🟪امیر تیمور اور بایزید یلدرم کی خط وکتابت اور فاتح ایشیاء امیر تیمور اور بایزید یلدرم کے درمیان جنگ انقرہ🟪
🟦تحریروتحقیق۔۔۔ہیرالڈلیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریروتحقیق۔۔۔ہیرالڈلیم )امیر تیمور نے ایک خط بایزید یلدرم کولکھا، جس میں زیادہ نرم لہجہ اختیار کیا۔ اس نے بایزید سے یہ درخواست کی کہ وہ قراایوسف اور سلطان احمد کی مدد نہ کرے۔ یہ دونوں اپنے آپ کوترکوں کی حفاظت میں دے چکنے کے علاوہ بایزید سے باقاعدہ معاہدہ بھی کر چکے تھے۔ تیمور کو بایزید سے اس وقت تک کوئی پرخاش نہ تھی ، بلکہ وہ ترکوں کی جنگی طاقت کا احترام کرتا تھا ، اور شاید ترکوں کے یورپ میں رہنے کی صورت میں ایشیاء میں ان سے جنگ کرنے کا خواہاں بھی نہ تھا۔
مگر بایزید نے بڑاغیر مصالحانہ جواب دیا۔ اس کے خط کا مفہوم یہ تھا کہ:-
🔥”اےخونی کے تیمور! سن لے!! ترک نہ اپنے دوستوں کو پناہ دینے سے انکار کرتے ہیں، نہ دشمنوں سے لڑنے سے گریز کرتے ہیں اور نہ وہ جھوٹ بولنے اور دھوکا دینے کے
عادی ہیں ۔🔥
🩸تیمور نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ اس نے بایزید کو یہ طعنہ دیا کہ عثمانی ترک خانہ بدوش ترکمانوں کی نسل سے ہیں اور لکھا کہ میں تمھاری اصل سے واقف ہوں اور آخر
میں یہ صلاح دی کہ مقابلے پر آنے سے پہلے خوب اچھی طرح غور کرلو۔ میرے پاس ہاتھیوں کی فوج ہے جوانسانوں کو کچل ڈالتے ہیں ۔ مگرتم سے توقع نہیں کہ غورکرو گے کیونکہ ترکمانوں نے آج تک کبھی غوروفکر کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بہرحال پھر سن لو! اگرتم نے میرے مشورے پرعمل نہ کیا تو پچھتاؤ گے، اس لیے سوچ سمجھ کر قدم اٹھا اور وہی کرو جس میں فائدہ نظر آئے🩸
🔥بایزید نے جواب میں جو خط بھیجا اس میں اپنی فتوحات کی طویل داستان بیان کی کہ وہ کس طرح یورپ کو، جو کافروں کا گڑھ ہے، فتح کرتا چلا جارہا ہے، کس طرح اس کا باپ بھی دین کے لیے شہید ہو چکا ہے اور کس طرح اب وہ اسلام کا محافظ ہے۔ اس نے لکھاکہ :-
🔥ہم نے مدت سے تمھارے ساتھ جنگ کا ارادہ کر رکھا ہے۔ الحمد اب اس کا وقت قریب آگیا ہے۔ اگرتم خود لڑنے نہ آ ؤگے تو ہم چڑھائی کر کے سلطانیہ تک تمھارا تعاقب کریں گے۔ پھر دیکھیں گے کون فاتح بنتا ہے اور کسے شکست ہوتی ہے۔”🔥
🩸تیمور نے اس کے خط کا اس وقت تو کوئی جواب نہ دیامگر کچھ دن بعد اس مضمون کا ایک مختصر سا خط بھیجا کہ اگر بایزید قرایوسف اور سلطان احمد کا ساتھ چھوڑ دے توجنگ ٹل سکتی ہے۔
🔥بایزید نے فورا جواب دیا،اور بڑا سخت جواب دیا، اتنا سخت کہ تیمور کے وقائع نگار اس کو دہرانے کی جرأت نہیں کر سکے۔اس نے سرنامے پر اور اپنا نام آب زر سے اور
اس کے نیچے کالے حروف میں تیمور لنگ لکھوایا اور دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا کہ:-
🔥”تیمور کی چہیتی بیوی کی عصمت دری کرے گا”🔥
لیکن یہاں مترجم نے وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مصنف کو اوپر والے جملوں کی غلط فہمی ہوئی ہے۔🔻“عجائب المقدور فی اخبار تیمور”میں بایزید کے خط میں یہ جملے بھی لکھے ہوئے ہیں کہ :-
🔥“تم میرے ملک پر چڑھائی کرو گے ۔ میں بھی یہی چاہتا ہوں اور اگر تم نہ آئے تو تمہاری بیویوں پر تین طلاق، اور اگر تم آئے اور میں بھاگ گیا تو میری بیویوں پر تین طلاق۔”🔥
جس سے تیمور غصے کے مارے بے قابو ہوگیا۔اس نے اپنی بیگمات کو ان کے درباروں سمیت خطرے سے باہر رکھنے کے لئیے سلطانیہ روانہ کردیا۔اور بایزید یلدرم کے خلاف جنگ کی تیاری شروع کر دی۔
🟢 جنگ انقرہ 🟢
1304ء کا موسم گرما شروع ہوتے ہی مشرقی یورپ کے فاتح نے فاتح ایشیاکا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی پوری فوج جمع کی اور کسوبا اور نیکو پولس کی آزمودہ کارجمنٹوں کو بحیره مارمورا کے قریب عثمانی ترکوں کے پایہءتخت بروصہ میں جنگ کے لیے تیار کیا گیا۔وہیں اناطولیہ کی فوجیں اور سربیا کے بادشاہ لزارس کے بیس ہزارزره پوش سوار بھی ان سے آملے۔ وقائع نگار لکھتا ہے کہ وہ سر سے پاؤں تک فولاد میں اس طرح غرق تھے کہ صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ یہیں یونانی اور ولاچیائی فوجیں بھی اپنے نئے آقا سلطان بایزید کی مدد کے لیے حاضر ہوگئیں غرض فوج کی کل تعداد ایک لاکھ بیس ہزار اور ڈھائی لاکھ کے درمیان ہوگئی۔
🩸بایزید کی سیاہ تمام عمر فتوحات حاصل کرتی آئی تھی۔ اس کے سپاہی اور ینی چری ہر وقت ہتھیار بندرہتے تھے۔ اس کانظم وضبط بڑا کڑاتھا اور اس کا ہر فرد بایزید کا اسی طرح وفادار تھا جس طرح غلام اپنے آقاؤں کے وفادار ہوا کرتے تھے۔ اسی لیے بایزید کو اپنی فتح کا کامل یقین تھا اور اس نے تیمور کے انتظار کے دن جشن منانے میں گزارے۔
🩸تیمور پیش قدمی کر کے ترکوں کی طرف آرہا تھا۔ ترک اس سے خوش ہوئے۔ ان کی طاقت کا انحصار اپنی پیادہ فوج پر تھا جس کے جوہر دفاعی جنگ میں کھلتے تھے۔ پھرایشیائے کوچک کا زیادہ حصہ بھی جو نا ہموار ہونے کے ساتھ ساتھ جنگلوں سے بھی پٹا ہوا تھاپیادہ فوج کے لیے خاص طور پر موزوں تھا۔ سیواس سے مغرب کی طرف صرف ایک سڑک آتی تھی۔ ترکوں کوتوقع تھی کہ تیمور سے اسی سڑک پر مقابلہ ہوگا۔
🩸بایزید اپنی فوج لے کر بہت آہستہ آہستہ کوچ کرتا ہوا انقرہ تک آیا۔یہاں اس نے اپنا مستقر قائم کیا اور پھر آگے بڑھ کر دریائےہیلس عبور کرنے کے بعد پہاڑی علاقہ میں داخل ہوگیا۔ اس مرحلے پراس کے قراولوں نے اطلاع دی کہ تیموراس سے ساٹھ میل کے فاصلے پر سیواس میں ہے۔
🩸بایزید وہیں رک گیا اس نے اپنی رجمنٹوں کو مناسب مقامات پرتعین کیا اور تیمورکا انتظار کرنے لگا۔
اس انتظار میں تین دن گزرے پھر پانچ دن گزرے یہاں تک کہ پورا ایک ہفته گزر گیا مگر تا تاری نمودار نہ ہوئے۔ پھر اس کے قراول سیواس سے جن لوگوں کو پکڑ کر لائے انھوں نے تشویشناک خبر سنائی کہ سیواس میں تو اس وقت تاتاریوں کے چند دفاعی دستے ہیں باقی فوج تیمور اپنے ساتھ لے کرکبھی کاترکوں کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔
🩸مگر تیمور کاسیواس اور ترک فوج کے درمیانی علاقے میں کہیں پتانہ تھا۔ ترکوں کے قروال پورے پہاڑی علاقے میں گھوڑے دوڑا کر واپس آگئے ، وہاں تاتاریوں کانام و نشان نہ تھا۔ وہ اپنے ہاتھیوں سمیت نہ جانے کہاں غائب ہوگئے تھے۔
🩸ترکوں کو اس قسم کی صورت حال سے کبھی واسطہ نہ پڑاتھا۔ اس وقت وہ جنگی ترتیب میں دریائے ہیلس کے نا ہموار پہاڑی علاقے میں پڑاو ڈالے پڑے تھے۔ یہ دریا سیواس سے پرےاپنے منبع سے نکل کر جنوب کو ہو لیتا ہے اور دور تک بہتے چلے جانے کےبعد انقرہ کے قریب شمال کی طرف مڑ کر بحیرہ اسود میں جا گرتا ہے۔ اس طرح مڑتےمیں اسے ایک بڑا سا چکر کاٹنا پڑتا ہے۔ اسی چکر کے اندر کے رُخ وسط میں ترک فوج پڑی تھی اور بایزید نے فیصلہ کرلیا تھا کہ جب تک تاتاریوں کے بارے میں کوئی قطعی بات معلوم نہ ہوئی وہ اپنی فوج کو حرکت میں لاۓ گا۔
🩸آٹھویں دن صبح ہوتے ہی یہ خبر ملی کہ تاتاریوں کے ایک قراول دستے نے جس کی کمان تیمور نے اپنے ایک خاص امیر کو د ے رکھی ہے بایزید کے میمنہ پر حملہ کیا اور اس کی بیرونی چوکیوں کے چند سپاہیوں کو گرفتار کر کے لے گیا۔ اب ترکوں کو یقین ہو گیا کہ تاتاری اس وقت ان کے جنوب میں ہیں۔ وہ اس طرف بڑھے مگر دو دن بعد دریا پر پہنچے تو وہاں تاتاریوں کا کہیں پتہ نہ تھا۔ بایزید نے اپنے بیٹے سلیمان کی کمان میں جو بڑا لائق سپہ سالارتھا۔ کئی سواردستے دریا پار روانہ کیے کہ حال معلوم کر کے آئیں۔
🩸سلیمان جلدی یہ خبر لے کر آیا کہ تیمور کترا کر نکل گیا ہے اور اس وقت ترکوں کےپس پشت تیزی سے انقرہ کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔بایزید جو تاتاریوں کو کچھ اہمیت نہیں دے رہا تھا یہ خبر سن کر چونک اٹھا۔ اس نےدریا پار کیا اور دشمن کے پیچھے پیچھے اپنے مستقر کی طرف روانہ ہوا۔
🩸تیمور نے ایک سیدھی سی مگر پرلطف چال چلی تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ پہاڑی علاقے جس میں وہ اس وقت ہے اس کی سوار فوج کے لیے موزوں نہیں ہے تو جنوب کی طرف پلٹ گیا اور واد ی ہیلس کے ساتھ ساتھ اس طرح بڑھنا شروع کیا کہ اپنے اورترکوں کے درمیان دریا حائل رکھا۔ وہ دریا کے چکر کے باہر اس کے کنارے لگواں لگواں جارہا تھا جب کہ بایزید اس کا انتظار کر کے چکر کے اندر اس کے وسط میں کررہا تھا۔
🩸فصلیں پک چکی تھیں اور کٹائی کے لیے تیار کھڑی تھیں ۔ گھوڑوں کے لیےچراگاہیں بھی جابجا موجودتھیں۔ تیمور نے سواروں کے ایک دستے کو باقی فوج سے علیحدہ کر کے اسے ترکوں سے جا کر بھڑنے کاحکم دے دیا تھا اور خودسلیمان کے دستوں سے ایک معمولی سی جھڑپ کے بعد اس وقت ایک گاؤں کوچ حصار میں مقیم تھا اور اپنے پوتوں اورافسروں کو تزورات کے گُر بتارہا تھا:
🔷“اب ہمارے سامنے دو راستے ہیں جن میں سے ایک اختیار کرنا ہوگا۔ یا تو ہم یہاں انتظار کریں گھوڑوں کو تازہ دم کر لیں اور پھر ترکوں سے بھڑ جائیں یا ان کے ملک کےاندر گھستے چلے جائیں اور اسے برباد بھی کرتے جائیں اور یوں انھیں اپنے پیچھے پیچھے چلےآنے پر مجبور کر دیں۔ ان کی فوج کا بڑا حصہ پیادہ ہے۔ پیدل چلنا انسان کو تھکا دیتا ہے۔ ان کی فوج تھک کر خستہ حال ہو جائے گی“
اور پھر ایک لمحہ توقف بعد کہا:”اور ہم یہی کریں گے۔”🔷
🩸اس گاؤں سے روانگی کے بعد تیمور نے کوچ کا ڈھنگ بدل دیا۔ اس نے وہاں ایک موخرالجیش چھوڑ کر سواروں کا ایک لشکر دوامیروں کی سرکردگی میں روانہ کردیا جن کے
ساتھ کچھ پیاده سپاہی بھی تھے جن کا کام یہی تھا کہ فوج کے قیام کے لیے جو مقامات تجویز کیےجائیں وہاں کنویں کھودتے جائیں اور مقدمته الجیش کے سواروں کو حلم دیا کہ فوج کے لیےغلہ جمع کرتے رہیں۔
🩸حصار سے آگے علاقه زیادہ کھلا تھا۔ پانی بھی کافی مقدار میں ملتا رہا۔ اب تاتاری فوج دریا سے ہٹ کر چل رہی تھی۔ پھرانہیں یہ اطلاع ملی کہ ترکوں کا مستقر انقرہ میں ہے۔ اس سے اچھی اطلاع اور کیا ہوسکتی تھی انقر توان کے راستے میں پڑتا تھا۔ تیمور نے رفتار تیز کر دی اورانقرہ تک کا ایک سومیل کا فاصلہ تین دن میں طے کر کے تیسرے دن وہاں جاپہنچا۔
🩸اس نے بڑھاپے میں زرہ پہننی چھوڑ دی تھی مگر اس روز زرہ پہن کر نکلا اور شہر کا معائنہ کرنے کے لیے گھوڑے پر سوار ہوکر اس کے گرد پھرا۔
🩸شہر کے اندر جوترک تھے انھوں نے شہر کا دفاع کرنے کے ارادے ظاہر کیے۔تیمور نے اپنی فوج کو حملے کا حکم دے کر خود بایزید کا معسکر د یکھنے چلا گیا مگر وہاں پہنچا تو وہ معسکر خالی ملا لیکن ایک بھی محافظ موجود نہ تھا۔ بایزید جن ترکوں کو عسکر میں چھوڑ کر گیا تھاوہ شاید وہاں سے چلے گئے تھے۔
🩸انقرہ ایک فراخ میدان کے وسط میں واقع ہے۔ تیمور نے ملاحظے کے بعد یہ رائے ظاہر کی کہ بایزید نے مستقر کے لیے جو مقام انتخاب کیاوہ کچھ برا نہیں ہے۔تاتاریوں نے بایزید کے مستقر کے خیموں پر قبضہ کرلیا۔ پھر انھوں نے اپنے امیر کے حکم سےاس چھوٹے سے دریا پر بند باندھاجوانقرہ میں سے ہوکر گزرتا تھا اور اس کا راستہ اس طرح بدلا کہ اب وہ اس جگہ کے عقب سے گزرنے لگا جہاں ان کا پڑاؤتھا۔ اس طرح ان کے پیچھے پیچھے آنے والی ترک فوجوں پر اس دریا کا پانی بند ہوگیا۔ اس کے علاوہ جس چشمے سے پانی لیا جاسکتا تھا اسے بھی تیمور نے بند کروا دیا اور اس میں غلاظت ڈلوا دی۔ اس اثنا میں اس کے سپاہی شہر کی فصیل توڑنے کی کوشش کرتے رہے تھے مگر ابھی اس میں کامیاب نہ ہوئے تھے کہ قراولوں نے بایزید کے بارے میں یہ اطلاع دی کہ وہ اس وقت یہاں سے بارہ میل کے فاصلے پر ہے۔
🩸تیمور نے شہر فتح کرنے کا ارادہ ترک کر دیا بلکہ جوسپاہی ایک برج پرپہنچ چکے تھےانھیں بھی نیچے بلالیا۔ اس رات اس نے معسکر کے گرد خندقیں کھدوائیں تمام رات آگ جلتی رکھی اور اس کے سوار معسکر کے گرد گشت کرتے رہے مگر ترک صبح سے پہلے نمودار نہ ہوئے۔
🩸وہ ایک ہفتے سے کوچ کرتے آرہے تھے اور انھیں رفتار بھی تیزرکھنی پڑی تھی۔ راستے میں پانی کی قلت رہی تھی اور خوراک تو بہت ہی کم مہیاہوئی گی۔ تاتاری ان کے آگے آگے جہاں جہاں سے گزرے تھے وہاں انھوں نے تباہی پھیلا دی تھی ۔ اب انقرہ پہنچ کر ترک فوجوں نے جو پہلے ہی تھکی ماندی اور بھوکی پیاسی تھیں یہ دیکھا کہ تاتاری ان کے معسکر پر بھی قابض ہو چکے ہیں اور ان کے پاس وافر رسد بھی موجود ہے۔ ستم بالائے ستم یہ تھا کہ پانی تک پہنچنے کے لیے بھی تاتاریوں کے معسکر سے ہوکر گزرنا پڑتا اور کہیں پانی دستیاب ہی نہیں تھا۔ تیمور پر حملہ کرنے کے سوا چارہ نہ تھا حالانکہ اس حالت میں اس سےکٹرانا شکست کھاناتھا۔
🩸پھر بایزید کی سوار فوج بھی وسطی ایشیا کے شہسواروں کے دل بادل سے کمزورتھی اس لیے وہ اسے لڑانا چاہتا تھا مگر تیمور نے اسے غلطی کرنے پرمجبور کر دیا اور اس کے یہ
کمزورسپاہی بھی مجبورا ایسی حالت میں میدان میں اترے جب پیاس کی شدت سے نڈھال تھے۔ تیمور نے بایزید کو چکر میں ڈال دیا تھا اور اسے گویا ناک میں نکیل ڈال کر انقره
واپس لایا تھا۔ بایزیدتلواریں نیاموں سے نکلنے سے پہلے ہی لڑائی ہار چکا تھا۔
🩸دن کے دس بجے جب دھوپ خوب تیز ہو چکی تھی ترک اپنے اُسی آہنی حو صلےسے آگے بڑھے جو کتنے ہی جنگی میدانوں میں ناقابل شکست ثابت ہو چکا تھا۔ محاذ جنگ
پندرہ میل سے آگے تک پھیلا ہوا تھا۔ تاتاری فوج کا ایک بازو دریا کے کنارے تھادوسراجو دور ہونے کی وجہ سے نظر نہ آتا تھا ایک پہاڑی پر تھا جس کے گرد حصارتھا وقائع نگار لکھتاہے کہ ترکوں نے نقارے طبل اور شہنائیوں کی گھن گرج کے ساتھ پیش قدمی کی جبکہ تاتاری فوجیں بالکل خاموش کھڑی رہیں۔
🩸تیمور آخری لمحے تک گھوڑے پر سوار نہ ہوا۔ اس کے سپہ سالارفوج کو لڑاتےرہے۔ وہ خود ایک چھوٹی سی پہاڑی پراپنی پیادہ فوج کے ساتھ کھڑارہا جو سوارفوج کےجھمگٹ کے عقب میں تھی۔ اس کے ساتھ مشکل چالیس گھڑ سوار ہوں گے۔ قلب کا کمانداراس کا پوتا شاہزادہ محمدتھا، جس کے پاس سمرقند کی فوج کے علاوہ ایشیا کے مشہور سالاروں کےتحت لڑنے والی ایسی رجمنٹیں بھی تھیں۔ قلب میں ہاتھی بھی تھے جن کے جسموں پر رنگین چرمی زرہیں پڑی ہوئی تھیں۔ ان کا مصرف تدبیراتی سے زیادہ نفسیاتی اثر ڈالنا تھا۔
🩸بایزید کے بیٹے سلیمان نے تاتاری میمنہ پر گھڑ سواروں سے حملہ کیا جن کی کمان وہ خود کررہا تھا۔ تاتاریوں نے ان پر تیروں کی بوچھاڑ کی اور ناررومی کے شعلے پھیکے تودھوئیں اور گردوغبار کے چلتے ہوئے بادلوں کے تلے ترک فوج کے گھوڑوں اور جوانوں کے کشتوں کے پشتے لگے ہوئے نظر آئے۔ ترکوں کی صفوں میں ابتری پھیل گئی تو اس سےفائدہ اٹھا کر تا تاریوں کے قابل ترین سردار نورالدین نے میمنہ کی باقی فوج لے کران پر چڑھائی کر دی۔
🩸یوں ترکوں کی پیش قدی جنگ کے پہلے ہی گھنٹے میں رک گئی اور تاتاریوں نےآگے بڑھنا شروع کردیا۔ نور الدین نے سلیمان کے میسرہ کو اس بری طرح زک دی کہ ترکوں کے بعض لشکر تو میدان سے ہٹ ہی گئے ۔ بایزید کی فوج میں ایشیائے کوچک کےبہت سے تا تاری بھی تھے۔ ان کے سردار تیمور سےمل گئے اور جب انھوں نے یہ دیکھا تو وہ بھی اس ابتری میں موقع پا کر ترکوں کا ساتھ چھوڑ گئے۔
🩸نورالدین دائیں جانب حالات پر قابو پا چکا تو تاتاریوں کابایاں بازوتین صفیں بنا کر آگے بڑھا اور چھوٹے چھوٹے ترک دستوں کو منتشر کرنے کے بعداس رخ کے ترک سواروں پر جا پڑا جن کے پاس کافی اسلحہ نہ تھا اور انھیں مار بھگایا۔ یہ تا تاری مار دھاڑکرتے ہوئے اتنے آگے نکل گئے کہ تیمور کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
🩸اب شاہزادہ محمد گھوڑاسرپٹ دوڑاتا ہوا دادا کے پاس پہنچا اور گھوڑے سےاتر کر دوزانو ہوکر بایزید کی کثیر پیادہ فوج پرتاتاری قلب کی فوج سے حملہ کرنے کی اجازت طلب کی مگرتیمور نے اس حملے کی اجازت نہ دی۔
🩸اس کے بجاۓ اس نے محمد کو سمرقند کی سپاہ اور بہادروں کا لشکر دے کر جس میں تاتاریوں کے مانے ہوئے گھڑ سوار تھے اسے بائیں بازوکی کمک کوپہنچنے کاحکم دیا جس کے لشکر زیادہ آگے نکل گئے تھے۔
پیرانہ سال فاتح کے چہیتے پوتے نے دادا کے علم پرسرتسلیم خم کردیا اپنا سرخ علم بلند کیا تاتاری فوج کے بہترین جوانوں کے ساتھ گھوڑا دوڑاتا ہوا میدان کی طرف چل دیا اور اس روز کی سنگین ترین لڑائی میں جا کر جس میں سربیا کے زره پوش سوارتاتاریوں کے تابڑ توڑ حملوں سے جنھوں نے انھیں جنبش تک کرنے کے قابل نہ رکھا تھا اپنی جانیں بچانے کی کوشش میں تھے اور پیدل یورپی فوج کے قوی ہیکل جوانوں کے گروہ ہر پہاڑی پرڈٹے ہوئے تھے۔ سربیا کے بادشاہ پیٹر نے اس معرکے میں جان دی اور اسی میں شاہزادہ محمداتنا سخت مجروح ہوا کہ اسے گھوڑے سے اترنا پڑااگر اس خونی لڑائی میں بایزید کے میمنہ کا صفایا ہوگیا۔
🩸اب اس کے پاس صرف اپنی کثیر پیادہ فوج رہ گئی جس کی حفاظت کے لیے کوئی خندق یا رکاوٹ نہ تھی اور جسے تاتاری سوار دوطرف سے گھیرے میں لے رہے تھے۔اس مرحلے پر تیمور نے تاتاری قلب کی کمان سنبھالی اور آگے بڑھنا شروع کیا۔
🩸عثمانی ترکوں کی شاندار پیادہ فوج ینی چری نے جس کی شجاعت کی بڑی دھوم تھی ابھی تک ایک بھی دار نہ کیا تھا اور اب اس کے ہلاک ہونے سے بچنے کی کوئی صورت نہ تھی۔ دراصل اس کی قسمت کا فیصلہ تو لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی ہو گیا تھا کیونکہ اس کے شہنشاہ کو ایشیا کے عظیم جنگی شاطر نے اپنی جنگی چالوں سے بے بس کر دیا تھا۔ عقب کی رجمنٹیں یہ دیکھ کر کہ ا بھی فرار کا موقع ہے بھاگ کھڑی ہوئیں۔ باقیوں نے تاتاریوں کے پے در پےحملوں سے منتشر ہوجانے کے بعد جہاں کہیں کوئی ٹیلا دیکھا اس پر چڑھ کر لڑائی جاری رکھی۔ ترک فوجوں میں سے زرہ پوش ہاتھی بھی گزارے گئے۔ ان دیو قامت حیوانوں پرہودج بھی رکھے ہوئے تھے جن میں آتش سیال برسائی جارہی تھی۔ نا قابل برداشت شوروغل اورگردوغبار کے طوفان میں تھکے ماندے ترک بے بس ہوکر مارے جارہے تھے۔ بہت سےجو بھاگ کھڑے ہوئے تھکان کی تاب نہ لا کر گرے اور مر گئے۔
🩸بایزید نے ایک ہزار ینی چری اپنے ساتھ لے کر ایک پہاڑی سے تاتاریوں کو مار بھگایا پھرتیر سنبھالے ہوئے جم کر کھڑا ہوگیا اورتیسرے پہر کے تمام وقت بے جگری سے لڑتارہا۔ جس طرح واٹرلو کی لڑائی میں جب نپولین کی فوج بھاگ نکلی تو اس کی اولڈگارڈ بٹالین اس کے ساتھ آ خر دم تک لڑتی رہی اسی طرح بایزید کی اس فوج خاص نے بھی لڑتے لتڑ تے جان دی۔
🩸شام ہوتے بایزید گھوڑے پر سوار ہوا چند سواروں کو ساتھ لیا اور تاتاری فوج کی صفوں میں سےلڑ بھڑ کر نکل جانے کی کوشش کی مگر اس کا تعاقب کیا گیا اس کے سب ساتھی ایک ایک کر کے ہلاک کردیے گئے اس کے گھوڑےکو بھی تیروں سے گرالیا گیا اور خوداسےمُشکیں باندھ کر غروب آفتاب کے وقت تیمور کے خیمے میں لایا گیا۔
🩸کہتے ہیں تیمور اس وقت شاہ رخ سے شطرنج کھیل رہا تھا۔ جب اس نے بایزیدکو آتا دیکھا جس کے چہرے پراس مصیبت کے وقت میں بھی شاہان جلال تھا امیرتیمور اٹھ کر خیمےکے دروازے تک آیا اور اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔ بایزید کی تمکنت اور شیرانہ خوابھی رخصت نہیں ہوئی تھی۔ اس نے چلا کر کہا:
جس پر خدا نے مصیبت ڈالی ہواس کے حال پر ہنسنا اچھی بات نہیں‘
تیمور آہستہ سے بولا:”میں اس لیے مسکرایا کہ خدا نے اس میں خبرنہیں کیامصلحت دیکھی کہ دنیا کی حکومت میں لنگڑے کو اور تجھ اندھے کوبخشی ‘‘ پر سنجیدہ لہجے میں کہا:
”سب جانتے ہیں کہ اگرتم کو فتح حاصل ہوتی تو میرا اور میرے ساتھیوں کا کیا حشر ہوتا۔“
🩸بایزید نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ تیمور نے حکم دیا کہ اس کی مشکیں کھول دی جائیں۔ پھر اسے مسند پر اپنے پاس بٹھایا۔ تیمور نے بایزید جیسے ایک جلیل القدر سلطان
کو اپنا قیدی بنا کر رکھنے کا ارمان نکالنے کے لیے اسے نظر بند کر دیا مگر بڑےاخلاق سے پیش آیا اور بہت اچھا سلوک کیا چنانچہ جب بایزید نے درخواست کی کہ اس کے بیٹوں کو تلاش کر لیا جائے توفوراً اُن کی تلاش کا حکم دے دیا۔ اس کے ایک بیٹے موسٰی کوقیدی بنا کر لایا گیا۔ مگر تیمور نے اسے خلعت بخشا اور اس کے باپ کے پاس بٹھایا۔ بایزید کا دوسرابیٹا لڑائی میں مارا جا چکا تھا اس لیے وہ نہ ملا۔ باقی بچ کر نکل گئے تھے۔
🩸تیمور نے فتح کے بعد چاروں طرف لشکر روانہ کیے تا کہ جوترک سپاہی بچ نکلے ہیں ان کا تعاقب سمندر تک کیا جائے۔ جب نورالدین نے بروصہ پر قبضہ کیا جوعثمانی ترکوں کا دارالسلطنت تھا تو اس نے وہاں سے تیمور کو سلطان کا خزانہ اور اس کی بہت ہی حسین وجمیل کنیزیں بھیجیں۔ وقائع نگار لکھتا ہے کہ یہ کنیزیں رقص وسرود میں اپنا جواب نہ رکھتی تھیں۔ اسی طرح تاتاری سپاہی بھی جو مال غنیمت لے کر تیمور کی خدمت میں حاضر ہوئےاس میں بھی طرح طرح کی چیزیں تھیں۔ اب کے جو جشن منایا گیا اس میں یورپی شرابیں اور حسین وجمیل عورتیں جشن کی رونق بڑھارہی تھیں۔
🩸اس میں بایزید کو بھی مدعو کیا گیا بلکہ زبردستی لایا گیا۔ اس کی نشست تیمور کے پاس رکھی گئی اور تیمورنے حکم دیا کہ بروصہ کے مال غنیمت میں سے سلطان ترکی کا شاہانہ لباس حاضر کیا جائے۔ لباس سلطان کو پیش کیا گیا کہ پہن کر دکھائے۔ اس نے مجبورا جڑاو عمامه سر پر رکھا اور سنہری عصا جو اس کی شہنشاہی کا نشان تھا ہاتھ میں تھام لیا۔
🩸جب وہ لباس شاہی پہنے کھڑاتھاس حالت میں اسے وہی مشروب پیش کیے گئے جن کا وہ عادی تھا۔ مگر اس نے کوئی مشروب چکھا تک نہیں ۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی حسین ترین کنیزیں جو بے پیرہن تھیں تاتاری فاتحوں کو شراب و کباب پیش کررہی تھیں۔
🩸ان میں اسے اپنی منظور نظر ڈسپینا بھی نظر آئی ۔ وہ سربیا کے بادشاہ پیٹر کی بہن تھی جسے بایزیدا ننا چاہتا تھا کے حرم میں داخل ہونے کے لیے اسے مسلمان ہونے پر مجبور نہ کیا تھا۔
🩸وہی سیمیں بدن عورتیں جو اس کی آغوش کی زینت بنتی رہی تھیں اورجنہیں اس نے جنگی قیدیوں میں سے ان کے عدیم المثال حسن و جمال کی بناپر پسند کیا تھا اپنے مرمریں پیکر لئیے لوبان کے دھوئیں میں ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آ جارہی تھیں اور وہ اس پر مجبور تھا کہ یہ دل خراش منظر چپ چاپ بیٹھادیکھتارہے۔ان میں سیاہ بالوں والی ارمنی حسینائیں بھی تھیں ،کوہ قاف کی سنہری گیسوؤں والی پریاں بھی،فر بہ مگر حسین روسی لڑکیاں بھی اور ستاروں کی طرح ڈگر ڈگر کر تی آنکھوں والی یونانی نازنینیں بھی جنھوں نے پہلے کبھی حرم سرا کی چاردیواری کے باہر قدم نہ رکھا تھا۔
🩸اس جشن میں ایشیا کے جو تاجدار شریک تھے ان سب کا مرکز توجہ بایزیدہی تھا۔ بعض اس کے حال پرتعجب کررہے تھے بعض اس کا مضحکہ اڑارہے تھے اور بعض اب بھی اس کے ساتھ نرمی برتنے کو تیار نہ تھے۔ اس وقت بایزید کے دل میں ان خطوط کا خیال ضرور آیا ہوگا جواس نے گزشتہ سال تیمورکو لکھے تھے۔ غصے سے اس کا تن بدن پھنک رہا ہو گا مگر خودداری نے غصہ پی جانے پرمجبور کر دیا ہوگا شایداسی لیے وہ دسترخوان پرایک لقمہ بھی نہ اٹھاسکا۔
🩸کیا یہ تیمور کی طرف سے بے اعتنائی کا مظاہرہ تھا؟
🔻شاید با یزید کو اس کےشاہی لباس میں دیکھنا چاہتا ہو!
🔻کیا سچ مچ اس کا یہ خیال تھا کہ اس طرح وہ اپنے معزز قیدی کی عزت افزائی کررہاہے؟
🔻یا یہ جشن اس کا مذاق اڑانے کے لیے منایا جارہا تھا؟
🔻کون جانے حقیقت کیاتھی؟
جہاں تک بایزیدکا تعلق ہے معلوم ایسا ہوتا ہے کہ اسے یہ پرواہی نہیں تھی کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے۔ تاتاری مطرب فتح و نصرت کے شادیانے بجارہے تھے مگر اس کے کانوں میں تو جنگی نقاروں کی آوازیں ہی گونج رہی ہوں گی۔
🩸اس وقت بایزید کے بھاری بھرکم جسم پرشاید کرب کی وجہ سے رعشہ طاری تھا۔تاہم وہ اپنے عصا کو مضبوطی سے تھامے رہا مگر جب تاتاریوں نے بایزیدکی خاص مطرباؤں کومحفل میں بلا کر ان سے ترکی زبان کے عشقی گیت سنانے کی فرمائش کی،جس کےبعد حسب دستور امیروں کو انہیں خراب کرناتھا تو بایزید کی قوت برداشت جواب دےگئی۔ وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور اشارے سے کہا کہ دروازے تک پہنچایا جائے۔
🩸اہل محفل نے اسے روکانہیں ۔ دوتا تاری افسرفورا اٹھے اور اس کے بازو تھام کر جشن گاہ کے باہر تک پہنچا آئے۔ اس وقت بایزید کا سرجس پرشاہی عمامہ باندھا تھا اتنا جھک گیا تھا کہ اس کی تھوڑی سینے پر جاٹکی گی۔بعد میں تیمور نے ڈسپینا کو بایزید کے پاس اس پیغام کے ساتھبھیج دیا کہ وہ اس کی چہیتی بیوی اسے واپس کررہا ہے۔
🔥یوں گزرا طوقان رعد و برق (یلدرم) ۔ عیش وعشرت اور جنگ کی مصیبت سےاس کی صحت تباہ ہوگئی پھر اس کا غرور فتح مندی بھی پاش پاش ہو چکا تھا چنانچه چنددن بعد مرگیا۔
![]()

