امریکی آبدوز نے گزشتہ روز سمندر کے نیچے سے ایران پر حملہ کیا۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )امریکی آبدوز نے گزشتہ روز سمندر کے نیچے سے ایران پر حملہ کیا۔۔ سب سے پہلے آپ کو بتاتا چلوں کہ اس وقت امریکہ کے پاس سب سے بڑی آبدوز ہے جس کا نام (BS 329) ہے،،،، یہ کئی ماہ تک پانی کے اندر رہ سکتی ہے۔ اس کے اندر سینکڈوں لوگ موجود ہوتے ہیں جو ان آبدوزوں کو آپریٹ کرتے ہیں۔۔۔۔ امریکہ جہاں بھی کسی ملک پر حـملہ کرتا ہے،،، اگر اس ملک کے ساتھ سمندر کا کوئی کنارہ ہو تو وہ اپنی آبدوزیں وہاں روانہ کرتے ہیں۔ شمالی کوریا کے پاس سب سے زیادہ آبدوزیں ہیں، یہاں تک کہ امریکہ سے بھی زیادہ ہیں ان کے پاس 72 آبدوزیں ہیں،، جب کہ امریکہ کے پاس 67 آبدوزیں ہیں۔
گزشتہ روز تبـاہ ہونے والے ایـرانی بحری جہاز “IRIS” کو امریکہ نے آبدوز سے مارا تھا۔جن میں کئی لوگ شہید ہوگئے۔ آبدوزیں پیٹرول اور ڈیزل پر نہیں چلتی ہیں، بلکہ “یورینیم 235” پر چلتی ہیں۔ یہ آبدوز کے ری ایکٹر میں استعمال ہوتا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر ایٹمی آبـدوز کے ری ایکٹـــر میں صـرف 900 کلـوگرام یورینیم 235 استعمال کیا جائے، تو یہ چھوٹا سا پیکج اگلے بیس سے تیس سالوں تک “ٹربائنوں” کو بغیر کسی ایندھن کے بجلی فراہم کرتا رہے گا۔ یہ ایسی حیرت انگیز توانائی پیدا کرتا ہے کہ بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب ایک کلـوگرام یورینیم 235 جوہری ریکٹر سے گزرتا ہے تو یہ 24 ملین کلو واٹ گھنٹے توانائی پیدا کرتا ہے جو کہ ایک اوسط یورپی گھــــر کی 3000 سـال سے زائد بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے،،،،، اتنی لامحدود توانائی کی بــدولت جوہری آبدوزیں کئی کئی ســـالوں تک پانی کے اندر رہ سکتی ہیں، بار بار سطح پر نہیں آتی سوائے کھانا لے جانے اور معمولی مرمت کے۔۔ یہ ایک اسٹریٹجک فائدہ ہے جس کا مقابلہ کوئی روایتی ڈیزل الیکٹرک آبدوز نہیں کر سکتی۔
الحمدللہ پاکستان کے پاس 8 آبدوزیں ہیں جو اس وقت سمندر کی گہرائیوں میں خاموشی سے بیٹھی ہیں اور حکم ملنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ یہ سمندر سے حمـلہ کرتے ہیں اور کئی کلومیٹر دور جگہ کو بہت ہی آسانی سے ہیٹ کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
تحریر Tehsin Ullah Khan
![]()

