Daily Roshni News

امریکہ اور ایران کی جنگ

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا نیا محاذ: ‘تم میرا ریڈار اسٹیشن تباہ کرو گے، تو میں تمہارے اتحادیوں پر میزائل برساؤں گا’

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر شدید جنگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ محاذ آرائی اب براہ راست فوجی تصادم میں تبدیل ہو چکی ہے۔ آج کے تازہ ترین واقعات نے خطے میں پائے جانے والے طویل تناؤ کو ایک نئی اور خطرناک نہج پر پہنچا دیا ہے۔

امریکی ڈرون حملہ اور ایرانی ریڈار اسٹیشنز کی تباہی:
آج علی الصبح امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کی طرف بڑھنے والے چار ایرانی ڈرونز کو خطرہ قرار دیتے ہوئے ایران کے ساحلی جزائر غروق اور قشم پر موجود مانیٹرنگ ریڈار اسٹیشنز اور مواصلاتی تنصیبات پر شدید ڈرون حملے کیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے کی گئی تاکہ ایرانی نگرانی کے نظام کو مفلوج کیا جا سکے۔

ایران کا منہ توڑ جواب: امریکی اڈوں پر 7 بیلسٹک میزائلوں کی برسات:
امریکی حملے کے محض چند گھنٹوں بعد، ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے انتہائی جارحانہ اور تیز رفتار ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ ایران کے اندرونی علاقوں سے بیک وقت 7 بیلسٹک میزائل داغے گئے جنہوں نے رات کے اندھیرے میں کویت میں قائم دو بڑے امریکی فضائی اڈوں اور بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑے (Fifth Fleet) کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ بحرین میں قائم پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈ کوارٹر مشرق وسطیٰ میں امریکی نیوی کا ‘اعصابی نظام’ مانا جاتا ہے، اور اس پر حملہ امریکہ کے دل پر وار کرنے کے مترادف ہے۔

خطے کی صورتحال اور پروازوں کی معطلی:
میزائلوں کی قلیل مسافت (200 سے 300 کلومیٹر) اور تیز رفتاری کی وجہ سے اسرائیل اور سعودی عرب میں نصب فضائی دفاعی نظام کو الرٹ ہونے اور جوابی کارروائی کا موقع ہی نہ مل سکا۔ حملوں کے فوراً بعد کویت اور بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے، عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں، اور دونوں ممالک کے لیے زیادہ تر بین الاقوامی پروازیں ہنگامی طور پر منسوخ کر دی گئیں۔

سرد جنگ کا آغاز اور بیانات کا تضاد:
ہمیشہ کی طرح جنگی میدان کے بعد اب میڈیا اور سیاست کے میدان میں بیانات کی جنگ شروع ہو چکی ہے:

ایرانی موقف: تہران کا دعویٰ ہے کہ تمام میزائلوں نے اپنے اہداف کو درست طریقے سے نشانہ بنایا ہے اور بحرین میں امریکی ہیڈ کوارٹر سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا ہے۔ ایران نے سخت وارننگ دی ہے کہ اگر دوبارہ کوئی کارروائی کی گئی تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر کے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی روک دی جائے گی۔

امریکی موقف: امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 میں سے 6 میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ ایک تکنیکی خرابی کے باعث سمندر میں گر گیا۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ ان کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ماہرین کی رائے: ‘نپی تلی کشیدگی’ کا کھیل
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی حادثاتی تصادم نہیں بلکہ دونوں طرف سے انتہائی سوچا سمجھا اور نپا تلا قدم ہے۔ جہاں امریکہ نے صرف فوجی ریڈاروں کو نشانہ بنا کر سویلین نقصان سے گریز کیا، وہیں ایران نے بھی شہری آبادی کے بجائے خالصتاً امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر اپنی طاقت کا لوہا منوایا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ‘ریڈ لائنز’ کو ٹیسٹ کر رہے ہیں تاکہ جنگ کو بڑے پیمانے پر پھیلنے سے بھی روکا جا سکے اور سیاسی برتری بھی حاصل کی جا سکے۔

مشرق وسطیٰ کی یہ صورتحال اب کسی بھی وقت ایک ہولناک علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

Loading