کریں کہ میری بینائی واپس آ جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھنے اور ایک مخصوص دعا مانگنے کی تلقین کی، جس میں یہ الفاظ تھے:
“اے اللہ میں تیرے نبی کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں… اے اللہ ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما”۔
اس حدیث کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ذات کا وسیلہ جائز ہے۔ لیکن اگر اس واقعے کا دیانتداری سے تجزیہ کیا جائے تو بات بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ نابینا صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں، آپ کے سامنے حاضر ہوئے تھے اور انہوں نے آپ سے “دعا” کی درخواست کی تھی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی اور صحابی کو بھی سکھایا کہ وہ اللہ سے یہ دعا کریں کہ
اے اللہ، تیرے نبی نے میرے لیے جو شفاعت (سفارش/دعا) کی ہے، اسے قبول فرما لے۔
یہ دراصل ایک زندہ نبی کی دعا کا وسیلہ تھا، جسے صحابی نے اختیار کیا۔
اگر ذات کا وسیلہ ہوتا، تو وہ صحابی گھر بیٹھے ہی واسطہ دے کر دعا کر لیتے، انہیں چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے اور دعا کی درخواست کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
جو لوگ وسیلے کے نام پر غیر اللہ پر انحصار کرتے ہیں، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات میں نقص نکالنے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ ہم سے بہت دور ہے، یا اسے ہماری حاجتوں اور ہماری مجبوریوں کا علم نہیں، اس لیے کسی مقرب ہستی، کسی پیر یا ولی کا حوالہ دینا ضروری ہے۔
یہ سوچ اللہ کی صفتِ سمیع (سب کچھ سننے والا)، بصیر (سب کچھ دیکھنے والا)، علیم (سب کچھ جاننے والا) اور قریب (نزدیک تر) کی صریح نفی اور توہین ہے۔
دنیاوی بادشاہوں کو سفارش کی ضرورت اس لیے پڑتی ہے کیونکہ ان کا علم محدود ہوتا ہے، وہ اپنی رعایا کے ہر فرد کو نہیں پہچانتے، اور ان میں ناانصافی کا مادہ پایا جاتا ہے۔ لیکن اللہ تو وہ بے نیاز ذات ہے جو سمندر کی تاریک تہہ میں چلنے والی ایک چیونٹی کے قدموں کی آہٹ بھی سنتا ہے، اور وہ اپنے فیصلوں میں کسی کلرک یا دربان کا محتاج نہیں ہے۔
اسلام نے انسان کو اس ذہنی غلامی، استحصالی نظام اور پیروں فقیروں کے چنگل سے ہمیشہ کے لیے آزاد کیا ہے اور اسے براہ راست کائنات کے خالق سے جوڑا ہے۔ جب ہم ہر روز پانچ وقت کی نماز میں سورہ الفاتحہ پڑھتے ہوئے
“إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ”
(ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں)
کے الفاظ ادا کرتے ہیں، تو ہم دراصل اس بات کا حتمی، روزمرہ اور عملی اقرار کرتے ہیں کہ ہماری عبادت اور ہماری مدد کی پکار کا حقدار صرف اور صرف ایک ذات کے لیے مخصوص ہے۔
دعا کی قبولیت کے لیے ہمیں کسی پیچیدہ فلسفے، کسی وسیلے کی کھوج، یا کسی درگاہ کی خاک چھاننے کی رتی برابر بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
ایک ٹوٹے ہوئے دل کی آہ، تنہائی میں بہنے والا ندامت کا ایک آنسو، سچی نیت، اور اللہ کی پاکیزہ صفات کا خلوصِ دل سے کیا گیا ذکر ہی وہ سب سے بڑا اور مضبوط واسطہ ہے جو آسمانوں کے بند دروازے کھول دیتا ہے۔
توحید کا اصل حسن، اس کی طاقت اور اس کی مٹھاس ہی یہی ہے کہ بندہ اپنے تمام تر گناہوں، لغزشوں اور کمزوریوں کے باوجود اس کامل یقین کے ساتھ اپنے ہاتھ پھیلائے کہ اس کا رب اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور وہ بغیر کسی ترجمان یا سفارشی کے اپنے بندے کی ہر سسکی اور ہر التجاء کو سنتا اور سمجھتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دین کو انہی شفاف، روشن اور خالص خطوط پر سمجھیں جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ نے ہمیں سکھائے ہیں، نہ کہ ان روایات اور ثقافتی کہانیوں پر جو بعد کے ادوار میں لوگوں کی کمزوریوں کے نتیجے میں دین کا حصہ بن گئیں۔
خالص توحید پر قائم رہنا، اور اپنے خالق سے اپنا رشتہ بغیر کسی واسطے کے براہ راست استوار رکھنا ہی دنیا و آخرت کی اصل اور ابدی کامیابی ہے۔
#سنجیدہ_بات
#آزادیات
#بلال #شوکت #آزاد
![]()

