ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایرانی عوام میں انتشار کے بیج بونا چاہتا ہے، دشمن ایک کے بعد دوسری سازش رچا رہا ہے، ایرانی عوام قومی اتحاد اور یکجہتی قائم رکھیں، امریکا کو جنگ میں شکست ہوچکی ہے اور اب نئی چالیں چل رہا ہے تاکہ ایرانی قوم میں سماجی تقسیم پید کرسکے، جنگ مسلط کرنے، اقتصادی دباؤ ڈالنے اور پروپیگنڈے بعد اب دشمن نئے منصوبے بنا رہا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق جمعرات کو ایرانی پارلیمنٹ کے نئے سیشن کے افتتاح کے موقع پر ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حالات میں عوام کے درمیان غیرمعمولی یکجہتی دیکھنے میں آئی ہے اور ملک کے قومی اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ دشمن کا اصل منصوبہ اختلافات پیدا کرنا اور معاشرتی تقسیم کو بڑھانا ہے تاکہ فوجی محاذ پر ناکامیوں کا ازالہ کیا جا سکے، پابندیوں، اقتصادی دباؤ اور پروپیگنڈے کے ذریعے معاشرے میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم ایرانی قوم نے مشکل حالات میں اپنی یکجہتی اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کا کردار ایمان، امید اور ایکشن پر مبنی ہے۔ انہوں نے دوست اور دشمن سب پر اپنے اقدامات سے برتری ثابت کردی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی اراکین پارلیمان عوام کے مسائل کے حل پر توجہ دیں، ملک کی تعمیر نو کو ترجیح دیں، خاص طور پر معاشی اور نظام زندگی کے مسائل حل کریں۔
انہوں نے پارلیمنٹ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون ساز ادارہ ترقی کے راستے میں ایک اہم محاذ کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے ارکانِ پارلیمنٹ کو حکومت کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاہم اپنی قانون سازی کی آزادی کو بھی برقرار رکھنا ضروری ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کی بحالی، عوامی مسائل خصوصاً روزگار اور معاشی مشکلات کا حل، پیداوار میں اضافہ، سائنس و صنعت کی ترقی، ثقافتی و اخلاقی بہتری، مالی بدعنوانی کا خاتمہ، مہنگائی میں کمی اور غربت کے مکمل خاتمے جیسے امور پر توجہ دی جانی چاہیے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کو ایسے قوانین بنانے چاہئیں جن کا براہ راست تعلق عوامی مسائل اور ملک کی بنیادی ضروریات سے ہو اور جو مستقبل کے لیے امید اور ترقی کا باعث بنیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانون ساز ادارہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے ساتھ مل کر قومی اتحاد اور قومی سلامتی کے سائے میں مزاحمتی معیشت کے ہدف پر کام کرے جب کہ اقتصادی استحکام، مہنگائی پر قابو، پیداواری عمل میں بہتری اور ترقیاتی منصوبوں پر نظرِ ثانی کو بھی ترجیح دی جائے۔
![]()
