جنگل کا بادشاہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب 14 سال کی جلاوطنی کے بعد یکم فروری 1979 کو امام خیمینی ایران واپس آرہا تھا تو رضا پہلوی (جنگل کا بادشاہ) اپنی فوج کو تنہا چھوڑ کر مصر فرار ہوچکا تھا۔
پیچھے جرنیلوں نے فیصلہ کیا کہ جہاز کو گرا دیتے ہیں ورنہ مارے جائیں گے۔ ائر فورس چیف نے کہا ہم رضا شاہ پہلوی سے اجازت کے بغیر یہ کام نہيں کرسکتے۔ رضا شاہ سے مصر میں رابطہ کیا۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
یعنی کہا اگر آپ نے رسک لینا ہے تو لیں میرا ذمہ دوش پوش۔
جرنیلوں نے تہران کا جائزہ لیا۔ تیس لاکھ لوگ شہر کی سڑکوں پر آسمان کی طرف دیکھ ریے تھے۔ انہیں سمجھ آگئی کہ اگر جہاز گرایا تو عوام ان کے جوجے کباب بنا کر سفید چاول کے ساتھ کھا جائیں گے۔
اس وقت کے بہت سارے بین الاقوامی صحافی امام خیمینی کے ساتھ جہاز میں سوار تھے۔ بی بی سی کے جان سمپسن نے لکھا کہ ہمیں پورا یقین تھا کہ جہاز کریش کروا دیا جائے گا۔ اس لئے جیسے جیسے تہران نزدیک آرہا تھا ہم خوف سے کانپ رہے تھے۔ پیسنے میں شرابور تھے۔
اس خوف و دہشت کے ماحول میں ہم نے دیکھا امام خیمینی آرام سے کمبل اوڑھ کر سویا ہوا ہے۔
اسے پورا یقین تھا کہ نہ جہاز کریش ہوگا نہ انقلاب کے راستے میں اب کوئی اور رکاوٹ حائل ہوسکتی ہے۔ اللہ اور عوام اس کے ساتھ ہیں۔
(جہاز میں یا جیل میں لیڈر کی حفاظت باشعور عوام کرتے ہیں۔ ردعمل کا خوف انہيں زندہ رکھتا ہے۔)
تہران آیا تو امام خیمینی کو بیدار کردیا گیا۔ انہوں نے نیچے سڑکوں کی طرف دیکھ کر ہلکا سا تبسم کیا اور کہا “انقلاب پیروز شد” یعنی ہماری جدوجہد کامیاب ہوگئی۔
![]()

