Daily Roshni News

اندھیروں سے روشنی تک

اندھیروں سے روشنی تک

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ تحریر انسان کے اُس سفر کی کہانی ہے جو اندھیروں سے روشنی تک، گمراہی سے ہدایت تک، اور بے قراری سے سکون تک جاتا ہے۔ یہ کوئی عام راستہ نہیں… یہ وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے دل ٹوٹتے ہیں، آنکھیں بھیگتی ہیں، اور روح اپنے رب کو پکار پکار کر تھک جاتی ہے… مگر پھر کہیں جا کر روشنی کی ایک کرن نظر آتی ہے۔

ہدایت…

یہ لفظ چھوٹا ہے، مگر اس کے اندر پوری کائنات کی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ ہدایت صرف راستہ دکھانے کا نام نہیں، بلکہ دل کے اندر وہ چراغ جلانے کا نام ہے جو انسان کو سچ اور جھوٹ، حق اور باطل، اور نور اور ظلمت کے درمیان فرق سکھاتا ہے۔

کتنے لوگ ہیں جو راستہ دیکھتے ہیں… مگر چل نہیں پاتے۔

کتنے ہیں جو چلتے ہیں… مگر پہنچ نہیں پاتے۔

اور کتنے ہیں جو پہنچ جاتے ہیں… مگر پھر واپس لوٹ جاتے ہیں۔

ہدایت اُن لوگوں کو ملتی ہے… جو ٹوٹ جاتے ہیں۔

جو اپنے اندر کے غرور کو دفن کر دیتے ہیں۔

جو اپنے رب کے سامنے جھکنے میں عزت محسوس کرتے ہیں، نہ کہ ذلت۔

یہ پہلا مرحلہ ہے…

انسان کا اپنے آپ سے ہار جانا۔

جب انسان اپنے علم، اپنی عقل، اپنی سمجھ پر فخر کرتا ہے… تو دراصل وہ اپنے رب سے دور ہوتا جاتا ہے۔ مگر جب وہ ایک دن تھک کر بیٹھ جاتا ہے… اور کہتا ہے:

“یا اللہ… میں نہیں جانتا… تو ہی جانتا ہے… مجھے راستہ دکھا دے…”

تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے… جب ہدایت کا دروازہ کھلتا ہے۔

ہدایت کسی کتاب میں بند نہیں ہوتی…

ہدایت کسی تقریر میں قید نہیں ہوتی…

ہدایت کسی انسان کے قبضے میں نہیں ہوتی…

ہدایت صرف اللہ کے پاس ہوتی ہے… اور وہ اُسے دیتا ہے… جسے وہ چاہتا ہے… مگر وہ چاہتا بھی اُسی کو ہے… جو اُسے چاہتا ہے۔

یہاں سے سفر شروع ہوتا ہے… دل کی زمین پر پہلی بار بارش ہوتی ہے… آنکھوں میں ندامت کے آنسو آتے ہیں… اور انسان اپنے ماضی کو یاد کر کے لرز جاتا ہے…

وہ راتیں… جو غفلت میں گزریں… وہ لمحے… جو گناہوں میں ڈوبے رہے… وہ فیصلے… جو نفس کی خواہش پر کیے گئے… سب کچھ ایک فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے… اور انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے… مگر یہی ٹوٹنا… ہدایت کی پہلی نشانی ہے۔ جو نہیں ٹوٹتا… وہ نہیں جڑتا۔ جو نہیں روتا… وہ نہیں پاتا۔ جو نہیں جھکتا… وہ نہیں اٹھایا جاتا۔ ہدایت کا راستہ آنسوؤں سے شروع ہوتا ہے…

یہاں انسان کو اپنی کمزوری کا احساس ہوتا ہے… یہاں اسے اپنے رب کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے… یہاں اسے سمجھ آتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں… اور اس کا رب سب کچھ ہے… اور یہی احساس… اسے اگلے مرحلے کی طرف لے جاتا ہے… اور یہی احساس… اسے اگلے مرحلے کی طرف لے جاتا ہے…

مگر اس سے پہلے… ایک ایسی رات آتی ہے… جس میں انسان خود سے بھاگ نہیں سکتا… وہ رات… جب سب سو جاتے ہیں… جب دنیا کی آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں… جب موبائل کی سکرین بھی بجھ جاتی ہے… اور انسان… اکیلا رہ جاتا ہے… اپنے آپ کے ساتھ… اپنے گناہوں کے ساتھ… اپنے رب کے ساتھ…

یہ وہ لمحہ ہوتا ہے… جہاں ہدایت کا دروازہ کھلتا بھی ہے… اور بند بھی ہو سکتا ہے…

اگر انسان اس لمحے کو ignore کر دے… اپنے دل کی آواز کو دبا دے… اپنے ضمیر کو خاموش کر دے… تو پھر وہی اندھیرا… اور بھی گہرا ہو جاتا ہے…

مگر اگر وہ رک جائے… اگر وہ بیٹھ جائے… اگر وہ اپنی آنکھوں کو بہنے دے… تو پھر…

آسمان کھلنے لگتا ہے…وہ پہلی سچی دعا نکلتی ہے… “یا اللہ… میں تھک گیا ہوں…”

یہ الفاظ… سادہ ہوتے ہیں… مگر ان کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا دل ہوتا ہے… اور اللہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو کبھی رد نہیں کرتا… یہاں سے ہدایت دل میں اترتی ہے…

آہستہ آہستہ… بغیر شور کے… بغیر اعلان کے… جیسے رات کے اندھیرے میں… فجر کی روشنی آتی ہے… پہلے ہلکی سی روشنی… پھر تھوڑا سا اجالا… پھر آہستہ آہستہ… پورا آسمان روشن… ایسے ہی ہدایت بھی آتی ہے… پہلے ایک خیال… پھر ایک احساس…

پھر ایک فیصلہ… اور پھر… ایک نئی زندگی… مگر یہاں ایک بہت بڑی آزمائش شروع ہوتی ہے… کیونکہ ہدایت مل جانا… آسان نہیں ہوتا… اور اسے سنبھال کر رکھنا… اس سے بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے…

یہ وہ مقام ہے جہاں بہت سے لوگ گر جاتے ہیں… وہ روتے تو ہیں… مگر بدلتے نہیں… وہ سمجھتے تو ہیں… مگر چھوڑتے نہیں… وہ مانتے تو ہیں… مگر جھکتے نہیں… اور یہی فرق ہے… ہدایت سننے والوں اور ہدایت پانے والوں میں… ہدایت صرف سن لینے کا نام نہیں… ہدایت بدل جانے کا نام ہے… یہاں انسان کو اپنے نفس کے خلاف جنگ لڑنی پڑتی ہے… وہ نفس… جو سالوں سے اسے گناہوں کی طرف لے جاتا رہا…

وہ نفس… جو ہر بار کہتا تھا: “کچھ نہیں ہوتا… کر لے…” اب وہی نفس… ہدایت کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے…

وہ کہتا ہے: “اتنا بھی کیا بدلنا؟” “آہستہ آہستہ دیکھیں گے…” “ابھی وقت ہے…” اور یہی وہ فریب ہے… جس میں انسان دوبارہ گر جاتا ہے… مگر جو سچا ہوتا ہے… وہ یہاں بھی رکتا نہیں…

وہ اپنے آپ کو مجبور کرتا ہے… نماز کے لیے… سچ کے لیے… حق کے لیے… وہ اپنے دل کو سمجھاتا ہے… “اگر آج نہیں بدلا… تو کبھی نہیں بدلوں گا…” اور یہی جملہ… اسے آگے لے جاتا ہے… یہاں ہدایت گہری ہونے لگتی ہے… اب وہ صرف جذبات نہیں رہتی… اب وہ ایک commitment بن جاتی ہے…

ایک عہد…

اپنے رب کے ساتھ… مگر یہ راستہ سیدھا نہیں ہوتا… اس میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں… کبھی انسان بہت قریب محسوس کرتا ہے… کبھی بہت دور… کبھی دل نرم ہو جاتا ہے… کبھی سخت… کبھی آنکھیں خود بہتی ہیں… کبھی ایک آنسو بھی نہیں نکلتا… اور یہی وہ مرحلہ ہے… جہاں صبر کی ضرورت ہوتی ہے… کیونکہ ہدایت کا سفر… ایک دن کا نہیں… یہ پوری زندگی کا سفر ہے… یہاں انسان کو یہ سیکھنا پڑتا ہے… کہ جذبات سے زیادہ… consistency ضروری ہے…

کہ صرف رونا کافی نہیں… عمل بھی ضروری ہے… کہ صرف سمجھ لینا کافی نہیں… بدلنا بھی ضروری ہے… اور جب انسان اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے… تو وہ اگلے دروازے کے قریب پہنچ جاتا ہے… وہ دروازہ… جس کا نام ہے:

“رشد”

مگر رشد تک پہنچنے سے پہلے… ایک اور امتحان آتا ہے… یہ امتحان باہر کا نہیں… یہ اندر کا ہوتا ہے… یہاں انسان کو اپنے دل کے اندر چھپے ہوئے بت توڑنے پڑتے ہیں… وہ بت… جو نظر نہیں آتے… غرور… ریاکاری… لوگوں کی تعریف کی خواہش… یہ سب ایسے زہر ہیں… جو ہدایت کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتے ہیں… اگر انسان ان کو نہ پہچانے… تو وہ باہر سے نیک… اور اندر سے خالی ہو جاتا ہے… اور یہی سب سے خطرناک حالت ہے… کیونکہ یہاں انسان خود کو صحیح سمجھ رہا ہوتا ہے… مگر وہ غلطی پر ہوتا ہے… یہاں اللہ اپنے بندے کو چھوڑتا نہیں… وہ اسے جھٹکے دیتا ہے…

کبھی کسی بات سے دل توڑ دیتا ہے… کبھی کسی انسان کے ذریعے اسے آئینہ دکھاتا ہے…

تاکہ وہ جاگ جائے… تاکہ وہ سمجھ جائے… کہ ہدایت صرف ظاہری تبدیلی کا نام نہیں… یہ اندر کی صفائی کا نام ہے… یہ نیت کی درستگی کا نام ہے… یہ دل کے خالص ہونے کا نام ہے… اور جب انسان اس مرحلے سے گزر جاتا ہے… تو اس کی ہدایت… مضبوط ہو جاتی ہے… اب وہ آسانی سے نہیں ڈگمگاتا… اب وہ لوگوں کے کہنے سے نہیں بدلتا… اب وہ تنہائی میں بھی ویسا ہی ہوتا ہے… جیسا لوگوں کے سامنے… اور یہی وہ مقام ہے… جہاں ہدایت… روشنی بن جاتی ہے… ایسی روشنی… جو صرف راستہ نہیں دکھاتی… بلکہ انسان کو خود بھی روشنی بنا دیتی ہے… اور پھر… وہی انسان… جو کبھی اندھیروں میں بھٹک رہا تھا… اب دوسروں کے لیے راستہ بن جاتا ہے… مگر سفر ابھی ختم نہیں ہوا…

یہ تو صرف آغاز ہے… کیونکہ ہدایت کے بعد… رشد آتی ہے… اور رشد کے بعد…

تقویٰ…

اور ہر اگلا مرحلہ… پچھلے سے زیادہ مشکل… اور زیادہ خوبصورت ہوتا ہے… یہی وہ راستہ ہے… جو جنت تک جاتا ہے… مگر اس راستے پر چلنے والے… بہت کم ہوتے ہیں… اور جو چلتے ہیں… وہ روتے ہوئے چلتے ہیں… ٹوٹتے ہوئے چلتے ہیں… مگر رکتے نہیں… کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے… کہ آخر میں… ان کا رب… ان کا انتظار کر رہا ہے…

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رشد…

یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ہدایت صرف روشنی نہیں رہتی… بلکہ راستہ بن جاتی ہے…

ہدایت نے انسان کو جگایا تھا… مگر رشد اسے سنبھالتا ہے… ہدایت نے اسے رُلایا تھا… مگر رشد اسے کھڑا کرتا ہے… ہدایت نے اسے بتایا تھا کہ وہ گمراہ تھا… مگر رشد اسے سکھاتا ہے کہ اب کیسے جینا ہے… یہاں سے اصل امتحان شروع ہوتا ہے… کیونکہ ہدایت ایک چنگاری تھی… مگر رشد ایک مسلسل آگ ہے… ایسی آگ… جو جلتی بھی ہے… اور پاک بھی کرتی ہے…

یہاں انسان کو صرف اپنے گناہوں سے نہیں… بلکہ اپنی کمزوریوں سے بھی لڑنا پڑتا ہے… وہ کمزوریاں… جو اسے بار بار پیچھے کھینچتی ہیں… وہ عادتیں… جو سالوں سے اس کے اندر جمی ہوئی ہیں… وہ سوچیں… جو اس کے ذہن میں بیٹھ چکی ہیں… یہ سب کچھ… اب اس کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے… اور کہتا ہے:

“تم بدل نہیں سکتے…” مگر رشد کہتا ہے: “بدلنا ہی پڑے گا…” یہ جنگ خاموش ہوتی ہے… مگر بہت خطرناک ہوتی ہے… یہ باہر کی جنگ نہیں… یہ اندر کی جنگ ہے… اور اس جنگ میں… انسان اکیلا ہوتا ہے… کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا… کوئی نہیں سن رہا ہوتا… صرف وہ… اور اس کا رب… یہاں نیتوں کا امتحان ہوتا ہے… کیا وہ واقعی بدلنا چاہتا ہے؟ یا صرف وقتی جذبات میں بہہ گیا تھا؟ کیا وہ واقعی اللہ کے لیے جی رہا ہے؟ یا لوگوں کو دکھانے کے لیے؟

یہ سوالات… انسان کو اندر سے ہلا دیتے ہیں… اور یہی ہلچل… رشد کی بنیاد بنتی ہے…

رشد کا پہلا درجہ…      “ثبات” ہے…

استقامت…

وہ چیز… جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے… کیونکہ شروع میں بدلنا آسان ہوتا ہے… مگر بدل کر قائم رہنا… یہ اصل کمال ہے… یہاں بہت سے لوگ تھک جاتے ہیں… وہ کہتے ہیں: “ہم نے کوشش کی تھی…” “ہم بدلنا چاہتے تھے…” مگر وہ رک جاتے ہیں… اور یہی رک جانا… سب کچھ ختم کر دیتا ہے… مگر جو سچے ہوتے ہیں… وہ رکتے نہیں… چاہے وہ گر جائیں… چاہے وہ ٹوٹ جائیں… وہ پھر اٹھتے ہیں… پھر چلتے ہیں… پھر اپنے رب کو پکارتے ہیں… اور یہی بار بار اٹھنا… انہیں مضبوط بنا دیتا ہے…

یہاں انسان کو یہ سمجھ آتا ہے… کہ کامل ہونا ضروری نہیں… مگر سچا ہونا ضروری ہے… کہ گرنا گناہ نہیں… مگر گر کر پڑے رہنا… یہ خطرناک ہے… یہاں دل نرم رہتا ہے… اور یہی نرمی… انسان کو اللہ کے قریب رکھتی ہے… مگر جیسے جیسے انسان آگے بڑھتا ہے… ایک نیا خطرہ سامنے آتا ہے… “غرورِ نیکی”… یہ وہ زہر ہے… جو بہت خاموشی سے انسان کے اندر داخل ہوتا ہے… وہ سوچنے لگتا ہے: “میں بدل گیا ہوں…”

“میں پہلے جیسا نہیں رہا…” اور یہی سوچ… اسے آہستہ آہستہ گرا دیتی ہے… کیونکہ جب انسان خود کو کچھ سمجھنے لگتا ہے… تو وہ اپنے رب کو بھولنے لگتا ہے…

رشد یہاں انسان کو جھکاتا ہے… بار بار… تاکہ وہ یاد رکھے… کہ وہ کچھ بھی نہیں… اور جو کچھ ہے… وہ سب اللہ کا ہے… یہاں انسان کو ایسے حالات سے گزارا جاتا ہے… جہاں اس کی ساری نیکی… آزمائش میں ڈال دی جاتی ہے… کبھی لوگ اسے سمجھتے نہیں… کبھی اس کا مذاق اڑاتے ہیں… کبھی اسے تنہا چھوڑ دیتے ہیں… اور یہی تنہائی… اس کے ایمان کو خالص کرتی ہے… کیونکہ اب وہ لوگوں کے لیے نہیں… صرف اللہ کے لیے جیتا ہے… یہاں سے رشد گہرا ہوتا ہے… اب وہ صرف عمل نہیں… بلکہ شعور بن جاتا ہے… ایک ایسی سمجھ… جو ہر قدم پر انسان کو guide کرتی ہے… وہ جانتا ہے کہ کیا صحیح ہے… اور کیا غلط…

اور سب سے بڑھ کر… وہ یہ جانتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے… یہاں انسان کے فیصلے بدل جاتے ہیں… وہ اب دنیا کو دیکھ کر فیصلے نہیں کرتا… وہ اپنے رب کو دیکھ کر فیصلے کرتا ہے… یہاں دل مضبوط ہوتا ہے… مگر نرم بھی رہتا ہے… یہاں آنکھیں کم روتی ہیں… مگر جب روتی ہیں… تو بہت گہرا روتی ہیں… یہاں دعائیں بدل جاتی ہیں… پہلے وہ مانگتا تھا: “یا اللہ… مجھے دے دے…” اب وہ کہتا ہے: “یا اللہ… مجھے صحیح بنا دے…” یہاں خواہشات بدل جاتی ہیں… پہلے وہ دنیا چاہتا تھا… اب وہ اللہ چاہتا ہے… اور یہی تبدیلی… رشد کی پہچان ہے… مگر سفر ابھی باقی ہے… کیونکہ رشد کے بعد… سب سے بڑا مقام آتا ہے… “تقویٰ”…

اور تقویٰ تک پہنچنے کے لیے… انسان کو اپنے دل کو مکمل صاف کرنا پڑتا ہے… ہر وہ چیز نکالنی پڑتی ہے… جو اللہ کے علاوہ ہے… اور یہی سب سے مشکل کام ہے… کیونکہ دنیا… دل میں بہت گہرائی تک بیٹھی ہوتی ہے… مگر جو سچا ہوتا ہے… وہ یہ بھی کر جاتا ہے… وہ اپنے دل کو خالی کرتا ہے… تاکہ اس میں صرف اللہ رہ جائے… اور یہی… اصل کامیابی ہے… مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی… اب شروع ہوتا ہے… وہ درد… جس کا کوئی شور نہیں ہوتا…

وہ خاموش درد… جو انسان کے سینے میں اتر کر بیٹھ جاتا ہے… وہ درد… جو چیختا نہیں… مگر توڑ دیتا ہے… یہی ہے… رشد کا اصل چہرہ… یہاں انسان ہنس بھی رہا ہوتا ہے… مگر اندر سے بکھر رہا ہوتا ہے… وہ لوگوں کے درمیان ہوتا ہے… مگر خود کو اکیلا محسوس کرتا ہے… کیونکہ اب اس کا دل بدل چکا ہوتا ہے… اب اسے وہ چیزیں خوش نہیں کرتیں… جو پہلے کرتی تھیں…

اب اسے وہ محفلیں اچھی نہیں لگتیں… جو پہلے پسند تھیں… اب اسے وہ باتیں چبھتی ہیں… جن پر پہلے وہ ہنستا تھا… یہ تبدیلی… آسان نہیں ہوتی… یہ اندر ایک خلا پیدا کرتی ہے… اور یہی خلا… انسان کو اللہ کی طرف دھکیلتا ہے… وہ سجدے میں جاتا ہے… مگر اس بار اس کے الفاظ مختلف ہوتے ہیں… وہ کچھ مانگتا نہیں… بس روتا ہے… خاموشی سے… آنسو بہتے ہیں… اور دل کہتا ہے: “یا اللہ… مجھے خود سے بچا لے…”

یہ وہ دعا ہے… جو بہت کم لوگ کرتے ہیں… کیونکہ سب دنیا سے بچنا چاہتے ہیں… مگر جو سچا ہوتا ہے… وہ اپنے نفس سے ڈرتا ہے… اور یہی خوف… اسے آگے لے جاتا ہے… یہاں انسان کو بار بار آزمایا جاتا ہے… ایسے لمحوں میں… جہاں کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا… جہاں گناہ آسان ہوتا ہے… اور نیکی مشکل… یہاں فیصلہ ہوتا ہے… کہ وہ واقعی بدل چکا ہے… یا نہیں… کبھی وہ جیت جاتا ہے… اور اس کا دل خوشی سے بھر جاتا ہے… اور کبھی وہ ہار جاتا ہے… اور اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے… مگر اس بار فرق ہوتا ہے… پہلے وہ گناہ کر کے ہنستا تھا… اب وہ گناہ کر کے روتا ہے… اور یہی آنسو… اسے واپس لے آتے ہیں… یہی آنسو… اسے بچا لیتے ہیں…

یہاں رشد… انسان کو سکھاتا ہے… کہ اللہ سے دوری… سب سے بڑا عذاب ہے… اور قرب… سب سے بڑی نعمت… وہ اب ہر چیز کو اسی پیمانے پر دیکھتا ہے… جو چیز اللہ کے قریب لے جائے… وہ اچھی… اور جو دور کرے… وہ بری… یہاں زندگی سادہ ہو جاتی ہے… مگر دل… گہرا ہو جاتا ہے… یہاں خواہشات کم ہو جاتی ہیں… مگر تڑپ بڑھ جاتی ہے… یہاں سکون آتا ہے… مگر آنسو بھی ساتھ آتے ہیں… یہ عجیب کیفیت ہوتی ہے… ایک طرف سکون… دوسری طرف درد… اور یہی دونوں مل کر… انسان کو اللہ کے قریب لے جاتے ہیں… یہاں وہ سمجھتا ہے… کہ یہ دنیا… ٹھہرنے کی جگہ نہیں… یہ ایک راستہ ہے… اور وہ مسافر ہے… اور اس کا گھر… کہیں اور ہے… یہ احساس… اس کے دل کو نرم رکھتا ہے… اور اس کے قدموں کو مضبوط…

مگر پھر… ایک اور امتحان آتا ہے… ایسا امتحان… جو بہت کم لوگ برداشت کر پاتے  ہیں… “قبولیت کی تاخیر”… وہ دعا کرتا ہے… راتوں کو جاگتا ہے… آنسو بہاتا ہے… مگر… جو وہ مانگ رہا ہوتا ہے… وہ نہیں ملتا… یہاں دل ٹوٹتا ہے… یہاں سوال اٹھتے ہیں… “یا اللہ… کیا تو سن نہیں رہا؟” “یا اللہ… کیا میں قابل نہیں؟” مگر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے… جہاں رشد… اپنے عروج پر ہوتا ہے… کیونکہ یہاں انسان کو یہ سیکھنا پڑتا ہے… کہ اللہ… صرف دینے والا نہیں… وہ آزمانے والا بھی ہے… اور کبھی کبھی… نہ دینا… سب سے بڑی عطا ہوتی ہے… یہاں انسان کا دل…ٹوٹ کر مکمل طور پر جھک جاتا ہے… اب وہ شرطیں نہیں رکھتا…

اب وہ کہتا ہے: “یا اللہ… جو تو چاہے… وہی بہتر ہے…” اور یہی جملہ… اسے اگلے درجے کے قریب لے جاتا ہے… یہاں رشد… تقویٰ کے دروازے پر لے آتا ہے… مگر دروازہ ابھی کھلتا نہیں… کیونکہ ابھی دل میں… کچھ باقی ہوتا ہے… کچھ لگاؤ… کچھ خواہشات… کچھ انا… اور جب تک یہ باقی ہیں… دروازہ نہیں کھلتا… تو پھر… اللہ اپنے بندے کو… آخری بار توڑتا ہے… ایسا توڑتا ہے… کہ وہ خود کو پہچان نہیں پاتا… اس کی پلاننگ… ٹوٹ جاتی ہے… اس کی امیدیں… بکھر جاتی ہیں… اس کے سہارے… چھن جاتے ہیں… اور وہ… بالکل خالی ہو جاتا ہے… یہی وہ لمحہ ہوتا ہے… جہاں سے… اصل زندگی شروع ہوتی ہے… کیونکہ اب اس کے پاس کچھ نہیں بچا ہوتا… سوائے اللہ کے… اور جب انسان کے پاس صرف اللہ رہ جائے… تو پھر…

وہ کبھی خالی نہیں رہتا… یہاں آنسو رک جاتے ہیں… اور ایک عجیب سکون آتا ہے… ایسا سکون… جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا… یہاں دل کہتا ہے: “یا اللہ… اب میں تیار ہوں…” اور یہی وہ لمحہ ہے… جہاں دروازہ کھلتا ہے… تقویٰ کا دروازہ…

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تقویٰ…

یہ لفظ نہیں… یہ ایک کیفیت ہے… یہ کوئی عمل نہیں… یہ ایک حالت ہے… یہ کوئی مرحلہ نہیں… یہ ایک عروج ہے… وہ عروج… جہاں انسان خود کو نہیں دیکھتا… وہ صرف اپنے رب کو دیکھتا ہے… ہدایت نے اسے جگایا تھا… رشد نے اسے سنبھالا تھا… مگر تقویٰ… اسے فنا کر دیتا ہے… اپنے نفس سے… اپنی خواہشات سے… اپنی انا سے… یہاں آ کر انسان… وہ نہیں رہتا… جو پہلے تھا… وہ بدل چکا ہوتا ہے… اندر سے… مکمل طور پر… یہاں دل میں ایک مسلسل احساس ہوتا ہے…

کہ اللہ دیکھ رہا ہے… ہر لمحہ… ہر خیال… ہر نیت… یہ احساس… انسان کو پاک رکھتا ہے… یہ اسے گناہ سے روکتا ہے… یہ اسے جھکنے پر مجبور کرتا ہے… مگر یہ خوف… ویسا نہیں ہوتا… جیسا دنیا کا خوف ہوتا ہے… یہ محبت بھرا خوف ہوتا ہے… وہ خوف… جس میں انسان ڈرتا بھی ہے… اور کھنچتا بھی ہے… وہ بھاگتا بھی ہے… اور لپٹتا بھی ہے… یہ عجیب تعلق ہوتا ہے… بندے اور رب کے درمیان… یہاں عبادت بدل جاتی ہے… اب وہ فرض نہیں لگتی… اب وہ بوجھ نہیں لگتی… اب وہ سکون بن جاتی ہے…

نماز… اب ایک عادت نہیں رہتی… یہ ایک ملاقات بن جاتی ہے… ایک رازدار لمحہ… جہاں بندہ… اپنے رب سے بات کرتا ہے… بغیر کسی واسطے کے… یہاں سجدہ… زمین پر گرنا نہیں ہوتا… یہ آسمان تک اٹھنا ہوتا ہے… یہاں آنسو… کم ہو جاتے ہیں… مگر دل…  ہمیشہ بھیگا رہتا ہے… یہاں انسان خاموش ہو جاتا ہے… کیونکہ اسے سمجھ آ جاتا ہے… کہ اصل باتیں… الفاظ سے نہیں ہوتیں… دل سے ہوتی ہیں… یہاں نیتیں خالص ہو جاتی ہیں…

وہ کچھ بھی کرتا ہے… صرف اللہ کے لیے کرتا ہے… لوگ دیکھیں یا نہ دیکھیں… اسے فرق نہیں پڑتا… کیونکہ اسے معلوم ہے… کہ جس کے لیے وہ کر رہا ہے… وہ دیکھ رہا ہے… یہاں دنیا کی حقیقت کھل جاتی ہے… وہ اب اسے دھوکہ نہیں دے سکتی… وہ جانتا ہے… کہ سب کچھ عارضی ہے… سب کچھ ختم ہو جانا ہے… مگر جو اللہ کے لیے کیا جائے… وہ باقی رہتا ہے… یہاں انسان کے فیصلے بدل جاتے ہیں… وہ آسان راستہ نہیں چنتا… وہ صحیح راستہ چنتا ہے… چاہے وہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو… یہاں دل مضبوط ہوتا ہے… مگر سخت نہیں ہوتا… وہ نرم رہتا ہے… رحم کرتا ہے… معاف کرتا ہے… کیونکہ اسے یاد ہوتا ہے… کہ اللہ نے اسے معاف کیا تھا…

یہاں انسان دوسروں کے لیے آسانی بن جاتا ہے… وہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا… وہ کسی کا حق نہیں مارتا… وہ کسی کے دل کو نہیں توڑتا… کیونکہ وہ جانتا ہے… کہ دل… اللہ کا گھر ہے… یہاں زبان بدل جاتی ہے… وہ جھوٹ نہیں بولتا… وہ غیبت نہیں کرتا… وہ فضول باتیں نہیں کرتا… کیونکہ اسے معلوم ہے… کہ ہر لفظ لکھا جا رہا ہے… یہاں نگاہ بدل جاتی ہے… وہ حرام سے بچتی ہے… وہ پاک رہتی ہے…

کیونکہ اسے معلوم ہے… کہ ایک نظر… دل کو گندا کر سکتی ہے… یہاں دل کا سکون… کسی چیز سے نہیں جڑتا… سوائے اللہ کے… اور یہی اصل آزادی ہے… کیونکہ اب انسان… کسی کا غلام نہیں رہتا… نہ خواہشات کا… نہ لوگوں کا… نہ دنیا کا… وہ صرف اللہ کا بندہ بن جاتا ہے… اور یہی سب سے بڑی عزت ہے… مگر یہ مقام… آسانی سے نہیں ملتا… یہ قربانی مانگتا ہے… بہت بڑی قربانی… انسان کو چھوڑنا پڑتا ہے… وہ سب کچھ… جو اسے اللہ سے دور کرتا ہے… کبھی دوست… کبھی عادتیں… کبھی خواہشات… اور کبھی… خود کو… یہاں انسان واقعی… اپنے آپ کو قربان کرتا ہے… اور جب وہ ایسا کرتا ہے… تو اللہ… اسے اپنا بنا لیتا ہے… یہاں ایک عجیب سکون آتا ہے…

ایسا سکون… جو کسی بھی چیز سے نہیں مل سکتا… یہ سکون… اللہ کے قریب ہونے کا سکون ہے… یہاں دل مطمئن ہو جاتا ہے… چاہے حالات کیسے بھی ہوں… چاہے دنیا ٹوٹ جائے… مگر وہ نہیں ٹوٹتا… کیونکہ اس کا سہارا… مضبوط ہے… یہاں دعا بدل جاتی ہے… اب وہ دنیا نہیں مانگتا… وہ اللہ مانگتا ہے… وہ کہتا ہے: “یا اللہ… مجھے اپنا بنا لے…” اور یہی… سب سے بڑی دعا ہے… یہاں انسان کو جنت کی خوشبو آتی ہے… وہ اسے دیکھ نہیں سکتا… مگر محسوس کرتا ہے… اپنے دل میں… اپنی روح میں… یہی تقویٰ ہے… یہی عروج ہے… یہی کامیابی ہے… مگر… یہاں بھی سفر ختم نہیں ہوتا… کیونکہ جب تک سانس ہے… امتحان ہے… اور تقویٰ… ہر لمحہ مانگتا ہے… ہر لمحہ… محافظی… ہر لمحہ… دعا… ہر لمحہ… جھکاؤ… اور جو اس کو سنبھال لیتا ہے… وہ کامیاب ہو جاتا ہے… ہمیشہ کے لیے… مگر یہ “ہمیشہ” بھی ایک امتحان ہے…

کیونکہ تقویٰ کوئی سرٹیفیکیٹ نہیں… کہ ایک بار مل گیا تو ختم… یہ ایک سانس کی طرح ہے… اگر ایک لمحہ بھی غفلت ہوئی… تو یہ کمزور ہو جاتا ہے… اسی لیے… اہلِ تقویٰ ہمیشہ ڈرتے ہیں… وہ اپنی نیکیوں پر خوش نہیں ہوتے… وہ اپنے مقام پر مطمئن نہیں ہوتے… وہ ہمیشہ کہتے ہیں: “یا اللہ… ہمیں ثابت قدم رکھ…” کیونکہ وہ جانتے ہیں… کہ گرنا… اب بھی ممکن ہے… اور یہی خوف… انہیں محفوظ رکھتا ہے… یہاں ایک اور راز کھلتا ہے… تقویٰ… صرف گناہوں سے بچنے کا نام نہیں… یہ ہر اُس چیز سے بچنے کا نام ہے… جو اللہ سے دور کرے… چاہے وہ حلال ہی کیوں نہ ہو… یہاں انسان اپنی زندگی کو filter کرتا ہے… ہر چیز کو دیکھتا ہے… اور خود سے پوچھتا ہے:

“کیا یہ مجھے اللہ کے قریب لے جا رہی ہے؟” اگر ہاں… تو وہ اسے پکڑ لیتا ہے… اگر نہیں… تو چھوڑ دیتا ہے… چاہے دل کتنا ہی کیوں نہ چاہے… یہاں اصل قربانی ہوتی ہے… یہاں نفس چیختا ہے… مگر بندہ… خاموشی سے اسے مار دیتا ہے… اور یہی خاموش قتل… اسے زندہ کر دیتا ہے… یہاں دل میں ایک نور پیدا ہوتا ہے… ایسا نور… جو چہرے پر بھی نظر آتا ہے… باتوں میں بھی… نگاہ میں بھی… اور خاموشی میں بھی… لوگ سمجھ نہیں پاتے… مگر محسوس کرتے ہیں… کہ اس انسان میں کچھ ہے… کوئی سچائی… کوئی پاکیزگی… اور یہی تقویٰ کی خوشبو ہے… یہاں انسان لوگوں کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتا… وہ خود بدل جاتا ہے… اور اس کی تبدیلی… دوسروں کے دلوں پر اثر ڈالتی ہے… یہاں وہ بحث نہیں کرتا… وہ دلیل نہیں دیتا… وہ بس… زندگی جیتا ہے… ایسی زندگی… جو خود دلیل بن جاتی ہے… یہاں محبت بدل جاتی ہے… وہ لوگوں سے محبت کرتا ہے… مگر اللہ کے لیے… وہ نفرت بھی کرتا ہے… مگر اللہ کے لیے… وہ دیتا ہے… مگر اللہ کے لیے… وہ روکتا ہے… مگر اللہ کے لیے… یہاں سب کچھ… اللہ کے گرد گھومتا ہے…

یہی مرکز ہے… یہی محور ہے… یہی حقیقت ہے… اور جب انسان یہاں پہنچ جاتا ہے… تو اس کے اندر ایک عجیب سکون پیدا ہوتا ہے… وہ بھاگنا چھوڑ دیتا ہے… وہ رک جاتا ہے… اور کہتا ہے: “میں پہنچ گیا ہوں…” مگر حقیقت یہ ہے… کہ وہ ابھی بھی راستے میں ہے… کیونکہ اللہ تک پہنچنا… کبھی مکمل نہیں ہوتا… یہ ایک endless سفر ہے… مگر یہی سفر… اصل جنت ہے…

یہاں بندہ… اللہ کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے… ہر لمحہ… ہر سانس… ہر قدم… یہاں وہ اکیلا نہیں ہوتا… کبھی بھی نہیں… کیونکہ وہ جانتا ہے… کہ اس کا رب… اس کے ساتھ ہے… اور یہی احساس… اسے ناقابلِ شکست بنا دیتا ہے… دنیا اسے توڑ نہیں سکتی… لوگ اسے گرا نہیں سکتے… حالات اسے بدل نہیں سکتے… کیونکہ وہ اب… اللہ سے جڑا ہوا ہے… اور جو اللہ سے جڑ جائے… اسے کوئی نہیں توڑ سکتا… یہی تقویٰ ہے… یہی عروج ہے… یہی وہ مقام ہے… جہاں بندہ… بندہ نہیں رہتا… وہ اللہ کا ہو جاتا ہے… مکمل طور پر… بغیر کسی شرط کے… بغیر کسی خوف کے… بغیر کسی شک کے… اور یہی… اصل کامیابی ہے… اگر تم یہاں تک پہنچ جاؤ… تو سمجھ لو… کہ تم نے زندگی جیت لی… اور اگر نہیں… تو ابھی وقت ہے… ابھی سانس ہے… ابھی موقع ہے… پلٹ آؤ… اپنے رب کی طرف… وہ تمہارا انتظار کر رہا ہے… ہمیشہ سے… اور ہمیشہ کرے گا…

Loading