“امانت ادا کرو۔”
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )پنجاب کے ایک مشہور تاجر کی آخری وصیت تھی کہ اس کی قبر صرف رات کے وقت بنائی جائے۔ قبر تیار ہوئی تو قبر کنے سے ایک عجیب آواز آئی، جس نے سارے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔
✦ رات کی آخری قبر ✦
از قلم : حقیقت اور فسانہ
یہ واقعہ فیصل آباد شہر کے نواحی علاقے، جھنگ روڈ پر واقع “غازی آباد” نامی چھوٹے سے قصبے کا ہے۔ غازی آباد اپنی کپڑے کی ملیں اور دیہاتی مٹھاس کے لیے جانا جاتا تھا۔ اس قصبے کے دل میں آباد تھے حاجی اللہ وسایا۔ حاجی صاحب کوئی عام آدمی نہیں تھے۔ ان کا شمار ضلع بھر کے بڑے کپڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔ ان کی “اللہ وسایا ٹیکسٹائلز” کی دکان اتنی بڑی تھی کہ اس میں ایک ہی بار میں بیس گاہک آسانی سے کپڑے دیکھ سکتے تھے۔ لیکن حاجی صاحب کی شہرت ان کی دولت سے نہیں، بلکہ ان کی بے پناہ سخاوت اور عجیب و غریب عادات سے تھی۔
حاجی صاحب کی شخصیت ایک کھلی کتاب کی طرح تھی، لیکن اس کتاب کے کچھ ورق ایسے تھے جو خود ان کے بیٹوں نے بھی کبھی نہیں پلٹے تھے۔ وہ ہمیشہ پرانی وضع کا کرتا پاجامہ پہنتے، سر پر پگڑی باندھتے، اور ان کی داڑھی میں اکثر چینی کی مٹھاس چپکی ہوتی کیونکہ وہ بچوں کو مفت میں لاٹی چینی بانٹتے پھرتے تھے۔ لیکن ان کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک عجیب سی گہرائی اور خاموش سوال چھپا رہتا، جیسے وہ کسی ایسی چیز کو دیکھ رہے ہوں جو اور کسی کو نظر نہ آتی ہو۔
ان کے دو بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا، حاجی محمد اشرف، باپ کی طرح مگر نرم دل تھا۔ چھوٹا، حاجی محمد ادریس، ذہین تو تھا مگر حد درجہ عملی اور دور اندیش۔ دونوں بیٹے باپ کا کاروبار سنبھالتے تھے اور شہر بھر میں ان کی ایمانداری کے چرچے تھے۔
یہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ تھا۔ حاجی صاحب اس سال بالکل کمزور ہو گئے تھے۔ پچھلے کئی سالوں سے وہ عید الفطر کے دن ہی اپنے تمام ملازمین اور غریبوں میں نئے کپڑے بانٹتے تھے۔ اس عید کی صبح وہ خود کپڑے نہیں بانٹ سکے، کیونکہ وہ خود ہی چلنے پھرنے سے معذور ہو چکے تھے۔ بیٹے اشرف اور ادریس نے باپ کی روایت کو نبھایا۔ لیکن عید کی دوسری تاریخ کو، سورج ڈوبنے سے ذرا پہلے، حاجی اللہ وسایا نے اس دنیا سے آنکھیں بند کر لیں۔
ان کے انتقال کی خبر نے بجلی کی طرح قصبے کو گھیر لیا۔ دکانوں کے پردے گر گئے۔ لوگوں کی آنکھیں نم تھیں۔ ایک عظیم انسان اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا تھا۔ جنازے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ لیکن اسی شام، جب لوگ غسل و کفن کے انتظامات میں مصروف تھے، حاجی صاحب کے وکیل، مسٹر رفیع اللہ بھٹی، جو خود شہر کے معتبر وکیل تھے، حاجی صاحب کے گھر آئے اور انہوں نے ایک لفافہ بڑے بیٹے اشرف کو دیا۔ لفافے پر حاجی صاحب کے دستخط تھے۔
اشرف نے لفافہ کھولا تو اس میں وصیت نامہ تھا، اور اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی پرچی۔ وصیت نامے میں جائداد کی تقسیم واضح تھی۔ دکان، گھر اور زمینیں دونوں بیٹوں اور اہل خانہ کے نام تھیں۔ لیکن پرچی پر ان کی اپنی ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک عجیب سی شرط لکھی تھی۔
اشرف نے پرچی پڑھ کر پہلے تو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کیا، پھر اس نے ادریس کو بلا کر پڑھ کر سنائی۔ پرچی پر لکھا تھا:
“میرے بیٹو! میری آخری خواہش ہے کہ میری قبر دن کی روشنی میں نہ بنائی جائے۔ میرا جنازہ تو سورج نکلنے کے بعد اٹھے گا، لیکن قبر کی کھدائی اور تعمیر مکمل طور پر رات کے اندھیرے میں کی جائے۔ رات کے سناٹے میں، جب چاند تارے اپنے کام میں مصروف ہوں، اس وقت میری آخری آرام گاہ تیار کی جائے۔ اس میں کوئی برقی روشنی نہ ہو، صرف چاند کی روشنی اور مشعلوں کی لو۔ اور ہاں، قبر تیار ہونے کے بعد، جو آواز آئے، اسے غور سے سننا اور اس کا احترام کرنا۔”
یہ شرط سن کر دونوں بھائی حیران رہ گئے۔ قبر رات میں بنانا؟ یہ کون سی روایت تھی؟ انہوں نے وکیل صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حاجی صاحب کی ذاتی خواہش ہے، اور شریعت میں اس کی کوئی ممانعت نہیں، البتہ عجیب ضرور ہے۔
جنازے کی نماز عشاء کے بعد ادا کی گئی۔ پورا شہر صف بستہ تھا۔ نماز جنازہ پڑھ چکے تو تقریباً رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ مقامی قبرستان، جو شہر سے باہر کھیتوں کے درمیان تھا، میں لوگ پہنچے تو وہاں پہلے سے ہی چند آدمی موجود تھے۔ حاجی صاحب کے کہنے پر، ان کے دو پرانے ملازمین، بشیر اور الٰہی بخش، نے رات کی تاریکی میں قبر کھودنی شروع کی۔ ان کے پاس تیل کی مشعلیں تھیں جن کی ٹمٹماہٹ اندھیرے میں بھوتناک منظر پیش کر رہی تھی۔
لوگ حیران تھے۔ کچھ بزرگ سرگوشیاں کر رہے تھے کہ شاید حاجی صاحب کوئی بڑا ولی تھے، اسی لیے انہیں رات کی تنہائی پسند تھی۔ کچھ نوجوان خاموشی سے تماشا دیکھ رہے تھے۔ بیٹے اشرف اور ادریس قبر کے کنارے کھڑے خاموشی سے کام دیکھ رہے تھے۔ ہوا میں خوف اور تجسس کی ملی جلی خوشبو تھی۔
بشیر اور الٰہی بخش نے گھنٹوں محنت کی۔ رات کا سناٹا اور مشعلوں کی روشنی میں ان کے بیلچوں کی آواز، ‘کھڑک، کھڑک’، سن کر دل دہل جاتا تھا۔ آدھی رات گزر چکی تھی کہ قبر تقریباً تیار ہو گئی۔ بس اس کی تعمیر کا کام باقی تھا۔
اچانک، جب الٰہی بخش آخری مرتبہ بیلچا زمین میں گاڑ رہا تھا، اسے بیلچے سے کوئی سخت چیز ٹکرائی۔ اس نے پہلے سوچا کوئی پتھر ہے، لیکن پھر بیلچے کی نوک سے اسے صاف محسوس ہوا کہ وہ کوئی دھاتی چیز ہے۔ اس نے آواز دی تو بشیر نے مشعل لی اور قریب آیا۔ دونوں نے جھک کر دیکھا تو زمین میں ایک پرانا، زنگ آلود لوہے کا صندوق نما ڈبہ دبا ہوا تھا۔
الٰہی بخش نے گھبرا کر اشرف کو آواز دی۔ “اشرف بھائی! ذرا ادھر آئیے، کچھ ہے۔”
اشرف اور ادریس دوڑ کر آئے۔ قبر کے اندر، جہاں میت رکھی جانی تھی، وہاں ایک چھوٹا سا لوہے کا صندوق تھا۔ اسے دیکھ کر ادریس کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ “یہ کیا ہے، بابا جی نے قبر میں کیوں چھپا رکھا؟”
اشرف نے صندوق کو ہاتھ لگایا تو اس پر ایک پرانا تالا لٹک رہا تھا۔ اس کی زنجیر اتنی پرانی تھی کہ ہاتھ لگاتے ہی ٹوٹ گئی۔ اشرف نے ڈھکن اٹھایا تو اندھیرے میں کچھ چمکا۔ اس نے مشعل قریب کی تو سارے لوگوں کے منہ سے نکلا، “سبحان اللہ!”
صندوق سونے کے سکوں، زیورات اور قدیم نوٹوں سے بھرا ہوا تھا۔ لیکن اتنا ہی نہیں، اس صندوق میں ایک پرانی سی ڈائری بھی رکھی تھی، جس کے ورق زرد پڑ چکے تھے۔
اشرف نے ڈائری کو ہاتھ میں لیا اور پہلا صفحہ کھولا تو اس پر حاجی اللہ وسایا کے ہاتھ سے لکھا ہوا تھا:
“یہ دولت ان لوگوں کی ہے جو 1947 میں اس گاؤں سے بھاگ گئے تھے۔ میں نے انہیں پناہ دی، لیکن وہ کبھی واپس نہ آ سکے۔ میں نے یہ دولت ان کے لیے سنبھال کر رکھی، لیکن موت نے مجھے مہلت نہ دی۔ آج جو بھی یہ صندوق پائے، اس کی ذمہ داری لے کہ ان بے گھر روحوں کے وارث ڈھونڈے۔”
یہ پڑھ کر اشرف کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ادریس نے قریب آ کر پوچھا، “کیا لکھا ہے بھائی؟”
اشرف نے ڈائری پڑھ کر سنائی تو قبرستان میں کھڑے تمام لوگوں کی روحیں لرز اٹھیں۔ یہ کوئی دولت نہیں تھی، یہ ایک امانت تھی، ایک ایسے انسان کی امانت جس نے ساری عمر یہ راز اپنے سینے میں چھپائے رکھا، اور آخر میں اس نے چاہا کہ یہ راز رات کی تاریکی میں، اس کی آخری آرام گاہ سے نکلے تاکہ لوگ اسے صرف دولت نہ سمجھیں، بلکہ اس کی روح کو سمجھیں۔
رات کی آخری قبر میں سے نکلنے والی یہ آواز، یہ خزانہ، حاجی صاحب کی زندگی کا آخری سبق تھا۔ انہوں نے ساری عمر یہ نہیں بتایا کہ ان کے پاس اتنی دولت کیسے آئی۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ انہیں ایک سادہ، نیک انسان سمجھیں، نہ کہ کسی پراسرار خزانے کا مالک۔ لیکن مرتے وقت انہوں نے یہ بوجھ اتار دیا، اور ساتھ ہی اپنے بیٹوں کو ایک عظیم مشن سونپ دیا۔
صبح ہوتے ہی یہ خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ جو لوگ کل تک حاجی صاحب کی سخاوت پر حیران تھے، آج ان کی دیانت داری پر سر دھنتے تھے۔ اشرف اور ادریس نے باپ کی وصیت کے مطابق، وہ ڈائری اور صندوق اپنے پاس رکھا اور ان وارثوں کی تلاش شروع کر دی جو شاید آج بھی ہندوستان یا پاکستان کے کسی کونے میں موجود ہوں۔
یہ کہانی صرف ایک خزانے کی نہیں، بلکہ ایک انسان کی اس عظمت کی ہے جس نے موت کے بعد بھی لوگوں کو حیرت اور سبق دیا۔ حاجی اللہ وسایا کی قبر آج بھی غازی آباد کے قبرستان میں موجود ہے، لیکن اس قبر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو بھی رات کو وہاں جاتا ہے، اسے زمین سے صرف خاموشی نہیں سنائی دیتی، بلکہ ایک آواز آتی ہے، “امانت ادا کرو۔”
خلاصہ:
حاجی اللہ وسایا کی موت کے بعد ان کی عجیب وصیت نے پورے شہر کو حیران کر دیا۔ رات کی تاریکی میں قبر کھودتے ہی ایک پرانا خزانہ ملا، جس نے ان کی زندگی کے سب سے بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا۔ یہ کہانی دیانت، امانت اور انسانیت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ 📜✨🕯️
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر کی کوئی پرانی چیز بھی کسی کی گم شدہ امانت ہو سکتی ہے؟ اگر آپ کو ایسا کوئی خزانہ مل جائے تو آپ کیا کریں گے؟پنجاب کے ایک مشہور تاجر کی آخری وصیت تھی کہ اس کی قبر صرف رات کے وقت بنائی جائے۔ قبر تیار ہوئی تو قبر کنے سے ایک عجیب آواز آئی، جس نے سارے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔
✦ رات کی آخری قبر ✦
از قلم : حقیقت اور فسانہ
یہ واقعہ فیصل آباد شہر کے نواحی علاقے، جھنگ روڈ پر واقع “غازی آباد” نامی چھوٹے سے قصبے کا ہے۔ غازی آباد اپنی کپڑے کی ملیں اور دیہاتی مٹھاس کے لیے جانا جاتا تھا۔ اس قصبے کے دل میں آباد تھے حاجی اللہ وسایا۔ حاجی صاحب کوئی عام آدمی نہیں تھے۔ ان کا شمار ضلع بھر کے بڑے کپڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔ ان کی “اللہ وسایا ٹیکسٹائلز” کی دکان اتنی بڑی تھی کہ اس میں ایک ہی بار میں بیس گاہک آسانی سے کپڑے دیکھ سکتے تھے۔ لیکن حاجی صاحب کی شہرت ان کی دولت سے نہیں، بلکہ ان کی بے پناہ سخاوت اور عجیب و غریب عادات سے تھی۔
حاجی صاحب کی شخصیت ایک کھلی کتاب کی طرح تھی، لیکن اس کتاب کے کچھ ورق ایسے تھے جو خود ان کے بیٹوں نے بھی کبھی نہیں پلٹے تھے۔ وہ ہمیشہ پرانی وضع کا کرتا پاجامہ پہنتے، سر پر پگڑی باندھتے، اور ان کی داڑھی میں اکثر چینی کی مٹھاس چپکی ہوتی کیونکہ وہ بچوں کو مفت میں لاٹی چینی بانٹتے پھرتے تھے۔ لیکن ان کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک عجیب سی گہرائی اور خاموش سوال چھپا رہتا، جیسے وہ کسی ایسی چیز کو دیکھ رہے ہوں جو اور کسی کو نظر نہ آتی ہو۔
ان کے دو بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا، حاجی محمد اشرف، باپ کی طرح مگر نرم دل تھا۔ چھوٹا، حاجی محمد ادریس، ذہین تو تھا مگر حد درجہ عملی اور دور اندیش۔ دونوں بیٹے باپ کا کاروبار سنبھالتے تھے اور شہر بھر میں ان کی ایمانداری کے چرچے تھے۔
یہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ تھا۔ حاجی صاحب اس سال بالکل کمزور ہو گئے تھے۔ پچھلے کئی سالوں سے وہ عید الفطر کے دن ہی اپنے تمام ملازمین اور غریبوں میں نئے کپڑے بانٹتے تھے۔ اس عید کی صبح وہ خود کپڑے نہیں بانٹ سکے، کیونکہ وہ خود ہی چلنے پھرنے سے معذور ہو چکے تھے۔ بیٹے اشرف اور ادریس نے باپ کی روایت کو نبھایا۔ لیکن عید کی دوسری تاریخ کو، سورج ڈوبنے سے ذرا پہلے، حاجی اللہ وسایا نے اس دنیا سے آنکھیں بند کر لیں۔
ان کے انتقال کی خبر نے بجلی کی طرح قصبے کو گھیر لیا۔ دکانوں کے پردے گر گئے۔ لوگوں کی آنکھیں نم تھیں۔ ایک عظیم انسان اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا تھا۔ جنازے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ لیکن اسی شام، جب لوگ غسل و کفن کے انتظامات میں مصروف تھے، حاجی صاحب کے وکیل، مسٹر رفیع اللہ بھٹی، جو خود شہر کے معتبر وکیل تھے، حاجی صاحب کے گھر آئے اور انہوں نے ایک لفافہ بڑے بیٹے اشرف کو دیا۔ لفافے پر حاجی صاحب کے دستخط تھے۔
اشرف نے لفافہ کھولا تو اس میں وصیت نامہ تھا، اور اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی پرچی۔ وصیت نامے میں جائداد کی تقسیم واضح تھی۔ دکان، گھر اور زمینیں دونوں بیٹوں اور اہل خانہ کے نام تھیں۔ لیکن پرچی پر ان کی اپنی ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک عجیب سی شرط لکھی تھی۔
اشرف نے پرچی پڑھ کر پہلے تو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کیا، پھر اس نے ادریس کو بلا کر پڑھ کر سنائی۔ پرچی پر لکھا تھا:
“میرے بیٹو! میری آخری خواہش ہے کہ میری قبر دن کی روشنی میں نہ بنائی جائے۔ میرا جنازہ تو سورج نکلنے کے بعد اٹھے گا، لیکن قبر کی کھدائی اور تعمیر مکمل طور پر رات کے اندھیرے میں کی جائے۔ رات کے سناٹے میں، جب چاند تارے اپنے کام میں مصروف ہوں، اس وقت میری آخری آرام گاہ تیار کی جائے۔ اس میں کوئی برقی روشنی نہ ہو، صرف چاند کی روشنی اور مشعلوں کی لو۔ اور ہاں، قبر تیار ہونے کے بعد، جو آواز آئے، اسے غور سے سننا اور اس کا احترام کرنا۔”
یہ شرط سن کر دونوں بھائی حیران رہ گئے۔ قبر رات میں بنانا؟ یہ کون سی روایت تھی؟ انہوں نے وکیل صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حاجی صاحب کی ذاتی خواہش ہے، اور شریعت میں اس کی کوئی ممانعت نہیں، البتہ عجیب ضرور ہے۔
جنازے کی نماز عشاء کے بعد ادا کی گئی۔ پورا شہر صف بستہ تھا۔ نماز جنازہ پڑھ چکے تو تقریباً رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ مقامی قبرستان، جو شہر سے باہر کھیتوں کے درمیان تھا، میں لوگ پہنچے تو وہاں پہلے سے ہی چند آدمی موجود تھے۔ حاجی صاحب کے کہنے پر، ان کے دو پرانے ملازمین، بشیر اور الٰہی بخش، نے رات کی تاریکی میں قبر کھودنی شروع کی۔ ان کے پاس تیل کی مشعلیں تھیں جن کی ٹمٹماہٹ اندھیرے میں بھوتناک منظر پیش کر رہی تھی۔
لوگ حیران تھے۔ کچھ بزرگ سرگوشیاں کر رہے تھے کہ شاید حاجی صاحب کوئی بڑا ولی تھے، اسی لیے انہیں رات کی تنہائی پسند تھی۔ کچھ نوجوان خاموشی سے تماشا دیکھ رہے تھے۔ بیٹے اشرف اور ادریس قبر کے کنارے کھڑے خاموشی سے کام دیکھ رہے تھے۔ ہوا میں خوف اور تجسس کی ملی جلی خوشبو تھی۔
بشیر اور الٰہی بخش نے گھنٹوں محنت کی۔ رات کا سناٹا اور مشعلوں کی روشنی میں ان کے بیلچوں کی آواز، ‘کھڑک، کھڑک’، سن کر دل دہل جاتا تھا۔ آدھی رات گزر چکی تھی کہ قبر تقریباً تیار ہو گئی۔ بس اس کی تعمیر کا کام باقی تھا۔
اچانک، جب الٰہی بخش آخری مرتبہ بیلچا زمین میں گاڑ رہا تھا، اسے بیلچے سے کوئی سخت چیز ٹکرائی۔ اس نے پہلے سوچا کوئی پتھر ہے، لیکن پھر بیلچے کی نوک سے اسے صاف محسوس ہوا کہ وہ کوئی دھاتی چیز ہے۔ اس نے آواز دی تو بشیر نے مشعل لی اور قریب آیا۔ دونوں نے جھک کر دیکھا تو زمین میں ایک پرانا، زنگ آلود لوہے کا صندوق نما ڈبہ دبا ہوا تھا۔
الٰہی بخش نے گھبرا کر اشرف کو آواز دی۔ “اشرف بھائی! ذرا ادھر آئیے، کچھ ہے۔”
اشرف اور ادریس دوڑ کر آئے۔ قبر کے اندر، جہاں میت رکھی جانی تھی، وہاں ایک چھوٹا سا لوہے کا صندوق تھا۔ اسے دیکھ کر ادریس کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ “یہ کیا ہے، بابا جی نے قبر میں کیوں چھپا رکھا؟”
اشرف نے صندوق کو ہاتھ لگایا تو اس پر ایک پرانا تالا لٹک رہا تھا۔ اس کی زنجیر اتنی پرانی تھی کہ ہاتھ لگاتے ہی ٹوٹ گئی۔ اشرف نے ڈھکن اٹھایا تو اندھیرے میں کچھ چمکا۔ اس نے مشعل قریب کی تو سارے لوگوں کے منہ سے نکلا، “سبحان اللہ!”
صندوق سونے کے سکوں، زیورات اور قدیم نوٹوں سے بھرا ہوا تھا۔ لیکن اتنا ہی نہیں، اس صندوق میں ایک پرانی سی ڈائری بھی رکھی تھی، جس کے ورق زرد پڑ چکے تھے۔
اشرف نے ڈائری کو ہاتھ میں لیا اور پہلا صفحہ کھولا تو اس پر حاجی اللہ وسایا کے ہاتھ سے لکھا ہوا تھا:
“یہ دولت ان لوگوں کی ہے جو 1947 میں اس گاؤں سے بھاگ گئے تھے۔ میں نے انہیں پناہ دی، لیکن وہ کبھی واپس نہ آ سکے۔ میں نے یہ دولت ان کے لیے سنبھال کر رکھی، لیکن موت نے مجھے مہلت نہ دی۔ آج جو بھی یہ صندوق پائے، اس کی ذمہ داری لے کہ ان بے گھر روحوں کے وارث ڈھونڈے۔”
یہ پڑھ کر اشرف کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ادریس نے قریب آ کر پوچھا، “کیا لکھا ہے بھائی؟”
اشرف نے ڈائری پڑھ کر سنائی تو قبرستان میں کھڑے تمام لوگوں کی روحیں لرز اٹھیں۔ یہ کوئی دولت نہیں تھی، یہ ایک امانت تھی، ایک ایسے انسان کی امانت جس نے ساری عمر یہ راز اپنے سینے میں چھپائے رکھا، اور آخر میں اس نے چاہا کہ یہ راز رات کی تاریکی میں، اس کی آخری آرام گاہ سے نکلے تاکہ لوگ اسے صرف دولت نہ سمجھیں، بلکہ اس کی روح کو سمجھیں۔
رات کی آخری قبر میں سے نکلنے والی یہ آواز، یہ خزانہ، حاجی صاحب کی زندگی کا آخری سبق تھا۔ انہوں نے ساری عمر یہ نہیں بتایا کہ ان کے پاس اتنی دولت کیسے آئی۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ انہیں ایک سادہ، نیک انسان سمجھیں، نہ کہ کسی پراسرار خزانے کا مالک۔ لیکن مرتے وقت انہوں نے یہ بوجھ اتار دیا، اور ساتھ ہی اپنے بیٹوں کو ایک عظیم مشن سونپ دیا۔
صبح ہوتے ہی یہ خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ جو لوگ کل تک حاجی صاحب کی سخاوت پر حیران تھے، آج ان کی دیانت داری پر سر دھنتے تھے۔ اشرف اور ادریس نے باپ کی وصیت کے مطابق، وہ ڈائری اور صندوق اپنے پاس رکھا اور ان وارثوں کی تلاش شروع کر دی جو شاید آج بھی ہندوستان یا پاکستان کے کسی کونے میں موجود ہوں۔
یہ کہانی صرف ایک خزانے کی نہیں، بلکہ ایک انسان کی اس عظمت کی ہے جس نے موت کے بعد بھی لوگوں کو حیرت اور سبق دیا۔ حاجی اللہ وسایا کی قبر آج بھی غازی آباد کے قبرستان میں موجود ہے، لیکن اس قبر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو بھی رات کو وہاں جاتا ہے، اسے زمین سے صرف خاموشی نہیں سنائی دیتی، بلکہ ایک آواز آتی ہے، “امانت ادا کرو۔”
خلاصہ:
حاجی اللہ وسایا کی موت کے بعد ان کی عجیب وصیت نے پورے شہر کو حیران کر دیا۔ رات کی تاریکی میں قبر کھودتے ہی ایک پرانا خزانہ ملا، جس نے ان کی زندگی کے سب سے بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا۔ یہ کہانی دیانت، امانت اور انسانیت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ 📜✨🕯️
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر کی کوئی پرانی چیز بھی کسی کی گم شدہ امانت ہو سکتی ہے؟ اگر آپ کو ایسا کوئی خزانہ مل جائے تو آپ کیا کریں گے؟
![]()

